رائے گڑھ: اردو اسکولوں کے اوقاتِ کار کا تنازع حل، جمعہ کی سہولت بحال رکھنے کی پیش رفت - مہاراشٹر راجیہ اردو شکشک سنگھٹنا اور رکنِ ضلع پریشد منصور تاج کی بروقت مداخلت رنگ لائی؛ اساتذہ، طلبہ اور سرپرستوں میں اطمینان کی لہر۔
رائے گڑھ (نامہ نگاراظہر ظہیر الدین کردمے) : رائے گڑھ ضلع پریشد کے زیرِ انتظام چلنے والے اردو اسکولوں میں نئے تعلیمی سال کے آغاز پر اوقاتِ کار (اسکول ٹائمنگ) کے ایک نئے سرکلر نے اردو اساتذہ، طلبہ اور والدین میں شدید تشویش پیدا کر دی تھی۔ نئے ضابطے کے تحت پیر سے ہفتہ تک تمام اسکولوں کا وقت صبح 10:00 بجے سے شام 5:00 بجے تک طے کیا گیا تھا، جس کی وجہ سے جمعہ کے دن اساتذہ اور طلبہ کے لیے نمازِ جمعہ کی ادائیگی ایک بڑا مسئلہ بننے والی تھی۔
پرانا نظام اور نئے سرکلر کا تصادم
واضح رہے کہ رائے گڑھ کے اردو اسکولوں میں گزشتہ کئی سالوں سے جمعہ کے دن خصوصی اوقاتِ کار نافذ تھے، جس کے تحت اسکول صبح 7:30 سے 11:30 بجے تک چلتے تھے۔ اس متبادل نظام کی خاص بات یہ تھی کہ اس سے حکومت کی جانب سے لازمی قرار دیے گئے 48 تدریسی پیریڈز (Teaching Periods) بھی متاثر نہیں ہوتے تھے اور نمازِ جمعہ کے لیے بھی کافی وقت مل جاتا تھا۔
منظم جدوجہد اور سیاسی نمائندگی کا اثر
مسئلے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے 'مہاراشٹر راجیہ اردو شکشک سنگھٹنا' (ضلع رائے گڑھ) کے وفد نے فوری طور پر متحرک ہو کر رائے گڑھ ضلع پریشد کے رکن جناب منصور تاج (مہاڑ) سے ملاقات کی اور انہیں ایک تفصیلی میمورنڈم سونپا۔ جناب منصور تاج نے معاملے کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے فوراً ضلع پریشد کے تعلیمی شعبے کے ذمہ داران، بالخصوص سبھاپتی جناب چندرکانت کلمبے سے رابطہ کیا اور اردو اسکولوں کے لیے پرانی سہولت برقرار رکھنے کا پرزور مطالبہ کیا۔
مثبت نتیجہ اور ترمیم کی سفارش
اس مشترکہ کوششوں کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ اب جمعہ کے اوقات میں جزوی ترمیم کرتے ہوئے صبح 7:30 بجے سے دوپہر 12:00 بجے تک کا وقت مقرر کرنے کی سفارش حکومت کو بھیج دی گئی ہے، جس پر محکمانہ کارروائی شروع ہو چکی ہے۔ اس فیصلے کے بعد اردو داں طبقے اور والدین نے راحت کی سانس لی ہے اور منصور تاج کی بروقت اور مؤثر مداخلت کی ستائش کی جا رہی ہے۔
ایک تاریخی پس منظر:
سنگھٹنا کے ذمہ داران کے مطابق، جمعہ کے دن کا یہ خصوصی شیڈول فی الحال بنیادی طور پر کوکن کے اردو اسکولوں میں ہی رائج ہے، جبکہ ریاست کے دیگر اضلاع میں ایسی سہولت نہیں ہے۔ سال 2006 سے قبل جمعہ کو بھی عام دنوں کی طرح پورے وقت اسکول چلتے تھے، لیکن اردو تنظیموں کی طویل اور منظم جدوجہد کے بعد ہی یہ خصوصی رعایت حاصل کی جا سکی تھی جسے برقرار رکھنا تعلیمی اور مذہبی دونوں لحاظ سے ضروری ہے۔
یہ حالیہ واقعہ اس بات کی بہترین مثال ہے کہ جب فعال سماجی تنظیمیں اور باشعور عوامی نمائندے مل کر عوامی مسائل کی پیروی کرتے ہیں، تو پیچیدہ سے پیچیدہ مسائل بھی خوش اسلوبی سے حل ہو جاتے ہیں۔
اظہر ظہیر الدین کردمے
شریوردھن ضلع رایگڈھ
Comments
Post a Comment