سعودی عرب اور امریکہ نے جوہری توانائی کے معاہدے پر دستخط کر دیے گئے۔


کے ای واصف : سعودی عرب کے ساتھ صدر ٹرمپ نے پچھلے سال سیول نیوکلئیر معاہدے کی منظوری دی تھی۔ اسی معاہدے کے تحت سعودی وزارت توانائی اور امریکہ نے بدھ کو جوہری توانائی کے پر امن استعمال کے لیے تعاون کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔
سعودی پریس ایجنسی “ایس پی اے” کے مطابق بیان میں کہا گیا یہ معاہدہ دونوں دوست ملکوں کے درمیان تاریخی سٹریٹیجک شراکت داری کے فریم ورک میں آتا ہے، یہ پیش رفت گزشتہ سال نومبر میں دورہ امریکہ کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے جوہری توانائی سے متعلق دو طرفہ مذاکرات کی کامیاب تکمیل کے اعلان کے بعد سامنے آئی تھی۔ 
یہ ایگریمنٹ جسے ’123 معاہدے‘ کے نام سے جانا جاتا ہے واشنگٹن کے لیے کسی دوسرے ملک کے ساتھ جوہری تعاون میں شمولیت کے لیے ضروری ہے اس پر سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان اور امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے باضابطہ طور پر دستخط کیے۔ اسے ٹرمپ انتظامیہ نے (بائیلٹرل سیف گارڈ ایگریمنٹ) قرار دیا۔
سعودی وزارت نے بیان میں کہا اس معاہدے کا مقصد جوہری توانائی کے پر امن استعمال کے حوالے سے تعاون کو فروغ دینا ہے۔
مہارت، نالج اور ٹیکنالوجی کے تبادلے کو آسان بنانے کے ساتھ اس کا مقصد ایٹمی سیفٹی، ایٹمی سکیورٹی اور عدم پھیلائو کے لیے اعلی ترین بین الاقوامی معیارات کو یقینی بنانے کی کوششوں میں اپنا حصہ ڈالتا بھی ہے۔
 یہ معاہدہ دونوں ملکوں کے درمیان توانائی اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط اور پائیدار ترقی کی سپورٹ کے لیے دونوں ملکوں کے عزم کی بھی عکاسی کرتا ہے۔
اس سے قبل امریکی خبر رساں ادارے “اے پی” نے بتایا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ ایک اہم جوہری معاہدے کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت مملکت کو اپنے سویلین جوہری پروگرام کے لیے یورینیم افزودگی کی صلاحیت حاصل ہونے کا امکان ہے۔

Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔