حیا چلی جائے تو حُسن بھی ماند پڑ جاتا ہے…اور کردار سنور جائے تو سادگی بھی کمال لگتی ہے۔۔ از قلم : عالمہ مبین پالیگار، بیلگام، کرناٹک۔


حیا چلی جائے تو حُسن بھی ماند پڑ جاتا ہے…
اور کردار سنور جائے تو سادگی بھی کمال لگتی ہے۔
از قلم: عالمہ مبین پالیگار، بیلگام، کرناٹک۔
M.A., M.Ed.
8904317986

Principal of Mount SinaiPU College Belagavi 

"حیا چلی جائے تو حُسن بھی ماند پڑ جاتا ہے،
اور کردار سنور جائے تو سادگی بھی کمال لگتی ہے۔"

یہ شعر صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ عورت کی عظمت، اس کی شناخت اور اس کی حقیقی خوبصورتی کا آئینہ ہے۔ دنیا نے حسن کو چہرے کی چمک، لباس کی نمائش اور ظاہری دلکشی میں تلاش کیا، لیکن اسلام نے عورت کے حسن کو حیا، عفت، وقار اور پردے سے وابستہ کیا۔
حسن اگر حیا سے خالی ہو تو وہ نگاہوں کی زینت بنتا ہے،
اور حیا سے آراستہ ہو تو دلوں کی عزت بن جاتا ہے۔
اسلام نے عورت کو کبھی معاشرے سے الگ کرنے کے لیے پردہ فرض نہیں کیا، بلکہ اسے عزت، احترام، تحفظ اور پاکیزگی عطا کرنے کے لیے یہ عظیم حکم نازل فرمایا۔ جو لوگ پردے کو پابندی سمجھتے ہیں، وہ دراصل اسلام کے فلسفۂ حجاب کو سمجھ نہیں سکے۔
قیمتی موتی ہمیشہ صدف میں محفوظ رہتا ہے، قیمتی ہیرے مضبوط خزانوں میں رکھے جاتے ہیں، اور خوشبو بند شیشیوں میں محفوظ کی جاتی ہے۔ دنیا کی ہر قیمتی چیز کی حفاظت کی جاتی ہے، کیونکہ اس کی قدر ہوتی ہے۔ پھر وہ عورت، جسے رسول اللہ ﷺ نے پوری امت کی تربیت گاہ بنایا، اس کی عزت اور عصمت کی حفاظت کیوں نہ کی جائے؟
جسے اللہ نے قیمتی بنایا، اسے پردہ بھی عطا فرمایا،
یہ قید نہیں، ربِّ کریم کی رحمت کا سایہ ہے۔
اللہ تعالیٰ نے پردے کا حکم سب سے پہلے اپنے محبوب رسول حضرت محمد ﷺ کے گھرانے کو دیا، تاکہ امت کو معلوم ہو جائے کہ اللہ کے احکام کا آغاز سب سے پہلے نبی کریم ﷺ کے اہلِ بیت سے ہوتا ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"اور جب تم نبی کی ازواج سے کوئی چیز مانگو تو پردے کے پیچھے سے مانگا کرو، یہ تمہارے اور ان کے دلوں کے لیے زیادہ پاکیزگی کا باعث ہے۔"
(سورۃ الاحزاب: 53)
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے تمام مسلمان عورتوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:
«"اے نبی! اپنی بیویوں، اپنی بیٹیوں اور ایمان والی عورتوں سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنی چادروں کا کچھ حصہ اپنے اوپر لٹکا لیا کریں، یہ اس بات کے زیادہ قریب ہے کہ وہ پہچان لی جائیں اور انہیں ایذا نہ دی جائے۔"
(سورۃ الاحزاب: 59)»
اور فرمایا:
"اور ایمان والی عورتوں سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں، اپنی پاکدامنی کی حفاظت کریں، اپنی زینت ظاہر نہ کریں، اور اپنے دوپٹے اپنے سینوں پر ڈالے رکھیں۔"
(سورۃ النور: 31)
غور کیجیے! قرآن نے پردے کی حکمت خود بیان کر دی: "تاکہ انہیں ایذا نہ دی جائے۔" یعنی پردہ عورت کو معاشرے سے دور کرنے کے لیے نہیں، بلکہ اسے بے ہودہ نگاہوں، بدکردار لوگوں اور ہر قسم کی اذیت سے محفوظ رکھنے کے لیے ہے۔
پردہ دیوار نہیں، اعتماد کی چادر ہے،
یہ عورت کی کمزوری نہیں، اس کے وقار کی پہچان ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"حیا ایمان کی ایک شاخ ہے۔"
(صحیح البخاری، صحیح مسلم)»
اور فرمایا:
"جب تم میں حیا نہ رہے تو پھر جو چاہو کرو۔"
(صحیح البخاری)»
یہ حدیث اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ جب معاشرے سے حیا ختم ہو جاتی ہے تو گناہوں کے دروازے کھل جاتے ہیں، اور جب حیا باقی رہتی ہے تو انسان خود بخود برائی سے رک جاتا ہے۔
امہات المؤمنین، خصوصاً حضرت عائشہؓ، حضرت حفصہؓ، حضرت ام سلمہؓ اور دیگر صحابیاتؓ نے پردے کے ساتھ علم بھی حاصل کیا، علم بھی سکھایا، امت کی رہنمائی بھی کی اور تاریخ میں ایسا روشن کردار چھوڑا کہ قیامت تک مسلمان عورتیں ان پر فخر کرتی رہیں گی۔ اس سے معلوم ہوا کہ پردہ علم، ترقی یا خدمتِ خلق کی راہ میں رکاوٹ نہیں، بلکہ کردار کی حفاظت کا ذریعہ ہے۔
حیا عورت کا زیور ہے، لباس نہیں؛
وقار اس کی طاقت ہے، کمزوری نہیں۔
آج مغربی تہذیب عورت کو اس کی عزت سے زیادہ اس کی ظاہری نمائش کی دعوت دیتی ہے، جبکہ اسلام عورت کو یہ پیغام دیتا ہے کہ تمہاری اصل قیمت تمہارے رب کے نزدیک ہے، نہ کہ لوگوں کی نگاہوں میں۔
اے میری بہنو! یاد رکھو، جس چادر کو تم اللہ کے حکم پر اوڑھتی ہو، وہ صرف کپڑا نہیں بلکہ اطاعت، عبادت، عزت اور حفاظت کی علامت ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ہر حکم رحمت ہے، اور پردہ بھی انہی رحمتوں میں سے ایک عظیم رحمت ہے۔
نہ حسن سے ہے بلندی، نہ شباب سے ہے شان،
عورت کی اصل دولت ہے حیا اور ایمان۔
جو بیٹی حیا کی چادر اوڑھ لیتی ہے،
وہ اپنے باپ کی عزت، اپنی ماں کی دعا، اپنے شوہر کی امانت اور اپنے رب کی رضا کا سبب بن جاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہماری ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو حیا، عفت، پاکدامنی اور پردے پر استقامت عطا فرمائے، اور ہمارے معاشرے کو نگاہوں کی پاکیزگی، کردار کی بلندی اور ایمان کی مضبوطی نصیب فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔