افسانہ - "اندھیری رات کا مسافر"۔ ازقلم : راشیدہ یاسمین سکلیشپور، ضلع ہاسن (کرناٹک )


افسانہ - 
"اندھیری رات کا مسافر"
ازقلم  :  راشیدہ یاسمین سکلیشپور، ضلع ہاسن (کرناٹک )
سیل نمبر:9035972491
--------------------------------------

    رات کے آٹھ بج رہے تھے۔ آسمان پر تاریکی اپنی پوری سلطنت قائم کر چکی تھی۔ ہوا کے جھونکے درختوں کی شاخوں سے ٹکرا کر ایک پراسرار سرگوشی پیدا کر رہے تھے۔

 یہ تقریباً تیس برس پرانا واقعہ ہے، مگر آج بھی اس علاقے کے بزرگ اسے یاد کرکے سہم جاتے ہیں۔
ذہان ایک دور دراز گاؤں سے اپنے گھر واپس لوٹ رہا تھا۔ اس زمانے میں سڑکیں سنسان ہوا کرتی تھیں اور جس راستے سے وہ گزر رہا تھا، وہ گھنے جنگل کے بیچ سے نکلتا تھا۔ اس راستے کے بارے میں مشہور تھا کہ رات کے وقت وہاں کسی بھی اجنبی شخص، آواز یا اشارے پر ہرگز نہیں رکنا چاہیے۔
ذہان نے ہمیشہ ان باتوں کو وہم سمجھا تھا۔
مگر اُس رات قسمت نے اس کے لیے کچھ اور ہی لکھ رکھا تھا۔
اچانک اس کی نظر سڑک کے عین درمیان ایک بوڑھے آدمی پر پڑی۔ وہ بے حس و حرکت پڑا تھا، جیسے ابھی ابھی کسی حادثے کا شکار ہوا ہو۔
ذہان نے موٹر سائیکل کی رفتار کم کی۔ انسانیت کا تقاضا تھا کہ وہ رک کر اس کی مدد کرے۔ لیکن عین اسی لمحے اسے کسی بزرگ کی نصیحت یاد آگئی:
"اس راستے میں رات کے وقت کسی کے لیے گاڑی مت روکنا، چاہے وہ کتنا ہی مجبور کیوں نہ دکھائی دے۔"
یہ خیال آتے ہی اس نے ایکسیلیٹر گھما دیا اور پوری رفتار سے آگے بڑھ گیا۔
کچھ فاصلے پر پہنچ کر اس نے ریئر ویو مرر میں دیکھا۔
سڑک بالکل خالی تھی...
بوڑھا آدمی کہیں نظر نہیں آ رہا تھا۔
ذہان کے جسم میں سرد لہر دوڑ گئی۔ دل کی دھڑکن بے قابو ہو گئی، مگر اس نے خود کو سنبھالا اور سفر جاری رکھا۔
کافی دیر بعد ایک چھوٹا سا گاؤں نظر آیا۔ سڑک کے کنارے ایک عورت دو اسکول یونیفارم پہنے بچوں کے ساتھ کھڑی تھی۔
انہیں دیکھ کر ذہان کو اطمینان ہوا کہ شاید اب وہ محفوظ علاقے میں پہنچ چکا ہے۔
اس نے گاڑی روک دی۔
"آپ لوگ اس وقت یہاں کیا کر رہے ہیں؟"
عورت نے تھکے ہوئے لہجے میں جواب دیا:
"میں ایک اسکول کی ٹیچر ہوں۔ آج ہمارے اسکول میں تقریب تھی، اسی لیے دیر ہوگئی۔ ان بچوں کو لینے ابھی تک کوئی نہیں آیا۔ اگر آپ چاہیں تو اس بچی کو اگلے گاؤں تک چھوڑ دیں، وہاں اس کے والدین اس کا انتظار کر رہے ہوں گے۔"
ذہان کا دل نرم پڑ گیا۔
اس نے بچی کو اپنی موٹر سائیکل پر بٹھایا اور دوبارہ سفر شروع کر دیا۔
چند منٹ خاموشی سے گزرے۔
پھر بچی نے آہستہ سے کہا:
"یہ تمہارے گلے میں یٰسین شریف والا تعویذ ہے نا... اسے اتار کر پھینک دو۔"
ذہان نے سخت لہجے میں جواب دیا:
"ایسی باتیں نہیں کرتے۔ خاموشی سے بیٹھو۔"
چند لمحوں بعد پھر آواز آئی، مگر اب وہ کسی بچی کی آواز نہیں تھی۔
وہ ایک خوفناک عورت کی بھاری آواز تھی۔
"میں بچی نہیں ہوں...
پیچھے مڑ کر دیکھو۔"
ذہان نے ہمت کرکے گردن موڑی۔
اس کے وجود سے جیسے جان نکل گئی۔
وہ معصوم بچی اب ایک بھیانک عورت میں بدل چکی تھی۔ اس کی آنکھیں انگاروں کی طرح دہک رہی تھیں، چہرہ خوف سے بھرپور تھا اور ہونٹوں پر ایسی مسکراہٹ تھی جو روح کو بھی لرزا دے۔
ذہان نے پوری طاقت سے موٹر سائیکل کی رفتار بڑھانے کی کوشش کی، مگر گاڑی جیسے کسی نے جکڑ لی ہو۔
ایکسلیٹر پورا گھمانے کے باوجود رفتار نہیں بڑھ رہی تھی۔
پھر اچانک اسے محسوس ہوا جیسے موٹر سائیکل پر کسی انسان کا نہیں، ایک پہاڑ کا بوجھ رکھ دیا گیا ہو۔
وہ پسینے میں شرابور ہو گیا۔
دل ہی دل میں اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا رہا اور ہمت نہیں ہاری۔
اسی دوران دور سے ایک ٹیمپو کی تیز ہیڈ لائٹس دکھائی دیں۔
جیسے ہی ان روشنیوں نے موٹر سائیکل کو اپنی لپیٹ میں لیا...
وہ عورت اچانک غائب ہو گئی۔
گاڑی فوراً ہلکی ہو گئی۔
ذہان نے ٹیمپو کے سامنے موٹر سائیکل روک دی۔ کانپتی ہوئی آواز میں اس نے ڈرائیور اور کنڈکٹر کو سارا واقعہ سنایا۔
دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا، پھر افسردہ لہجے میں بولے:
"بھائی... تم بہت خوش قسمت ہو۔
یہ اس راستے کی پہلی کہانی نہیں ہے۔ یہاں رات کو گاڑی روکنا خطرے سے خالی نہیں۔"
انہوں نے اپنی گاڑی کی روشنی میں ذہان کو اس کے گاؤں تک بحفاظت پہنچایا۔
گھر پہنچنے کے بعد ذہان نے کسی سے اس واقعے کا ذکر نہیں کیا۔
مگر اگلے ہی دن اسے شدید بخار ہو گیا۔
ڈاکٹروں نے بہت علاج کیا، مگر اس کی صحت کبھی مکمل طور پر بحال نہ ہو سکی۔
وہ اکثر کہتا تھا کہ اسے محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی اس کے سینے اور پیٹ پر بیٹھا رہتا ہے۔
وقت گزرتا گیا۔
پہلے اسے فالج کا حملہ ہوا۔
پھر اوپن ہارٹ سرجری کرانی پڑی۔
بیماریاں ایک ایک کرکے اس کے جسم کو کمزور کرتی گئیں، یہاں تک کہ چند برس بعد وہ اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔
آج بھی اس علاقے کے بزرگ رات کے مسافروں کو ایک ہی نصیحت کرتے ہیں:
"ویران راستوں پر ہر آواز مدد کی پکار نہیں ہوتی، اور ہر معصوم چہرہ حقیقت میں معصوم نہیں ہوتا۔"

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔