نکاح ثانی اور عدل - از قلم : شعیب احمد محمدی۔
نکاح ثانی اور عدل -
از قلم : شعیب احمد محمدی۔
اسلام نے بیوہ اور مطلقہ عورتوں کے نکاح کی ترغیب دی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بیوہ حضرت سودہ رضی اللہ عنہا اور مطلقہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا۔ لیکن جب مرد کے پاس پہلے سے ایک بیوی ہو اور وہ دوسری بیوی بیوہ یا مطلقہ لے آئے تو سب سے بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے عدل کیسے ہو
1. دینی پہلو
قرآن و حدیث کی روشنی میں عدل
اسلام نے تعدد ازواج کی اجازت کے ساتھ سب سے پہلے عدل کی شرط لگائی۔ اللہ تعالی قرآن میں فرماتا ہے
فانكحوا ما طاب لكم من النساء مثنى وثلاث ورباع فان خفتم الا تعدلوا فواحدة
تو جو عورتیں تمہیں پسند آئیں ان میں سے دو تین چار سے نکاح کر لو۔ پھر اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ عدل نہ کر سکو گے تو ایک ہی پر اکتفا کرو
اس آیت نے واضح کر دیا کہ ایک سے زیادہ نکاح کی بنیاد ہی عدل ہے۔ اگر عدل کا یقین نہ ہو تو ایک بیوی کافی ہے۔
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی وعید بھی سنائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
من كانت له امرأتان فمال الى احداهما جاء يوم القيامة وشقه مائل
جس شخص کی دو بیویاں ہوں اور وہ ایک کی طرف جھک جائے تو وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کا ایک پہلو لٹکا ہوا ہوگا
معلوم ہوا کہ دلوں کا میلان اللہ معاف فرمائے گا لیکن وقت نان و نفقہ اور حقوق میں جان بوجھ کر ناانصافی کرنا سخت گناہ اور قیامت کی رسوائی کا سبب ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی تمام ازواج کے درمیان دن رات کی تقسیم میں برابر تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر پر جاتے تو قرعہ ڈالتے
بیوہ یا مطلقہ سے نکاح کرنا صدقہ ہے مگر اس کے ساتھ پہلی بیوی پر ظلم کرنا گناہ ہے۔ دونوں اللہ کی امانتیں ہیں۔
2. معاشرتی پہلو
ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ دوسری شادی ہوتے ہی پہلی بیوی کو پرانی اور دوسری کو نئی کا ٹیگ لگا دیا جاتا ہے
بیوہ یا مطلقہ کو لوگ طعنے دیتے ہیں یہ تو دوسری ہے۔ اور پہلی بیوی کو اس نے گھر توڑ دیا
عدل کا تقاضا ہے کہ معاشرہ دونوں کو عزت دے۔ شوہر گھر والوں کو سمجھائے کہ یہ دونوں میری بیویاں ہیں دونوں کا مقام برابر ہے
بیوہ یا مطلقہ کے بچے ہوں تو ان کے ساتھ بھی سوتیلا سلوک نہ ہو۔ ورنہ گھر جہنم بن جاتا ہے۔
3. اخلاقی پہلو
اخلاق کا اصول جو کمزور ہے اس کا خیال زیادہ رکھو
بیوہ کے سر سے سایہ اٹھ چکا مطلقہ کا دل ٹوٹ چکا۔ ان دونوں کو پہلی بیوی کے مقابلے میں زیادہ حوصلے اور محبت کی ضرورت ہوتی ہے
مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ پہلی بیوی کے حقوق مارے جائیں۔ اخلاق یہ ہے کہ شوہر دونوں کی عزت نفس کا خیال رکھے
کسی کے سامنے ایک کی تعریف اور دوسری کی برائی نہ کرے۔ راز نہ کھولے۔ موازنہ نہ کرے۔
4. جذباتی پہلو
یہاں سب سے نازک مسئلہ دل کا ہے
پہلی بیوی کو لگتا ہے میری جگہ کوئی لے رہا ہے۔ اسے حسد بے چینی اور رونے کا دورہ پڑتا ہے
بیوہ یا مطلقہ کو لگتا ہے میں بوجھ ہوں لوگ کیا کہیں گے۔ اسے احساس کمتری ستاتا ہے
عدل یہ ہے کہ شوہر دونوں کے زخموں پر مرہم رکھے
پہلی بیوی کو یقین دلائے تمہاری قربانیاں میں نہیں بھولا
دوسری کو تحفظ دے اب تمہارا گھر یہی ہے
دونوں سے الگ الگ بیٹھ کر بات کرے۔ دونوں کا درد سنے۔
5. ایک تلخ حقیقت
ہمارے معاشرے میں اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوئی شخص بیوہ یا مطلقہ عورت کی بے کسی دیکھ کر جذبات میں آ کر اس سے نکاح کر لیتا ہے۔ اس لمحے اس عورت کے دل میں ایک نئی امید جاگتی ہے۔ اسے لگتا ہے کہ اب وہ تنہا نہیں رہی اب اسے ایک سہارا مل گیا
لیکن چند مہینوں بعد ہی تصویر بدل جاتی ہے۔ پہلی بیوی کے دباؤ گھر والوں کی باتوں یا اپنی حکمی کمزوری کی وجہ سے شوہر دوسری بیوی کے ساتھ عدل نہیں کر پاتا۔ پھر وقت محبت اور توجہ سب پہلی بیوی کو ملنے لگتے ہیں
نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جس عورت کو سہارا دینے کے لیے نکاح کیا گیا تھا وہ اب پہلے سے بھی زیادہ ٹوٹی ہوئی اور زیادہ پریشان ہو جاتی ہے۔ جذبات میں کیا گیا فیصلہ اس کے زخموں پر نمک چھڑک دیتا ہے۔ اس لیے نکاح سے پہلے عدل کی طاقت کو تول لینا ضروری ہے۔
6. سماجی پہلو
سماج کو چاہیے کہ وہ دوسری شادی کو عیب نہ بنائے
مسجد کے خطیب جمعہ میں بیان کریں کہ بیوہ اور مطلقہ کا نکاح سنت ہے
خواتین کی تنظیمیں دونوں بیویوں کے لیے کونسلنگ رکھیں
خاندان کے بڑے دونوں گھروں میں عدل قائم کرانے میں مدد کریں آگ نہ لگائیں
عدل قائم کرنے کے 5 عملی طریقے
1. وقت کی تقسیم ہفتے کے دن برابر بانٹ دیں۔ سفر میں قرعہ ڈالیں
2. نان و نفقہ خرچے میں تفریق نہ کریں۔ حیثیت کے مطابق دونوں کو دیں
3. محبت کا اظہار کسی کے سامنے دوسری کی برائی نہ کریں۔ دونوں کو الگ الگ عزت دیں
4. بچوں کا خیال اگر بیوہ یا مطلقہ کے بچے ہیں تو ان کو بھی اپنی اولاد کی طرح پالیں
5. اللہ سے ڈر ہر رات سونے سے پہلے سوچیں کہ کل قیامت میں اللہ کو کیا جواب دوں گا
آخر میں
اے مردو بیوہ یا مطلقہ سے نکاح کرنا بڑی نیکی ہے لیکن شرط یہ ہے کہ عدل کرو۔ اگر عدل نہیں کر سکتے تو ایک پر قناعت کر لو
اور اے خواتین اسلام سوکن کو دشمن نہ بناؤ بہن بنا لو۔ جس گھر میں عدل اور صبر آ جائے وہاں اللہ کی رحمت اترتی ہے
وما توفیقی الا باللہ
اللہ ہمارے گھروں میں محبت عدل اور سکون عطا فرمائے۔ آمین
Comments
Post a Comment