طلبہ پر لاٹھی چارج جانچ کے گھیرے میں۔۔ بقلم : سید فاروق احمد قادری۔


طلبہ پر لاٹھی چارج جانچ کے گھیرے میں۔
بقلم : سید فاروق احمد قادری۔
(مصنف، صحافی و سماجی تجزیہ نگار)

جنتر منتر کے طلبہ احتجاج نے کئی اہم سوالات کھڑے کر دیے
21 جولائی 2026 کو روزنامہ صدائے مہاراشٹر، شولاپور میں شائع ہونے والے اپنے کالم میں ہم نے یہ بنیادی سوال اٹھایا تھا کہ پرامن احتجاج کرنے والے طلبہ پر لاٹھی چارج، آنسو گیس اور طاقت کے استعمال کا حکم آخر کس نے دیا؟ آج سامنے آنے والی مختلف ویڈیوز، عینی شاہدین کے بیانات اور عوامی ردِعمل نے اس سوال کو مزید اہم بنا دیا ہے۔
جنتر منتر پر ملک بھر سے آئے ہوئے نوجوان اپنے مستقبل، شفاف امتحانی نظام اور انصاف کے مطالبے کے لیے پرامن احتجاج کر رہے تھے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کی مکمل تحقیقات ہوں، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے اور حکومت نوجوانوں کے مستقبل کے تحفظ کی یقین دہانی کرائے۔ کئی طلبہ نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وزیرِ تعلیم اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے استعفیٰ دیں۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ احتجاج کے دوران طاقت کے استعمال کی جو تصاویر اور ویڈیوز سامنے آئیں، انہوں نے پورے ملک کو سوچنے پر مجبور کر دیا۔ مختلف اطلاعات اور ویڈیوز میں ایسے افراد بھی دکھائی دیے جو پولیس کی وردی میں تھے، مگر ان کی شناخت کے بارے میں سوالات اٹھائے گئے۔ بعض افراد نے مختلف دعوے کیے، لیکن ان دعوؤں کی سرکاری یا عدالتی تصدیق ابھی تک سامنے نہیں آئی۔ اس لیے کسی فرد یا تنظیم پر الزام عائد کرنا مناسب نہیں، البتہ اس پورے معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات وقت کی اہم ضرورت ہے۔
احتجاج کے دوران متعدد طلبہ اور طالبات کے زخمی ہونے کی خبریں سامنے آئیں۔ کئی نوجوانوں نے کہا کہ وہ اپنے مستقبل کی خاطر سڑکوں پر آئے تھے، نہ کہ کسی تصادم کے لیے۔ ان کے ہاتھوں میں کتابیں، فائلیں اور اپنے خواب تھے، کوئی ہتھیار نہیں تھا۔ ان کی آواز تھی کہ "ہمیں انصاف چاہیے، تشدد نہیں۔"
اس واقعے کی گونج پارلیمنٹ تک بھی پہنچی۔ قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے اس معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے جواب طلب کیا۔ اسدالدین اویسی، چندر شیکھر آزاد، سنجے سنگھ اور دیگر اپوزیشن ارکان نے بھی طلبہ کے ساتھ ہونے والے مبینہ ناروا سلوک پر سوالات اٹھائے اور مطالبہ کیا کہ نوجوانوں کے مستقبل سے جڑے اس حساس معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔ مختلف میڈیا رپورٹس کے مطابق راہل گاندھی احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے بھی پہنچے اور بعد میں انہیں مختصر وقت کے لیے حراست میں لیا گیا، تاہم بعد میں رہا کر دیا گیا۔
یہ معاملہ کسی ایک جماعت یا ایک حکومت کا نہیں، بلکہ ملک کے مستقبل کا ہے۔ اگر نوجوان اپنے مستقبل کے تحفظ کے لیے سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہو جائیں تو یہ پورے نظام کے لیے غور و فکر کا لمحہ ہے۔ حکومت اور طلبہ کے درمیان بات چیت ہی مسائل کا بہترین حل ہے۔ جمہوریت میں اختلافِ رائے کو طاقت سے نہیں بلکہ دلیل، مکالمے اور انصاف سے جواب دیا جاتا ہے۔
آج بھی وہی سوال اپنی پوری اہمیت کے ساتھ موجود ہے جو ہم نے 21 جولائی کے کالم میں اٹھایا تھا: پرامن طلبہ پر طاقت کے استعمال کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اگر کہیں قانون کی خلاف ورزی ہوئی ہے تو ذمہ دار کون ہیں؟ اور نوجوانوں کے جائز مطالبات کب پورے کیے جائیں گے؟ ان سوالات کا شفاف اور غیر جانبدارانہ جواب دینا حکومت اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے۔
ہمیں امید ہے کہ حکومت، عدلیہ اور تمام متعلقہ ادارے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیں گے، انصاف کے تقاضے پورے کریں گے اور ملک کے نوجوانوں کا اعتماد بحال کریں گے۔ کیونکہ آج کا طالب علم ہی کل کا سائنس دان، ڈاکٹر، انجینئر، استاد، جج، فوجی، صنعت کار اور ملک کا معمار ہے۔ اس کے مستقبل کا تحفظ دراصل ہندوستان کے مستقبل کا تحفظ ہے۔
قلم سے: سید فاروق احمد قادری
(مصنف، صحافی و سماجی تجزیہ نگار)

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔