موجودہ عالمی حالات میں امت مسلمہ اپنے لیے مضبوط لائحہ عمل طے کرے - کاروان اسلام کو غلبہ اسلام کے لیے تیار کرنے میں خواتین کا مثالی کردار - جامعۃ البنات حیدرآباد میں جناب محمد رشاد رفعت کا خطاب
حیدرآباد۔20/جولائی(راست)ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس وقت امت مسلمہ عالمی سطح پر بھی اور ملکی سطح پر بھی سخت اور نازک حالات سے دو چار ہے۔چاہے وہ غزہ ہو، فلسطین ہو، شام ہو یا عرب ممالک۔ یا پھر ہم ہندوستان کے حالات دیکھ لیں ہر جگہ یہ امت مختلف مصائب اور آزمائشوں سے گھری ہوئی ہے۔ لیکن دوسری طرف اس سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہ امت اپنے مقصد وجود کو بھلا چکی ہیں مادیت کے پیچھے ہے۔ مفادات کے پیچھے ہے۔ دنیا طلبی اس کا مقصد ہے۔ وہ اس بات کو بھول چکی ہے کہ اللہ تعالی نے اس کو کس مقصد کے تحت یہاں بھیجا تھا اور کیا ذمہ داریاں اس پر عائد کی تھیں۔قرآن مجید کی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی نے ہمیں اس دنیا کے اندر شہادت حق کے لیے بھیجا ہے چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غلبہ اسلام و دین کی سربلندی کے لیے اپنی جان و مال کی قربانی کے ذریعے جدوجہد کی اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی اسی راستے پر لگا دیا۔لیکن آج امت مسلمہ نے اپنی زندگی کے تمام نشیب و فراز کو دنیا کے مقاصد کے حصول کے لیے لگا رکھا ہے۔ اس پر ہمیں اپنا اپنا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ ہم اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے میں کس قدر اور کتنے کامیاب ہیں؟ ان خیالات کا اظہار محترم جناب محمد رشاد رفعت صاحب مدیر ماہ نامہ”بندگی رب“ دہلی نے جامعۃ البنات حیدرآباد کی طالبات سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ قرآن و حدیث میں واضح طور پر بتا دیا گیا ہے کہ اصل زندگی آخرت ہے۔وہی ہمیشہ ہمیشہ رہنے والی زندگی ہے۔ دنیوی زندگی تو محض کھیل تماشہ اور ظاہری زیب و زینت کے سوا اور کچھ بھی نہیں۔ یہ محض دھوکے کا سامان ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ دنیا میں رہتے ہوئے آخرت کی تیاری کریں اور ہرگز اپنے رب سے غافل نہ ہوں۔ تکبر حسد اور مال کی ہوس سے مکمل طور پر دور رہیں۔عالمی اور ملکی دونوں سطح پر اپنا مضبوط لائحہ عمل طے کریں۔موصوف نے خطاب کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کہا کہ سماج اور معاشرے کو پاکیزہ اور صالح بنانے میں خواتین ملت کا بھی بہترین اور مثالی کردار رہا ہے۔ وہ گھر اور وہ معاشرہ سب سے زیادہ بہتر اور پاکیزہ معاشرہ سمجھا جاتا ہے جن کی خواتین اسلامی نہج پر اپنی نسلوں کی تربیت کرتی ہیں۔ امت مسلمہ کو حقیقی مقصد کی طرف متوجہ کرنے کے لیے کاروان اسلام کو اپنے مشن کی تکمیل کی طرف توجہ دلانے کے لیے یا مشن کو کامیابی تک پہنچانے کے لیے خواتین ملت کا جذبہ ہی کام آتا ہے اور ان کی انتھک جدوجہد اور کوششیں مثالی کردار ادا کرتی ہیں۔ انہی کی خدمات اور انہی کی توجہ خاص کے نتیجے میں غلبہ اسلام کی جدوجہد کامیاب ہوتی ہے،اس لیے آپ طالبات جو یہاں تعلیم حاصل کر رہی ہیں بہت غنیمت ہے۔اس سے خوب فائدہ اٹھائیے اور اپنی زندگی کو بندگی رب کے رخ پر ڈال دیجیے تو یقینا آپ کامیاب ہوں گے،خطاب کے آخر میں موصوف نے گزارش کی کہ بندگی رب ماہنامہ مجلہ کا مطالعہ کریں اور اس میں اپنے مضامین بھیجیں یہ ایک علمی فکری اور انقلابی مجلہ ہے اس سے بڑا فائدہ پہنچے گا،قبل ازیں ناظم جامعہ مولانا حافظ رفیق احمد نظامی صاحب نے مہمان محترم اور جامعہ کا تعارف کرایا اور مختصرا طالبات کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ آپ اگر اپنے مقصد پر نظر رکھیں گے تو ان شاء اللہ ضرور اپنی منزل پر پہنچیں گے اور دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہوں گے، اس موقع پر محترم جناب انوار الحق، جناب سیف الاسلام اور ڈاکٹر محمد معرا ج الدین صاحب موجود تھے۔
جاری کردہ: انتظامیہ جامعۃ البنات حیدرآباد
Comments
Post a Comment