میرا تعارف، میرا عزم: قلم سے انقلاب تک! - بذریعہ: محمد فیضان طالب۔
میرا تعارف، میرا عزم: قلم سے انقلاب تک! -
بذریعہ: محمد فیضان طالب۔
(بانی، تحریکِ انقلاب)
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
کسی بھی معاشرے میں تبدیلی کا آغاز ایک سوچ، ایک احساس اور ایک مضبوط ارادے سے ہوتا ہے۔ آج تحریکِ انقلاب کے اس معزز پلیٹ فارم سے، میں اپنے تمام قارئین، رفقاء اور نوجوان ساتھیوں کے سامنے اپنا تعارف، اپنا خاندانی پس منظر اور اس تحریک کے قیام کا اصل مقصد پیش کر رہا ہوں، تاکہ آپ جان سکیں کہ اس سفر کی ابتدا کہاں سے ہوئی اور ہماری منزل کیا ہے۔
میرا تعلق ایک معزز، محنتی اور بااصول خاندان سے ہے اور میرے والد صاحب پیشے سے ایک ٹیلر ہیں، جنہوں نے ہمیشہ رزقِ حلال اور اعلیٰ تربیت کو ہماری زندگی کا اثاثہ بنایا۔ ہم کل پانچ بھائی اور ایک بہن ہیں، جس میں میری دیدی دوسرے نمبر پر ہیں، جبکہ میرا نمبر بھائیوں میں چوتھا اور سب بہن بھائیوں میں پانچواں ہے۔ اللہ کے فضل سے ہمارا پورا خاندان ایک مربوط اور خوبصورت رشتے میں بندھا ہوا ہے، جہاں بڑے بھائی سول ڈیپارٹمنٹ میں ہیں، دوسرے بھائی حافظِ قرآن ہو کر ابّو کے ساتھ کاروبار سنبھالتے ہیں، تیسرے بھائی انٹیریئر ڈیزائنر ہیں اور سب سے چھوٹا بھائی ابھی پی یو سی کا طالب علم ہے۔
میری پیدائش 14 جولائی 2006 کو ہوئی۔ شعور کی منزلوں کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے، میں نے اپنی ابتدائی تعلیم پہلی سے ساتویں جماعت تک ابوالکلام آزاد اسکول سے حاصل کی، جہاں کی علمی فضا نے میرے اندر سیکھنے کا جذبہ پیدا کیا۔ اس کے بعد میرا اگلا تعلیمی سفر نیشنل ہائی اسکول سے شروع ہوا، جہاں اردو میڈیم سے تعلیم حاصل کرنے کے دوران مجھے زبان و ادب سے گہرا عشق ہو گیا۔ اسکول کے دور میں تعلیمی و تہذیبی مقابلوں میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے کا جو سلسلہ شروع ہوا، اس نے مجھے ہمیشہ آگے بڑھنے کا حوصلہ دیا۔ سید باری پی یو کالج آف سائنس سے پی یو مکمل کرنے کے بعد، طبی میدان میں آگے بڑھنے کے غیر متزلزل عزم کے ساتھ میں نے سال 2024 اور پھر محنت جاری رکھتے ہوئے 2025 میں دوبارہ نیٹ کا امتحان دیا۔ مسلسل جدوجہد کے بعد، آج میں بنگلور کے ایک نامور میڈیکل کالج میں فزیو تھراپی کی تعلیم حاصل کر رہا ہوں۔
بنگلور میں، میں ایک ہاسٹل میں مقیم ہوں جہاں کے قوانین کافی سخت ہیں، جس کی وجہ سے مجھے ہاسٹل سے باہر جانے کی آزادی نہیں ہے اور ہمیں صرف شام پانچ سے چھ بجے تک یعنی صرف ایک گھنٹہ باہر جانے کی اجازت ملتی ہے۔ ہاسٹل کی ان چار دیواریوں کی پابندی میرے جسم کو تو محدود کر سکتی تھی، لیکن میری سوچ، میری تحقیق اور میرے عزم کو قید نہیں کر سکتی تھی۔ باہر کی دنیا سے کٹے ہونے کے باوجود میں نے وقت کا بہترین استعمال کیا اور سیاست، قانون اور نوجوانوں کے لیے کریئر گائیڈلائنز پر گہری ریسرچ شروع کی۔ جب میں نے دیکھا کہ میں جسمانی طور پر باہر جا کر سماجی کاموں میں زیادہ دوڑ دھوپ نہیں کر سکتا، تو میں نے پختہ ارادہ کیا کہ اگر میں خود باہر نہیں جا سکتا، تو کیا ہوا؟ میرا قلم تو سرحدوں اور دیواروں کو توڑ سکتا ہے، میں قلم کے ذریعے ہی انقلاب لاؤں گا۔ اسی نظریے کے تحت میں نے لکھنا شروع کیا اور 26 جنوری 2026 کو میرا پہلا مضمون پبلش ہوا، اور جب قارئین نے اسے بے حد پسند کیا، میری حوصلہ افزائی کی اور سراہا، تو میرے اندر ایک نیا جوش پیدا ہوا اور میں نے مزید دگنی محنت شروع کر دی، جس کا نتیجہ آج آپ سب کے سامنے ہے۔
نوجوانوں کے اسی تعاون اور معاشرے کو بدلنے کے جذبے کے تحت میں نے باقاعدہ تحریکِ انقلاب کی بنیاد رکھی، تاکہ اس تحریک کے ذریعے نوجوانوں کے شعور کو بیدار کیا جا سکے۔ میرا یہ علمی سفر آپ سب کی محبتوں کا نتیجہ ہے، اس لیے میں اپنے تمام پڑھنے والوں، دوستوں اور تحریکِ انقلاب کے تمام اراکین کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے مجھ جیسے ایک طالب علم کی اتنی پذیرائی کی اور میری حوصلہ افزائی فرمائی۔ میری آپ سب سے گزارش ہے کہ میرے لیے دعا فرمائیں کہ یا اللہ! مجھے ہمیشہ حق اور سچ لکھنے کی توفیق عطا فرما، میرے قلم میں وہ طاقت دے جو معاشرے کی اصلاح کر سکے اور اس قلم کے ذریعے واقعی ایک مثبت اور علمی انقلاب برپا ہو سکے۔ آمین۔
تحریکِ انقلاب — قلم سے انقلاب تک!
Comments
Post a Comment