پروفیسر محمد اعظم شاہد کی تالیف ’’کرناٹک میں اردو صحافت - عہدِ حاضر کی اردو صحافت کا آئینہ۔بمبصر: واجد اختر صدیقی، گلبرگہ، کرناٹک۔
پروفیسر محمد اعظم شاہد کی تالیف ’’کرناٹک میں اردو صحافت - عہدِ حاضر کی اردو صحافت کا آئینہ۔ب
مبصر: واجد اختر صدیقی، گلبرگہ، کرناٹک۔
سیل نمبر: 9739501549
اردو صحافت محض خبروں کی ترسیل کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک تہذیبی، فکری اور سماجی روایت کا نام ہے۔ بدلتے ہوئے صحافتی منظرنامے میں جب ذرائع ابلاغ کی نوعیت تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے، ایسے میں اردو صحافت کی تاریخ، موجودہ صورتِ حال اور مستقبل کے امکانات پر سنجیدہ مکالمہ وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔ خوش آئند امر یہ ہے کہ پروفیسر محمد اعظم شاہد نے اپنی تازہ تالیف ’’کرناٹک میں اردو صحافت: وراثت، موجودہ صورتِ حال، امکانات‘‘ کے ذریعے اسی ضرورت کو پورا کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔
ریاست کرناٹک کے اردو حلقوں میں پروفیسر محمد اعظم شاہد محتاجِ تعارف نہیں۔ وہ جس طرح بلند قامت شخصیت کے مالک ہیں، اسی طرح اردو ادب اور صحافت میں بھی ان کا مقام بلند اور قابلِ احترام ہے۔ 2026 میں شائع ہونے والی یہ کتاب دراصل کرناٹک اردو اکیڈمی، بنگلور کے زیرِ اہتمام منعقدہ ایک روزہ سیمینار میں پیش کیے گئے آٹھ مقالات کا مجموعہ ہے۔ ان دنوں اکیڈمی، مفتی محمد علی قاضی کی سربراہی میں بھرپور توانائی اور فکری سرگرمی کے ساتھ مصروفِ عمل ہے۔ انہوں نے اکیڈمی کو ایک نئی سمت اور تازہ ولولہ عطا کیا ہے۔
کتاب کے پیش لفظ میں مفتی محمد علی قاضی نے بجا طور پر لکھا ہے:
"اس سیمینار میں ریاست بھر سے آٹھ ممتاز صحافیوں اور ماہرینِ فنِ صحافت نے شرکت کی، جنہوں نے سیمینار کے لیے متعین کردہ متنوع عنوانات پر اپنے وقیع اور معلومات افزا مقالات پیش کیے۔"
کتاب میں شامل مقالات کی فہرست پر نظر ڈالنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ تمام قلم کار اردو اور اردو صحافت کے مخلص خدمت گزار اور مجاہد ہیں:
1۔ کرناٹک میں اردو صحافت: نامہ نگاری کے عصری تقاضے — رفیع بھنڈاری
2۔ کرناٹک میں اردو کی ادبی خدمات — ڈاکٹر انیس صدیقی
3۔ کرناٹک میں ادبی صحافت اور روزنامہ سالار، بنگلور — عبدالرحمان مصور
4۔ کرناٹک کی اردو صحافت اور خواتین — ڈاکٹر فریدہ رحمت اللہ
5۔ کرناٹک میں اردو اخبارات، پرنٹ میڈیا کی موجودہ صورتِ حال، قارئین کا ردِعمل اور ممکنہ امکانات — مدثر احمد
6۔ کرناٹک میں اردو نیوز پورٹلز کی کارکردگی اور جدید تقاضے — عبدالحلیم منصور
7۔ کرناٹک میں اردو صحافت: ڈیجیٹل دور کے چیلنجز اور امکانات — شاہد قاضی
8۔ کرناٹک میں ڈیجیٹل صحافت اور نوجوان — بی بی آسیہ
محمد اعظم شاہد نے ’’بھولنے سے بہتر یاد رہے‘‘ کے عنوان سے اردو اخبارات کے ارتقائی سفر پر مختصر مگر جامع روشنی ڈالی ہے۔ اس مضمون میں انہوں نے ایک نہایت اہم اور تشویش ناک پہلو کی نشاندہی کی ہے:
"موجودہ دور میں نئی نسل کے رویوں میں علمی گہرائی اور مطالعے کا ذوق رفتہ رفتہ کم ہوتا نظر آ رہا ہے۔ اگرچہ ٹیکنالوجی نے معلومات تک رسائی کو سہل بنا دیا ہے مگر تحقیق اور جستجو کی وہ تڑپ مفقود ہے جو ماضی کا طرۂ امتیاز تھی۔"
بلاشبہ نئی نسل کی یہ بے اعتنائی مستقبل میں ایک بڑے علمی خسارے کا سبب بن سکتی ہے۔ اردو زبان محض ادبی ورثہ نہیں بلکہ تہذیبی شناخت اور مذہبی روایت کی بھی امین ہے۔ اس سے دوری دراصل اپنی فکری جڑوں سے دوری کے مترادف ہے۔
ملنسار اطہر احمد ایک اچھے شاعر، ادیب اور نقاد ہیں۔ انہوں نے اپنے مضمون ’’نئے چراغ جلاؤ کہ روشنی کم ہے‘‘ میں حقیقت پسندانہ انداز سے لکھا ہے:
"اردو حلقوں میں سیمیناروں کے بارے میں یہ تاثر عام ہے کہ نشستن، گفتن، برخاستن؛ مگر اعظم شاہد اردو صحافت کے ایک باعمل اور دوراندیش سپاہی ہیں۔ چنانچہ انہوں نے اس ایک روزہ سیمینار میں پیش کیے گئے کلیدی خطبے اور مضامین کو یکجا کرکے کتابی صورت میں محفوظ کر دیا ہے۔"
ذاتی طور پر میں ملنسار اطہر احمد کے اس خیال سے متفق ہوں، تاہم اگر یہ ’’نشستن، گفتن، برخاستن‘‘ ہی سہی، تب بھی ایسے پروگراموں کا انعقاد ضروری ہے۔ کم از کم اردو کی آواز فضا میں گونجتی تو رہتی ہے۔ آج کل ادبی سرگرمیوں کے انعقاد کا رجحان بھی کم ہوتا جا رہا ہے، اس لیے ایسی کاوشیں اور بھی اہمیت اختیار کر جاتی ہیں۔
’’عرضِ ناشر‘‘ میں رجسٹرار کرناٹک اردو اکیڈمی، ایس اعجاز پاشاہ نے اس کتاب کی اشاعت کو اکیڈمی کے علمی و ادبی پروگراموں کی ایک اہم کڑی قرار دیا ہے۔
پروفیسر م۔ن۔ سعید کا شمار اردو کے ممتاز اور صاحبِ طرز قلم کاروں میں ہوتا ہے۔ سیمینار میں پیش کیا گیا ان کا کلیدی خطبہ اس کتاب کی اہمیت اور وقعت کو مزید بڑھا دیتا ہے۔ ’’کرناٹک میں اردو صحافت: وراثت، موجودہ صورتِ حال اور امکانات‘‘ کے عنوان سے اظہارِ خیال کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں:
"آج اردو صحافت کی صورتِ حال ملی جلی ہے۔ سوشل میڈیا کے دور میں چھپے ہوئے اخبار کی بقا پر سوالیہ نشان ضرور ہے لیکن اردو اخبارات آج بھی ہمارے معاشرے میں ایک تریاق کا کام کر رہے ہیں۔ جہاں اخلاقی زوال اور سماجی ناہمواریوں کا دور دورہ ہے وہاں اردو اخبارات انسانی اخلاقیات، خوفِ خدا، دیانت داری اور احترامِ آدمیت کی اقدار کو فروغ دے رہے ہیں۔ اردو اخبارات کا قاری اپنی جبلت سے بھی جڑا رہتا ہے اور ملک کے حالات سے بھی۔"
آج یہ تاثر عام ہے کہ پرنٹ میڈیا زوال پذیر ہے، لیکن م۔ن۔ سعید نے نہایت بصیرت افروز انداز میں واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا ہرگز پرنٹ میڈیا کا مکمل متبادل نہیں بن سکتا۔ ان کے نزدیک اردو اخبارات اپنے قاری کو نہ صرف ملت سے جوڑے رکھتے ہیں بلکہ ملک کے حالات و واقعات سے بھی باخبر رکھتے ہیں۔ مزید برآں وہ اخلاقیات، دیانت داری اور احترامِ انسانیت جیسی بنیادی اقدار کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
’’کرناٹک میں اردو کی ادبی صحافت‘‘ کے عنوان سے ممتاز ادیب ڈاکٹر انیس صدیقی نے نہایت دل نشیں اور ادبی فضا میں اپنی گفتگو پیش کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
"کسی بھی متمدن معاشرے کی فکری بالیدگی اور تہذیبی بیداری میں رسائل ایک متحرک اور فعال قوت کا درجہ رکھتے ہیں۔ رسالہ محض اوراق کا مجموعہ یا معلومات کی فراہمی کا ذریعہ نہیں ہوتا بلکہ یہ نئے افکار کی نمو، سماجی شعور کی بیداری اور عصری مباحث کے ذریعے انسانی ذہن کو جلا بخشنے کا ایک مؤثر وسیلہ ہے۔"
ڈاکٹر انیس صدیقی محض اردو کے قلم کار نہیں بلکہ اردو کے عاشق ہیں۔ ان کی تحریروں میں زبان سے والہانہ وابستگی جھلکتی ہے۔ انہوں نے بجا طور پر رسائل کو انسانی ذہن کی آبیاری اور فکری تربیت کا مؤثر ذریعہ قرار دیا ہے۔
’’کرناٹک میں ادبی صحافت اور روزنامہ سالار‘‘ کے عنوان سے عبدالرحمان مصور، نائب مدیر روزنامہ سالار، نے ایک معلوماتی اور تحقیقی مقالہ پیش کیا ہے جس میں سالار کی ادبی خدمات کا جامع جائزہ لیا گیا ہے۔ اپنی بات کو مؤثر بنانے کے لیے انہوں نے مختلف شعرا کے اشعار بھی نقل کیے ہیں۔ مصور صاحب درس و تدریس، صحافت اور ادب تینوں شعبوں سے گہری وابستگی رکھتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:
"کسی بھی جمہوری نظام میں صحافت کا کردار کلیدی اور نہایت ذمہ دارانہ ہوتا ہے۔ یہ حکومت اور عوام کے درمیان ایک پل کا کام کرتی ہے۔ اخبارات مواصلاتِ عامہ کا سب سے اہم، بنیادی اور قدیم ذریعہ ہیں۔"
ان کی یہ بات اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ صحافت جمہوریت کا چوتھا ستون ہے۔ جس طرح مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ ریاستی نظام کے لیے ناگزیر ہیں، اسی طرح صحافت بھی اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے ذریعے معاشرے کی تعمیر و تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
بہرکیف، اس کتاب میں شامل تمام مقالات اپنی نوعیت کے اعتبار سے منفرد، وقیع اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگ ہیں۔ صحافت کے میدان میں سوشل میڈیا ایک نئے اور طاقت ور وسیلے کے طور پر ابھرا ہے اور اس کی گونج پوری دنیا میں سنائی دیتی ہے، لیکن اس کے باوجود پرنٹ میڈیا کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ دونوں کے راستے مختلف ہو سکتے ہیں مگر منزل ایک ہی ہے: معلومات کی ترسیل، شعور کی بیداری اور سماجی رہنمائی۔ فرق صرف یہ ہے کہ ایک راستہ تیز رفتار ہے اور دوسرا متانت اور ٹھہراؤ کا حامل۔ تاہم دھیمی آنچ میں پکی ہوئی چیز کی لذت اور تاثیر ہمیشہ برقرار رہتی ہے۔
124 صفحات پر مشتمل اس کتاب کی ایک اور انفرادی خصوصیت یہ ہے کہ اس کے آخری صفحات میں اردو اخبارات و رسائل کی نایاب تصاویر شامل کی گئی ہیں، جو کتاب کی تاریخی اور دستاویزی اہمیت کو مزید بڑھا دیتی ہیں۔
مجموعی طور پر یہ کتاب کرناٹک میں اردو صحافت کے ماضی، حال اور مستقبل کا ایک معتبر اور مستند حوالہ ہے۔ تحقیق کے طلبہ، ریسرچ اسکالروں، صحافت کے طالب علموں اور اردو زبان و ادب سے وابستہ افراد کے لیے یہ ایک قیمتی تحفہ ہے۔ بلا شبہ یہ تصنیف اردو صحافت کے باب میں ایک اہم اور خوش آئند اضافہ ہے اور آنے والے دنوں میں اس موضوع پر کام کرنے والوں کے لیے رہنما دستاویز کی حیثیت اختیار کرے گی۔
Comments
Post a Comment