پردیس نامہ - ازقلم : بابا آزاد جرولی یوپی۔


پردیس نامہ - 
ازقلم :  بابا آزاد جرولی یوپی۔


یہ سمجھ لو زندگی ہے اک سزا پردیس میں 
خود سے ہوتا ہے ہر اک پل معرکہ پردیس میں

کس طرح سے درد و غم آنسو چھپانے چاہیے 
آکے اس کا بھی پتہ لگ ہی گیا پردیس میں

یوں لگا پل بھر کو جیسے گاوں سارا مل گیا 
دفعتاً اپنا کوئی جب مل گیا پردیس میں 

وہ مری بیٹھک وہ حقہ اور کچھ احباب بھی 
یاد آتے ہیں مجھے سب بارہا پردیس میں

گاوں کی پگڈنڈیاں وہ کہیت اور بہتی ندی 
مضطرب کرتے ہیں ہم کو سب سدا پردیس میں

وہ جو کرتے تھے مرا نا اہل لوگوں میں شمار
فخر سے کہتے ہیں دانا ہے مرا پردیس میں

چند چیزیں مل گئیں پردیس میں رہ کر مجھے 
ہاں مگر میرا بہت کچھ کھو گیا پردیس میں

     بابا آزاد جرولی یوپی

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔