یوگی سرکار کی مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کے خلاف ہونے والی کاروائی کو فوراً روکا جائے - جلگاؤں کی ایجوکیشنل ماینارٹی فیڈریشن کا صدر جمہوریہ کے نام مکتوب میں مطالبہ۔
جلگاؤں (سعید پٹیل ) جلگاؤں مایناریٹی ایجوکیشنل فیڈریشن کی جانب سے ٢١ جولائی بروز منگل کو ملک کی بڑی ریاست اترپردیش میں بر سر اقتدار یوگی سرکار پچھلے عرصہ درازسے سے ملک کی سب سے بڑی اقلیت مسلمانوں کے خلاف غیر ضروری کارروائیوں پر مسلسل عمل پیرا ہے مسلمانوں کی عبادت گاہوں کو جبراً نشانہ بنانے کے واقعات تو گویا اب یوپی میں معمول کا حصہ بنے چکے ہیں' تو کیا دستور کی رو سے کی جانے والی کاروائی میں کیا صرف مسلم عبادت گاہیں ہی غیر قانونی تعمیرات کا حصہ ہیں ساتھ ہی یوپی میں اقلیت کی تعلیمی و معاشی زبوں حالی کے تدارک کے لیے یوگی سرکار نے کوی ٹھوس اقدامات تو نہیں کیے البتہ ریاست کی ایک کہنہ مشق محمد علی جوہر یونیورسٹی جس میں ہزاروں اقلیتی و پچھڑے سماج کے طلبہ زیر تعلیم ہیں اس تعلیم گاہ کے ٣٨ عمارات کو غیر قانونی تعمیرات بتا کر اسے توڑنے کا حکم نامہ جاری کیا گیا ہے ان تمام ہی کی جانے والی زیادتیوں کے خلاف جلگاؤں مایناریٹی ایجوکیشنل فیڈریشن جلگاؤں کے صدر ڈاکٹر عبدالکریم سالار صاحب کی زیر قیادت ایک احتجاجی میمورینڈم بھارت کی راسٹرپتی کو ضلع کلکٹر کے معرفت دیا جس میں ان غیر قانونی کاروائیوں پر فوراً سے پیشتر روک لگانے و یوگی سرکار کو انصاف کے ساتھ تمام ہی طبقات کو ساتھ لے کر چلنے کی تلقین کی گئی تا کہ دستور کی آبیاری ممکن ہو۔اس موقع پر فیڈریشن کی جانب سے سومن وانگ چوک کی پررور حمایت کا اعلان بھی کیا گیا۔ساتھ ہی بھارت مکتی مورچے کے مختلف مانگوں کے لیے دھرنے کی حمایت فیڈریشن نے دھرنے میں شامل ھو کر کی۔
اس وفد میں جےڈی ایم ایف صدر ڈاکٹر عبدالکریم سالار کے ہمراہ سابق کارپوریٹر ریاض باغبان ، محمد خالد بابا باغبان ، رفیق شیخ ، قربان ممبر ، شاھید پٹیل ، جمیل شیخ ، شیخ فرقان ، عرفان شیخ ، یوسف خان ، رازق پٹیل ، عرفان سالار ، امجد پٹھان ، ُانور سیقلگر ، سلیم شیخ قاسم وغیرہ شہریان شامل تھے۔
Comments
Post a Comment