جامعہ اسلامیہ احیاء العلوم (طیبہ ٹرسٹ) میں عظیم پریم جی فاؤنڈیشن اور محکمۂ اقلیتی بہبود کے تعاون سے ورک شیٹس تقسیم۔
جامعہ اسلامیہ احیاء العلوم (طیبہ ٹرسٹ) میں عظیم پریم جی فاؤنڈیشن اور محکمۂ اقلیتی بہبود کے تعاون سے ورک شیٹس تقسیم۔
جامعہ نگر، 9 جولائی 2026ء (نامہ نگار: رہبر تماپوری):
مدرسہ جامعہ اسلامیہ احیاء العلوم (طیبہ ٹرسٹ) میں طلبہ کی تعلیمی صلاحیتوں کو فروغ دینے، مطالعے کے ذوق کو پروان چڑھانے اور دینی و عصری تعلیم کے معیار کو مزید مستحکم بنانے کے مقصد سے ایک پروقار تعلیمی پروگرام منعقد کیا گیا۔
یہ پروگرام بانیٔ جامعہ الحاج محمد عثمان صاحب تالیکوٹی کی زیرِ سرپرستی اور مہتممِ جامعہ حافظ و قاری صاحب کی زیرِ نگرانی، عظیم پریم جی فاؤنڈیشن اور محکمۂ اقلیتی بہبود کے باہمی تعاون سے منعقد ہوا۔ اس موقع پر اساتذۂ کرام، طلبا و طالبات اور ادارہ ہذا کے دیگر ذمہ داران نے بھرپور شرکت کی۔
پروگرام کے دوران طلباء و طالبات میں ریاضی، انگریزی اور کنڑا مضامین کی ورک شیٹس اور ورک بکس تقسیم کی گئیں۔ مقررین نے اس اقدام کو طلباء وطالبات کی تعلیمی ترقی کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ دینی تعلیم کے ساتھ معیاری عصری تعلیم کی فراہمی وقت کی اہم ضرورت ہے، تاکہ طلباء و طالبات علمی، اخلاقی اور عملی میدان میں کامیابی حاصل کر سکیں۔
محترمہ روبینہ انجم (معلمہ مدرسہ ہذا) نے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ طلباء و طالبات کی تعلیمی ضروریات اور اساتذہ کی تجاویز کو مدنظر رکھتے ہوئے عظیم پریم جی فاؤنڈیشن اور محکمۂ اقلیتی بہبود کی جانب سے ریاضی، انگریزی اور کنڑا کی ورک شیٹس اور ورک بکس فراہم کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اضافی تعلیمی مواد طلباء و طالبات کی تحریری مشق، نصابی فہم اور تعلیمی استعداد میں بہتری لانے میں معاون ثابت ہوگا۔
اس موقع پر اطہر مبین ملا{ رہبر تماپوری} (معلم مدرسہ ہذا) نے آدابِ تعلیم، نظم و ضبط اور طالب علم کی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ایک کامیاب طالب علم کی پہچان صرف ذہانت سے نہیں بلکہ اچھے اخلاق، بہترین کردار، نظم و ضبط اور اساتذہ کے احترام سے ہوتی ہے۔ انہوں نے طلبہ کو تلقین کی کہ وہ دورانِ تدریس مکمل توجہ سے سبق سنیں، غیر ضروری گفتگو سے اجتناب کریں، سوالات ادب کے دائرے میں رہ کر کریں اور اپنی کتابوں و تعلیمی سامان کی حفاظت کریں۔
بعد ازاں مفتی محمد توفیق صاحب اشاعتی مدرس مدرسہ ہذا نے جامع اور تربیتی خطاب فرمایا۔ انہوں نے قرآنِ کریم کی پہلی وحی ﴿اقْرَأْ﴾ کا حوالہ دیتے ہوئے علم کی اہمیت کو اجاگر کیا اور کہا کہ دینی علوم کے ساتھ ریاضی، انگریزی اور کنڑا جیسے عصری مضامین کی تعلیم بھی موجودہ دور کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے طلباء کو اساتذہ، والدین، کتاب، قلم، کاپی، درس گاہ اور مسجد کے ادب کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا کہ ادب ہی علم کی برکت اور کامیابی کی بنیاد ہے۔ انہوں نے طلباء کو باقاعدگی سے مطالعہ کرنے، سبق پہلے سے پڑھ کر تیار کرنے، لکھنے کی مشق کرنے اور سیکھی ہوئی زبانوں کو استعمال کرنے کی عادت اپنانے کی تاکید کی۔
تقاریر کے بعد طلباء و طالبات میں ورک شیٹس اور ورک بکس تقسیم کی گئیں۔ تعلیمی مواد حاصل کرتے وقت طلباء و طالبات کے چہروں پر خوشی اور جوش نمایاں تھا۔ طلباء و طالبات نے عزم کیا کہ وہ ان تعلیمی وسائل سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے اپنی تعلیمی کارکردگی کو مزید بہتر بنائیں گے۔
پروگرام کے اختتام پر مفتی محمد توفیق صاحب اشاعتی نے خصوصی دعا فرمائی۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ تمام طلبہ کو نافع علم، حفظِ قرآن میں استقامت، دینی و عصری علوم میں کامیابی، بہترین اخلاق اور مضبوط کردار عطا فرمائے۔
آخر میں طلباء و طالبات اور اساتذۂ کرام نے عظیم پریم جی فاؤنڈیشن اور محکمۂ اقلیتی بہبود کا دلی شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی ایسے تعلیمی و تربیتی پروگرام منعقد ہوتے رہیں گے۔
نامہ نگار: رہبر تماپوری
Comments
Post a Comment