غزل - ازقلم : مہرالنّساء مہروؔ بیجاپور کرناٹک۔
غزل -
ازقلم : مہرالنّساء مہروؔ بیجاپور کرناٹک۔
ایک چہرہ تھا کوئی سچا لگا
بھیڑ میں کوئی مجھے اپنا لگا
وہم کی بیماری جب سے لگ گئ
ہر کھرا سونا ہمیں کھوٹا لگا
آپ کی باتیں مجھے سچی لگیں
ہاں مگر لہجہ ذرا کڑوا لگا
کچھ طبیعت کیا ہوئی ناساز بس
آبِ شیریں بھی مجھے کھارا لگا
پھول جیسے چہرے تھے سب کے مگر
میرا بچّہ ہی مجھے پیارا لگا
ساری ندیوں کا وہ پانی پی گیا
اک سمندر بھی بہت پیاسا لگا
چھوڑ کر جاؤں گا مہروؔ ایک دن
اس نے جب ایسا کہا جھٹکا لگا
Comments
Post a Comment