زبانوں کوبرتناہی سماجی زندگی ہے:محمدیوسف رحیم بیدری مندکنلی کے سرکاری اردو ہائیرپرائمری اسکول کے طلبہ میں یارانِ ادب بیدر نے تعلیمی اشیاء تقسیم کیں


بیدر۔ 18/جولائی (راست) بیدر کی قدیم تعلیمی، ادبی اور ثقافتی تنظیم یاران ِ ادب کے زیراہتمام آج ہفتہ 18/جولائی 2026؁ء کو بیدر شہر سے 22کیلومیٹر کی دوری پر واقع دیہات مندکنلی کے سرکاری اردو ہائیرپرائمری اسکول میں زیرتعلیم طلبہ کیلئے تعلیمی اشیاء کی مفت تقسیم ایک تقریب کے ذریعہ عمل میں آئی۔ جس کی صدارت میرمعلم جناب محمد بدیع الدین نے کی۔ جب کہ مہمانان ِ خصوصی میں محمدیوسف رحیم بیدری سکریڑی یارانِ ادب، جناب حیدرعلی سوداگر ای سی او بیدر تعلقہ، جناب اسدسلیم مؤظف صدر مدرس فیض پورہ بیدر، جناب شیوپتر صدرمعلم سرکاری کنڑا ہائیرپرائمری اسکول مندکنلی اور نوجوان صحافی جناب عبدالقدیر لشکری شامل رہے۔ تقریب کے مہمان جناب محمدیوسف رحیم بیدری نے اپنے خطاب میں کہاکہ ”سبھی ڈاکٹر نہیں بن سکتے۔ لہٰذا کچھ طلبہ انسانوں کے بجائے جانوروں کے ڈاکٹر بننا چاہیے۔ جانوروں کو زبان نہیں ہوتی۔ ایسے بے زبانوں کی خدمت کرکے جنت حاصل کی جاسکتی ہے۔ موصوف نے زور دے کر کہاکہ ہمارے طلبہ وطالبات کوآج اردو، کنڑا، دکنی، ہندی، انگریزی اور ف کی گھریلو زبان اس طرح 6زبانیں آتی ہیں لیکن اگر ہمارے طلبہ کو 18زبانیں آجائیں تو ہم اپنے وطن بھارت کو پوری دنیا میں صف ِ اول کادیش بناسکتے ہیں۔انھوں نے ریاستی زبان کنڑی کو زندگی میں برتنے پر زور دیااور کہاکہ زبانوں کو برتنا ہی زبانوں کاصوتی وتابندہ حسن اورزندگی ہے۔ جناب بیدری نے بتایاکہ ایک دوسرے کیلئے دِلوں میں محبت نہ ہونے سے بھی بارش کا سلسلہ رک جاتاہے لہٰذا ایک دوسرے انسان اور چرندپرند اور جانوروں سے محبت کرتے ہوئے خوب خوب بارش کے لئے تمام طلبہ دعا کریں۔ انھوں نے اس موقع پر مندکنلی سرکاری اُردو اسکول کے طلبہ کے بارے میں لکھی ہوئی اپنی تازہ نظم سنائی، جس کو طلبہ نے بآوازِ بلند سراہا، جس کے چند اشعار پیش خدمت ہیں ؎
ہیں اچھے سے طلبہ مدکنلی کے 
ہیں شوقین لیکن ذرا پھلی کے 
انھیں لکھنے پڑھنے سے رغبت بہت 
ہے آپس میں دیکھیں محبت بہت  
ہیں ٹیچر میں جو صدر ٹیچر بدیع 
یہاں سارے ٹیچر ہیں ان کے مطیع 
تمہارے ہیں استاد حیدرعلی 
مگر تم نے ہے ان کو دیکھاکبھی؟
پڑھاتے تھے نرنہ میں عبدالسلیم 
صحافت کے ہیں لشکری ایک بھیم 
نظر آئے ہیں ہم اچانک تمہیں 
یہ انعام سارا مبارک تمہیں 
تمام طلبہ وطالبات میں یاران ِ ادب بیدر کی جانب سے نوٹ بکس، ٹفن باکس، پانی رکھنے کی بوتل،قلم، پنسل، ربر، پشارپنر، پاؤچ اور کاپیوں کو چسپاں کرنے والا کور تقسیم کیاگیا۔ اس موقع پر محکمہ جاتی مہمان جناب حیدرعلی سوداگر ای سی او تعلقہ بیدر نے اپنے خطاب میں بہت ساری تعلیمی، ادبی، اخلاقی اوردینی باتیں بتاتے ہوئے طلبہ کی عمدہ تربیت کی اور یاران ِ ادب بیدر کی جانب سے تعلیمی اشیاء کی مفت تقسیم کے کام کو انھوں نے سراہا۔ اور اس بات کی پیشین گوئی کی کہ حکومت سرکاری اسکولوں میں بہتری لارہی ہے اور وہ دن بھی دور نہیں جب لوگ اپنے بچوں کوسرکاری اسکولوں میں شریک کرانے کے لئے لائن میں کھڑے ہوں گے۔ جناب محمد اسد سلیم نے اپنی مختصرتقریر میں طلبہ کو جہاں نوٹ بکس کی حفاظت کرنے کوکہاوہیں بتایاکہ سابق صدرجمہوریہ ہنداور میزائل مین جناب اے پی جے عبدالکلام سائنس دان ہونے کے علاوہ شاعر بھی تھے۔ ان کی شاعری کااُردو ترجمہ بنگلور کے ڈاکٹر ماہر منصور نے کیاہے۔نوٹ بکس کوپھاڑکر چورپولیس اور چٹھی نہیں کھیلنا چاہیے۔ نوجوان صحافی جناب عبدالقدیر لشکری نے طلبہ کیلئے کام کی باتیں پیش کرتے ہوئے کہاکہ ”طلبہ موبائل فون سے بچیں۔ موبائل فون کے زیادہ استعمال سے بچوں کی صحت پر برا اثر پڑرہاہے“جناب محمدیوسف رحیم بیدری نے اپنی کتابوں کاایک ایک نسخہ صدر معلم بدیع الدین،اور مددگار معلم جناب محمد مقیب کودیاجب کہ محترمہ رمابائی پی ٹی ٹیچرکو انھوں نے کنڑاشعری مجموعہ پیش کیا۔اور اپنی دکنی شاعری کادوسرا شعری مجموعہ ”دکنی دوم“اسکول کی لائبریری کے لئے تحفہ میں دیا۔تقریب کی نظامت مددگار معلم جناب محمدمقیب نے انتہائی سوجھ بوجھ اور علمی بلندی کو استعمال کرتے ہوئے کی۔جناب صدر محمد بدیع الدین کے اظہار تشکر پر تقریب اپنے اختتام کوپہنچی۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔