امام و مؤذن کی معاشی خود کفالت یا دینی خدمات کا فروغ؟ — ایک تبصرہ - از قلم: عالمہ مبین پالیگار، بیلگام، کرناٹک۔
امام و مؤذن کی معاشی خود کفالت یا دینی خدمات کا فروغ؟ — ایک تبصرہ -
از قلم: عالمہ مبین پالیگار، بیلگام، کرناٹک۔
M.A., M.Ed.
8904317986
امام اور مؤذن کسی بھی اسلامی معاشرے کی روح ہوتے ہیں۔ وہ صرف نماز پڑھانے یا اذان دینے والے افراد نہیں، بلکہ قوم کے معلم، مربی، رہنما اور دینی شعور کو زندہ رکھنے والے افراد ہیں۔ اس لیے ان کی معاشی پریشانی یقیناً ایک اہم مسئلہ ہے، جس کا حل تلاش کرنا وقت کی ضرورت ہے۔
بعض اہلِ علم کی یہ رائے ہے کہ امام اور مؤذن کو اتنا سرمایہ فراہم کیا جائے کہ وہ کوئی کاروبار شروع کر کے معاشی طور پر خود کفیل ہو جائیں، یا ایسی جائیداد خرید دی جائے جس کے کرائے سے ان کی ضروریات پوری ہوں۔ بظاہر یہ تجویز ان کی معاشی مشکلات کے حل کے لیے مفید محسوس ہوتی ہے، لیکن اس کے ساتھ چند اہم پہلو بھی قابلِ غور ہیں۔
میری رائے میں اگر امام اور مؤذن کاروبار میں مشغول ہو جائیں گے تو فطری طور پر ان کی توجہ تجارت، نفع و نقصان اور دنیاوی معاملات کی طرف منتقل ہو جائے گی۔ ہر کاروبار وقت، محنت اور ذہنی یکسوئی کا مطالبہ کرتا ہے۔ ایسے میں وہ دینی خدمات، اصلاحِ معاشرہ اور عوام کی تربیت کے لیے مطلوبہ وقت اور توجہ نہیں دے سکیں گے۔
اصل ضرورت یہ نہیں کہ امام کو بازار کا تاجر بنا دیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ مسجد کو ایک فعال دینی مرکز بنایا جائے، جہاں امام اور مؤذن کا پورا وقت دین کی خدمت میں صرف ہو۔
اس کے لیے ہر مسجد میں ایک منظم شیڈول مرتب کیا جائے، جس میں مثلاً:
بچوں کے لیے روزانہ قرآنِ کریم کی تعلیم اور تجوید۔
نوجوانوں کے لیے دینی رہنمائی اور اخلاقی تربیت۔
خواتین کے لیے مناسب انداز میں دینی تعلیم کا انتظام۔
نمازوں کے بعد مختصر دروسِ قرآن و حدیث۔
ہفتہ وار تفسیرِ قرآن اور سیرتِ نبوی ﷺ کے دروس۔
رات کے اوقات میں ان افراد کے لیے تعلیم کا انتظام جو ملازمت یا کاروبار کی وجہ سے دن میں نہیں آ سکتے۔
نکاح، طلاق، وراثت اور دیگر شرعی مسائل میں رہنمائی۔
محلے کی اصلاح، نوجوانوں کی تربیت اور سماجی خدمت کے منصوبے۔
جب امام کی ذمہ داریاں واضح ہوں، ان کا وقت منظم ہو، اور مسجد حقیقی معنوں میں علم و تربیت کا مرکز بن جائے، تو پوری قوم اس سے مستفید ہوگی۔
اس کے ساتھ ساتھ معاشرے کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ امام اور مؤذن کی تنخواہیں ان کی ضروریات کے مطابق بڑھائی جائیں۔ افسوس کی بات ہے کہ ہم شادیوں، تقریبات، آرائش، فضول رسومات اور دیگر غیر ضروری کاموں پر لاکھوں روپے خرچ کر دیتے ہیں، لیکن اللہ کے گھر کی خدمت کرنے والوں کے لیے مناسب معاوضہ دینے میں کوتاہی کرتے ہیں۔
جس طرح کسی اسکول یا کالج میں ہر ملازم کا ایک طے شدہ ورک لوڈ ہوتا ہے اور اسی کے مطابق اسے تنخواہ دی جاتی ہے، اسی طرح امام اور مؤذن کے لیے بھی باقاعدہ ذمہ داریوں کی فہرست، اوقاتِ کار اور دینی خدمات کا شیڈول ہونا چاہیے، اور پھر ان کی خدمات کے شایانِ شان باعزت اور مناسب تنخواہ مقرر کی جانی چاہیے۔
اگر ہم واقعی اپنے معاشرے کو دینی اعتبار سے مضبوط بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں امام اور مؤذن کو کاروبار کی دنیا میں مصروف کرنے کے بجائے دین کی خدمت کے لیے فارغ البال بنانا ہوگا۔ ان کی معاشی کفالت امت کی ذمہ داری ہے، جبکہ ان کی علمی، دعوتی اور تربیتی خدمات پوری امت کا سرمایہ ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے ائمہ، مؤذنین اور علماء کی صحیح قدر کرنے، ان کی عزت و تکریم کرنے اور انہیں دین کی خدمت کے لیے بہترین ماحول فراہم کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
Comments
Post a Comment