بموقع عرس مسعودی؛ خانقاہ عالیہ چشتیہ مسعودیہ کا مختصر تعارف۔
بموقع عرس مسعودی؛ خانقاہ عالیہ چشتیہ مسعودیہ کا مختصر تعارف۔
بسم الله الرحمن الرحيم .
الحمد لاهله والصلوة والسلام على اهلها۔
حضور مسعود العالم، داتا گنج شفا بخش سرکار میر میراں عطائے شیر یزدانی حضرت سیدنا خواجہ میر سید مسعود ہمدانی البہدانی رحمۃ اللہ علیہ آپ کا شجرۂ نسب امام جعفر صادق علیہ السلام کی وساطت سے حضور نبی کریم ﷺ وآلہ تک پہنچتا ہے، آپ حسینی سادات سے ہیں، آپ کی ولادت و وفات کا عرصہ تاریخی شواہد کی بنیاد پر تقریباً 600 هجری سے 700 هجری تک محیط ہے ، آپ کے تبرکات و متعلقات ایک شورش کا حصہ ہوکر تاریخ کے دبیز پردے میں روپوش ہوگئے ،
نسخہ قلمی بحر ذخار (فارسی) تالیفی دور تقريبا 1200 هجری مؤلف" حضرت مولانا وجیہ الدین لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ ( جلد اول صفحہ 616 بحر ذخار ،
جدید مطبوعہ صفحہ 286 )
آپ سیدنا خواجہ میر مسعود رحمہ اللہ بہت ہی با کمال بزرگ اور بابا فرید گنج شکر رحمہ اللہ کے خصوصی خلفاء اور سلسلۂ مسعودیہ کے اصل بانی ہیں ، سرکار بابا فرید گنج شکر بنفس نفیس اپنے مبارک قدم کے ساتھ قصبہ بھیاؤں تشریف لائے اور اس سرزمین کو برکتوں کا سر چشمہ بنادیا ، آج بھی آپ کی نشست کے مقام پر بطور نشان ایک کرسی رکھی ہوئی ہے ، دنوں میں ایک دن اس کرسی اور بابا حضور کے آستانہ کی زیارت حصول برکت کی خاطر قصبہ بھیاؤں کے رواج کے مطابق ضروری تصور کی جاتی ہے۔
حضرت میر مسعود رحمہ اللہ کا فیض جس طرح حیات ظاہری میں جاری تھا ہو بہو پردہ کر جانے کے بعد بھی جاری ہے ، اہل نظر وقتا فوقتا اس کا مشاہدہ کرتے رہتے ہیں ، آپ رحمہ اللہ کے خدام خلفاء اور تلامذہ ملک کی اکثر قدیم خانقاہوں کے بانی سلاسل اور جد اعلی گردانے جاتے ہیں۔
حضرت مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ، حضرت خواجہ میر مسعود ہمدانی رحمۃ اللہ علیہ جو قصبہ بھیاؤں شریف میں آرام فرما ہیں بڑے با تصرف اور با کمال بزرگ ہیں اور آپ اپنے یہاں کے حاضرین کو تاکیداً فرمایا کرتے تھے کہ اس بزرگ سرمست کی سمت سے آنے والا ہر فرد در میر مسعود پر حاضری دیتے ہوئے آئے اگر آنے والے کو اس بات کا علم ہو ، ورنہ میری ذات اس بارگاہ کے روگرداں سے بیزار ہے،
حضرت مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کی خانقاہ میں کئی روز تک قیام و چلہ کشی کی ، بعده طالب ہوکر فیوض میر مسعودی سے بحرہ ور ہوئے ، اور آپ مخدوم سمنانی رحمہ اللہ نے میر مسعود بہدانی رحمۃ اللہ علیہ کے اشارۂ روحانی سے کچھوچھہ مقدسہ کو اپنی آخری آرام گاه منتخب فرماکر سرزمین کچھوچھہ کو شرف امتیاز بخشا۔
یہی وجہ ہے کہ مشائخ کچھوچھہ آج بھی بھیاؤں شریف سے کافی عقیدت و احترام رکھتے ہیں۔
قصبہ بھیاؤں شریف ، کچھوچھہ مقدسہ سے تقریباً 15 کلو میٹر کے فاصلے پر پچھمی اتر کی طرف واقع ہے ، جہاں آپ رحمہ اللہ کا آستانہ مرجع خلائق ہے ، آپ کے آستانہ کے چاروں جہت میں بزرگان دین آرام فرما ہیں اور ہر بزرگان کا مرکزی دروازه آپ سرکار میر مسعود رحمہ الله کے روضۂ اقدس کی جانب کھلتا ہے اس طرح پر کہ شمال ) اثر ( کی طرف سرکار مخدوم کچھوچھہ قدس سره العزيز ، جنوب ) دکھن ) کی جانب حضرت نورشاه رحمۃ اللہ علیہ ، مشرق ) پورب ( کی اور حضرت یس شاہ نور اللہ مرقدہ اور مغرب ( پچھم ( کی سمت میں حضرت رمضان شاہ رحمہ الله ، گویا کہ تائید غیبی سے آپ کے آستانہ عالیہ کو ان تمام بارگاہان کی مرکزیت حاصل ہے اور ان بزرگان کا انداز عقیدت اور آپ سے روحانی تعلق بداہ سمجھا جا سکتا ہے درگاہ کچھوچھہ سے خصوصی سواریاں اور عرس کے موقع پر سواری والوں کی "میرا بابا" کی صدائیں بھیاؤں شریف کی طرف سفر کو اور بھی آسان بنا دیتی ہے۔
آپ کا عرس مبارک بنام عرس مسعودى بتاريخ 25/24/23 ماه محرم الحرام میں ہر سال بڑے تزک و احتشام کے ساتھ منایا جاتا ہے جس میں عوام و خواص کا ایک بڑا طبقہ ہند و بیرون ہند سے شریک ہو کر اپنی مراد برآری کرتا ہے۔
2026 میں تقریبات کی تفصیل کچھ اس طرح ہے
(جولائی 9, 10 ,11)
23_محرم الحرام پرچم کشائی ، اولیاء کانفرنس۔
24 _محرم الحرام غسل شریف ، قل شریف ، اور محفل سماع ۔
25 محرم الحرام محفل سماع ، ختم تقريبات۔
آپ کے خانوادہ کے ایک بزرگ شاعر نے کیا ہی خوب اپنی عقیدت کا اظہار کیا ہے،
پھرے وہ جذبہ صادق لئے شہر و بیاباں میں
رضائے حق سے پہنچے ہند از سلطنت بمدانی
لطائف کی ہوئی ترتیب حضرت ہی کے خیمہ میں
لیا ذخار سے مضمون کہ ہے مضمون لاثانی
تحریر چراغ مسعودی:
پروفیسر سید احمد رضا جعفری چشتی سجادہ نشیں خانقاہ عالیہ چشتیہ مسعودیہ بھیاؤں شریف امبیڈکر نگر، یو۔پی
لیکچرار اے ایس آئی کالج ، ساکی ناکہ ، ممبئی 72۔
صدر آل انڈیا سادات ویلفیئر ٹرسٹ مہاراشٹرا اسٹیٹ
Comments
Post a Comment