جمہوریت کے چہرے پر لاٹھی کے نشانات - ہندوستان کی عالمی تصویر پر ایک سیاہ دھبہاز: جمیل احمد ملنسارؔ، بنگلور -
جمہوریت کے چہرے پر لاٹھی کے نشانات - ہندوستان کی عالمی تصویر پر ایک سیاہ دھبہ
از: جمیل احمد ملنسارؔ، بنگلور -
9845498354
جمہوریت کی اصل طاقت صرف پارلیمنٹ کی عمارتوں، آئینی دفعات یا انتخابی اعداد و شمار میں نہیں ہوتی، بلکہ اس بات میں پوشیدہ ہوتی ہے کہ ریاست اپنے اختلافِ رائے کو کس نگاہ سے دیکھتی ہے۔ جب کسی ملک میں پُرامن احتجاج کو امن و امان کا مسئلہ سمجھ لیا جائے اور مکالمے کی جگہ طاقت اپنا راستہ بنانے لگے، تو یہ صرف ایک احتجاج کا معاملہ نہیں رہتا، بلکہ پوری جمہوری روایت پر سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔
جنتر منتر پر سونم وانگچک اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ بھی اسی نوعیت کا ایک لمحہ تھا، جس نے دنیا کو یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ کیا ہندوستان واقعی اپنے اختلاف کرنے والے شہریوں کو وہی عزت دیتا ہے جس کا دعویٰ وہ عالمی فورموں پر کرتا ہے؟
سونم وانگچک کوئی ہتھیار بند رہنما نہیں، نہ ہی وہ اقتدار پر قبضہ کرنے نکلے تھے۔ وہ ایک ایسے شہری کی حیثیت سے اپنی آواز بلند کر رہے تھے جو اپنے خطے کے مستقبل، آئینی تحفظات اور عوامی حقوق کے بارے میں فکر مند ہے۔ کسی بھی جمہوری معاشرے میں ایسے مطالبات کا جواب مذاکرات کی میز پر دیا جاتا ہے، پولیس کی لاٹھیوں اور حراستوں سے نہیں۔
ریاستیں اکثر یہ سمجھنے کی غلطی کرتی ہیں کہ طاقت کا استعمال مسائل کو ختم کر دیتا ہے، حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ طاقت احتجاج کو وقتی طور پر منتشر کر سکتی ہے، مگر سوالات کو خاموش نہیں کر سکتی۔ جو سوال عوام کے دلوں میں جنم لیتے ہیں، وہ پولیس کی گاڑیوں میں نہیں بٹھائے جا سکتے۔
ہندوستان کی عالمی شناخت صرف اس کی معاشی ترقی یا سفارتی اثر و رسوخ سے نہیں بنی۔ اس ملک نے دنیا کو مہاتما گاندھی کی صورت میں عدم تشدد کا وہ سبق دیا جس نے کئی براعظموں میں آزادی کی تحریکوں کو نئی سمت عطا کی۔ یہی وجہ ہے کہ جب اسی سرزمین پر پُرامن احتجاج کرنے والوں کے ساتھ سختی کی تصاویر عالمی میڈیا کی زینت بنتی ہیں تو دنیا حیرت سے سوال کرتی ہے کہ کیا گاندھی کی سرزمین اپنی ہی روایت سے دور ہوتی جا رہی ہے؟
کسی بھی جمہوریت کا وقار اس بات سے نہیں بڑھتا کہ وہ کتنے احتجاج ختم کر سکتی ہے، بلکہ اس سے بڑھتا ہے کہ وہ کتنی تنقید برداشت کر سکتی ہے۔ اختلافِ رائے کو دشمنی سمجھ لینا جمہوریت نہیں، عدمِ اعتماد کی علامت ہے۔ حکومتیں اگر ہر مخالف آواز میں خطرہ تلاش کرنے لگیں تو پھر عوام اور ریاست کے درمیان اعتماد کا رشتہ کمزور پڑنے لگتا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ عالمی برادری اب صرف سرکاری بیانات پر یقین نہیں کرتی۔ آج کے دور میں ایک تصویر، ایک ویڈیو اور ایک لمحہ دنیا بھر میں رائے عامہ تشکیل دینے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ ایسے میں پولیس کی سخت کارروائیاں نہ صرف اندرونِ ملک بے چینی پیدا کرتی ہیں بلکہ بیرونی دنیا میں بھی ہندوستان کی جمہوری شبیہ کو مجروح کرتی ہیں۔
جمہوریت میں حکومت کی عظمت اس کی طاقت سے نہیں، اس کے تحمل سے ناپی جاتی ہے۔ طاقتور حکومت وہ نہیں جو احتجاج کو کچل دے، بلکہ وہ ہے جو اختلاف کرنے والوں کو بھی اعتماد کے ساتھ سننے کا حوصلہ رکھتی ہو۔ کیونکہ تاریخ نے ہمیشہ ان ریاستوں کو زیادہ عزت دی ہے جنہوں نے اختلاف کو برداشت کیا، نہ کہ ان کو جنہوں نے اسے دبانے کی کوشش کی۔
آج بھی وقت گزرا نہیں۔ اگر ہندوستان واقعی دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے اپنے دعوے کو زندہ رکھنا چاہتا ہے تو اسے یہ یاد رکھنا ہوگا کہ جمہوریت کی عزت پولیس کی طاقت سے نہیں، شہریوں کی آزادی سے محفوظ رہتی ہے۔
Comments
Post a Comment