آستانہ ممتازیہ کی ادبی خدمات - مضمون نگار - ستارفیضی یم. اے. بی. ایڈ. (صدر انجمن ترقی اردو کڈپہ ضلعی شاخ آندھرا پردیش انڈیا)
آستانہ ممتازیہ کی ادبی خدمات -
مضمون نگار - ستارفیضی یم. اے. بی. ایڈ.
(صدر انجمن ترقی اردو کڈپہ ضلعی شاخ آندھرا پردیش انڈیا)
کڈپہ 21 جولائی 2026 بروز منگل : ریاست آندھرا پردیش میں علاقہ رایلسیما کو ایک منفرد اور نمایاں مقام حاصل ہے. اردو زبان کی ترقی وترویج کا مرکز ضلع کڈپہ ہے.جہاں اردو کی ادبی محافل تقافتی تقریب دن بدن منعقد ہوتی ہیں. ضلع کڈپہ ایک تاریخی حیثیت رکھتا ہے. یہاں اولیاء کرام صوفیاء کرام علماء و فضلاء اور مشہور شعراء و ادباء تھے اور ہیں یہاں کئ بزرگانِ دین آرام فرما رہے ہیں. یہاں کئ قدیم وعظیم آستانے اور خان خواہیں اپنی آب وتاب رکھتے ہیں. اپنے فیوض وبرکات سے عوام وخاص کو رشدوہدایت اور فیض پہنچا رہے. اولیاء وصوفیائے کرام کی روحانی اور علمی ادبی خدمات ناقابل فراموش ہیں. اولیاء اللہ مذہب اسلام کی تبلیغ کے لیے اردو زبان کا سہارا لیا. یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے. اسی سلسلے کی ایک کڑی آستانہ ممتازیہ حضرت ممتازیہ علی شاہ المجاہدین والآمری چشتی القادری قاضی پیٹ ضلع کڈپہ ہیں. اس آستانہ کی تقریباً نصف صدی کی تاریخ ہے. زندہ کرامت یہ کہ اس آستانے کی نیک نامی اور شہرت جنوب ہند میں پھیل چکی ہے.
حضرت ممتاز علی شاہ صاحب قبلہ کی وفات 6 نومبر 1984 میں ہوئی. آپ مقدس پیشہ درس وتدریس سے وابستہ رہے.آپ نے اپنے مریدوں و معتقدوں کو روحانی علوم سے آشنا کیا. آپ پیر طریقت رہبرراہ ہدایت معز معرفت ایک خاموش طبیعت کے مالک اور متقی، پرہیز گار صوم وصلوات کے پابند تھے. آپ کے پیر ومرشد مجاہد شاہ آمیری اور ان کے پیر ومرشد آمر کلیمی مدراسی رہے ہیں. آپ بحیثیت مثالی اردو مدرس جملامڈوگو سرورخان پیٹ چنور اور قاضی پیٹ میں بحسن خوبی خدمات انجام دے چکے ہیں. آپ کی اولاد میں پانچ لڑکے اور پابچ لڑکیاں ہیں. آپ کی وفات کے بعد اس آستانے کی باگڈور کو موجود سجادہ نشین محمد منعم علی شاہ الممتازی چشتی القادری نے اپنے والد بزرگوار وپیر ومرشد کا عرس ہر سال بڑی عمدگی اور عقیدت سے منعقد کرتے آرہے ہیں. یہاں کے تقریباً مشاعرے حضرت قبلہ تقلید علی شاہ المجاہدین والاآمری چشتی القادری کے زیر نگرانی میں ہوا کرتے ہیں. اس سال 29 جولائی 2026 کو 43 واں عرس میں بھی کل ہند سطح پر پابندی سے نعتیہ و منقبتی مشاعرہ شاندار طور پر ہر سال کی طرح اس سال بھی انعقاد اعلان کیا ہے. امسال کا طرحی مصرعہ "بساہے آنکھ میں روضہ بنی کا" ہے. . عظمت اولیاء پر جلسہ بڑے پیمانے پر منایا جاتا ہے. اس سے پہلے روز صندل شریف میں محفل سماع خوانی کا اہتمام کرتے ہیں. یہ آستانہ بھی اردو زبان وادب کی ترقی وترویج میں اپنا نمایاں کردار ادا کر رہا ہے. اردو شعراء و ادباء کی حوصلہ افزائی اور انہیں اعزاز بخشتے ہیں. ان کے نعتیہ و منقبتی کلام کو طباعت و اشاعت سے آراستہ کرتے ہیں.
سجادہ نشین منعم شاہ صاحب قابل مبارکباد ہیں آپ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ و سلم کے عشق و محبت اور اولیاء اللہ کی عقیدت میں نعتیہ و منقبتی محافل منعقد کرتے آرہے ہیں. اردو ادب کی شمع کو روشن رکھا. بےشک یہاں اردو ادب کے چمن کی آبیاری ہورہی ہے. اردو ترقی کی راہ پر گامزن ہے.
آستانہ شہ میریہ کڈپہ کے سجادہ نشین الحاج حضرت سید شاہ حسینی باشاہ شہ میری یہاں کے عرس کے مبارک موقعوں پر طرحی مشاعروں میں بحیثیت مہمان خصوصی کبھی صدر کی حیثیت سے شرکت کرتے ہوئے کہا کہ یہاں کہ مشاعرے ہمیشہ کامیاب ہوتےہیں سجادہ نشین سید منعم صاحب
کے خلوص حسن انتظام شعرائے کرام کی دلچسپی اور مردین و معتقدین کی عقیدت و محبت اور محنت کی وجہ سے مشاعرے ہر شام شاندار پیمانے پر منعقد ہورہے ہیں. ہر سال مشاعروں میں پڑھے جانے والے کلام کو مجموعہ کی شکل قارئین کےلے منظر عام پر لارہے ہیں. یہ مجموعہ ہائے نعوت ایک دستاویزی حیثیت رکھتے ہیں. سجادہ نشین کے حق میں دعا کی کہ یہ روحانی اور علمی سفر کو جاری وساری رکھیں.
نعتیہ مجموعہ کی تربیت، طباعت و اشاعت میں، مشاعروں کی نشریات میں ہر سال کے مصرعہ طرح کے انتخاب میں بیرونی شعراء کو مدعو کرنے مدیر وسیلہ محمود شاہد کی محنت شامل ہے وہ اس سلسلے میں بھر پور تعاون کررہے ہیں. چند طرحی مصروں کا بہترین انتخاب دیکھئے
"بنی پاک کی محفل سجائے بیٹھے ہیں" "یا محمد آپ جیسا مہرباں کوئی نہیں" "دید سرکار کی ہر آنکھ تمنائی ہے" "دل کو سکون مدحت خیرالبشر میں ہے" "وہ مل گیا خدا سے جسے مصطفیٰ ملے" اس طرح کے کئی طرحی مصرعوں پر مقامی و بیرونی شعراء نے خوبصورت انداز میں طباع آزمائی کی ہے یہ نعتیہ ومقبتی کلام معتبر و معیاری ہوکر قابل دادوتحسن وصول کررہا ہے.
آستانہ ممتازیہ کے چند نعتیہ مجموعے..............
مجموعہ 'فانوس ممتازیہ' 2015
روح ایماں مجموعہ 2017 مدحت خیرالبشر 2022 مدحت خیرالبشر ". 2023
کہکشان نعوت 2025 پر نعتیہ کلام شامل ہے
مختلف طرحی مشاعروں میں شعراء کا منتخب کلام
ہدیہ درود ان پر بھیجتے ہیں
تار کی ضرورت نہ ڈاکیہ ضروری ہے
(ہدایت اللہ فہمی. اننتا پور)
میرے سینے میں اترتا ہے درودوں کا نور
دل کی آنکھوں سے محمد کا جو روضہ دیکھا
(ستار فیضی کڈپوی)
گونجے ہے جارسو جو اذانوں کی شکل میں
میرے بنی کا ذکر تو شام وسحر میں ہے
(ڈاکٹر امین اللہ تروپتی)
مہک اٹھے ہیں. محمد کی ہم غلامی سے
جہاں سمجھتا ہے خوشبو لگائے بیٹھے ہیں
(ن. م.. جالب. رائچوٹی)
یہ کرم ہے مرے سرکار کی ہم بندوں پر
رب کے محبوب کی محفل میں جگہ پائی ہے
(محبوب خان محبوب. کڈپہ)
گر ہمیں سنورنا ہو خوب رو جو بننا ہو
ان کی پاک سیرت کا آئینہ ضروری ہے
(عارف امینی. کدری)
بنی کی بزم ہے قائم رہے ادب ہر وقت
ادب سے دیکھو فرشتے بھی آئے بیٹھے ہیں
(مقبول احمد مقبول. کڈپہ)
دنیا کی نعمتیں بھی میسر ہوئیں مگر
دل کو سکون مدحت خیرالبشر میں ہے
(غفران امجد بنگلور)
جس نے بھی گنبد خضرا کا منارا دیکھا
اس نے دنیا ہی میں جنت کا نظارہ دیکھا
(اختر. کڈپوی)
میم احمد کا کھلا راز جہاں میں جب سے
کنت کنزا" کے گلستاں سے بہار آئی ہے
(ڈاکٹر امام قاسم ساقی. رائچوٹی )
عرش کی بلندی نے کہہ دیا یہ آقا سے
آپ کا مرے سرپر نقش پا ضروری ہے
( ڈاکٹر ش. م. یاشم طلیق. رائچوٹی )
مہمان کوئی نہیں ہے میزبان کوئی نہیں
دوجہاں میں آپ جیسا مہرباں کوئی نہیں
(سید شکیل احمد شکیل. کڈپہ)
آستانہ ممتازیہ کے طرحی مشاعروں میں مشہور شعراء کی شرکت.............. صدارت کرنے والوں میں ڈاکٹر محمد نعمان صاحب سدر نشین اے پی اسٹیٹ اردو اکاڈمی وجئےواڈا اور آستانہ شہ میریہ کے سجادہ نشین حضرت سید شاہ محمد حسینی باشاہ قادری شہ میری صاحب ہیں. اسی طرح سے مہمانانِ خصوصی کے طور پر حاضری دینے والوں میں ڈاکٹر ستار ساحر، ڈاکٹر سید امین اللہ صاحب. ڈاکٹر وصی اللہ بجتیاری عمری صاحب ڈاکٹر نثار احمد نثار، ماہر جمالی اور تقلید علی شاہ خلیفہ سلسلہ آمریہ مدراس رہے.
یہاں کے مشاعروں کی بہترین نظامت کرنے والوں میں ستارفیضی کڈپہ اقبال نیازی قریشی کدری مرحوم غفران امجد بنگلور، عارف امینی، ڈاکٹر سردار ساحل اور محبوب خان محبوب وغیرہ ہیں
مرحوم شعراء میں جوش پرودوٹوری، ن. م. جالب رائچوٹی اقبال نیازی کدری شکیل احمد شکیل اور محمد عمر نے شرکت کی ہے.
مہمان شعراء کرام میں غفران امجد بنگلور، نجیب احمد نجیب حیدرآباد،کبیر بنارسی جمیل بنارسی، محمد شمس پورنیہ بہار اور مشتاق احسن ناگپور، رائچوٹی کے شعراء ڈاکٹر امام قاسم ساقی ،ڈاکٹر ش. م. ہاشم طلیق ،نیاز احمد نیاز، محمد علی صدا، امروز علی امروز خلیل جانب، غوث شاد، تروپتی سے ڈاکٹر آمین اللہ آمین، ڈاکٹر امجد علی بیگ، کدری کے نام ور شعراء عارف امینی، اقبال نیازی، شمس النساء کرن، نور محمد طالب اور نظام وغیرہ نے شرکت کی ہے. اننتا پور سے ہدایت اللہ فہمی، گرم کونڈا سے ڈاکٹر نقی اللہ نقی، تقی اللہ تقی اور ماہر جمالی، غوث دانش چنوری نے اپنا کلام پیش کیا ہے.
کڈپہ کے معتبر و معروف شعراء ڈاکٹر ساغر جیدی، ڈاکٹر ستار ساحر.،محمود شاہد،ڈاکٹر وصی اللہ بجتیاری عمری ستار فیضی ،صادق ولی صادق، ڈاکٹر سردار ساحل ،ڈاکٹر انور ھادی جنیدی، محبوب خان محبوب، عطا اللہ اختر، مقبول احمد مقبول غیاث الدین شارب، خلیل خان خلیل،اسمعیل سید، محمد منعم علی کی پابندی سے شرکت کرتے ہیں اور ہر سال عقیدت سے اپنا طرحی کلام سامعین کو سناتے ہیں اور انہیں محظوظ فرماتے ہیں.
Comments
Post a Comment