ایک مختصر سا پیغام یوگی جی نام۔ ازقلم : پروفیسر مختارفرید، بھیونڈی مہاراشٹرا ۔
ایک مختصر سا پیغام یوگی جی نام۔
ازقلم : پروفیسر مختارفرید، بھیونڈی مہاراشٹرا ۔
کل جب میں نیوز 24 دیکھ رہا تھا تو ہوگی ادیتھناتھ کا درد بھرا چہرہ دیکھ کر صد افسوس ہوا، انھے ہندوستان ٹوٹنے کا بڑا افسوس ہے۔ یوگی جی تمہیں اتنا افسوس نہیں ہونا چاہئے جتنا ہم مسلمانوں کو ہے۔ پہلے دن سے مولانہ آزاد پاکستان بنانے کے خلاف تھے آور بہت سارے مسلمان بھی۔ جب بھی میری پاکستانیوں سے بات ہوتی ہے میں صرف ایک ہی بات کہتا ہوں، تمہاری بنیاد نفرت پر رکھی گئی ہے اس میں محبت کا وجود ہوہی نہیں سکتا ۔مگر افسوس صد افسوس کہ انگریز اپنا داو چل گئے اور ہندوستانیوں کے لئے ایک رستا ہوا ناسور چھوڑ گئے ۔
یوگی جی زرا حساب کتاب بھی کریں۔ مسلمانوں کی ہندوستان میں آبادی 2000 سے 2100 لاکھ ہے، اسی طرح پاکستان میں 2300 سے 2350 لاکھ ہے، اور بنگلہ دیش میں 1500 سے 1530 لاکھ ہے، یعنی مجموعی طور بر صغیر میں مسلمانوں کی تعداد 6,030 لاکھ ہے ، یعنی ساٹھ کرورڈ
جب کہ ہندوؤں کے تعداد 9،950 لاکھ ہے۔
یعنی ان اندازوں کے مطابق، بھارت میں ہندوؤں کی تعداد، بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش کے مسلمانوں کی مجموعی تعداد سے تقریباً 1.65 گنا ہے۔۔
جتنی جس کی تعداد اتنی اس کی حصہ داری ۔
اگر مثال کے طور پر پارلیمنٹ میں 543 نشستیں ہوتیں اور ان کی تقسیم صرف آبادی کے تناسب سے کی جاتی، تو اندازاً:
ہندو نمائندے: تقریباً 338 نشستیں
مسلمان نمائندے: تقریباً 205 نشستیں
یہ محض ایک تخمینی اور فرضی (Hypothetical) تجزیہ ہے، جس کا مقصد صرف یہ دکھانا ہے کہ اگر تقسیم نہ ہوئی ہوتی اور نمائندگی صرف آبادی کی بنیاد پر ہوتی تو پارلیمانی تناسب کیا ہو سکتا تھا۔ یہ کسی تاریخی حقیقت یا آئینی نظام کی عکاسی نہیں کرتا۔۔
اس تجزیے کے نتیجے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اگر انگریزوں نے یہ چال نہ چلی ہوتی تو ہندوستان عالمی برادری میں صفحہ اول پر ہوتا ۔
یوگی جی اس کا سارا الزام کسی ایک فرقے کو نا دیں، ہر فرقے کے لیڈروں نے اپنے بھاشنوں سے گمراہ کردیا تھا ۔
اب پچھتائے کیا ہوت ہے جب چڑیا چگ گئیں کھیت ۔
جی یوگی جی ہر بات کا ہل ہوتا ہے مگر وہاں صرف پیار کی بھاشا چلتی ہے۔ نفرت اس بیماری کا علاج نہیں ۔
پیار کی زبان میں وہ تاثیر ہے، اے دوست
نفرت کے اندھیرے بھی اجالوں میں ڈھل جائیں
پروفیسر مختارفرید
بھیونڈی مہاراشٹرا ۔
Comments
Post a Comment