خبر پہ شوشہ"رشوت خوری"۔ - کے این واصف۔


خبر پہ شوشہ
"رشوت خوری"۔ - 
کے این واصف۔  

سرکاری محکمون میں کرپشن کی بیماری لگتا ہے اب ان کے رگ و ریشوں میں پھیل گئی ہے۔ اس مرض میں سنتری سے منتری تک سب مبتلا ہیں۔ کرپشن کی اس بھیانک صوتحال پر روزنامہ سیاست نے جمعرات کے روز ایک ایڈیٹوریل لکھا جس میں سرکاری عہدیداران کی کروڑہا روپئے رشوت خوری کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں، اور سماج کے بہتری کے لیے اس کی فوری روک تھام کے اقدام پر زور دیا گیا۔ 
معروف مزاح نگار نریندر لوتھر آئی اے ایس جب بلدیہ حیدرآباد کے اسپیشل آفیسر ہوا کرتے تھے تو انھون نے اپنے ایک مضمون میں محکمہ بلدیہ میں رشوت خوری پر ایک جملہ لکھا تھا “بلدیہ کھایا پیا چل دیا، کچھ دیا تو کردیا، نئین دیا تو بل دیا”۔ 
لگتا ہے “کچھ دیا تو کردیا، نئین دیا تو بل دیا” کا یہ فامولا اب سارے سرکاری محکمون میں پھیل گیا ہے۔ اس طرح ہمارا سماج ایک “رشوت خورسماج” میں تبدیل ہوتا جا رہا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔