افسانہ - اب ایسی چھاؤں کہاں - سعید پٹیل جلگاؤں۔


افسانہ - 
اب ایسی چھاؤں کہاں - 
سعید پٹیل جلگاؤں۔ 

اچانک حالات نے کروٹ بدلی اور جاگیردار گھرانے کی بیٹی قمر جہاں پر اپنے تین بیٹوں اور ایک بیٹی کی پرورش کی ذمہ داری آن پڑی۔ سسرال سے میکے آنا، پھر شوہر کی وفات ،ان سب نے اسے مزید غریب اور بے سہارا بنا دیا۔ ذریعۂ معاش کے لیے اس نے کئی جگہ جدوجہد کی۔ کچھ عرصے بعد جب بڑے بیٹے کو ملازمت ملی تو اس کے چہرے پر خوشی کی چمک نمایاں ہوگئی، مگر ابھی زندگی کا ایک طویل سفر باقی تھا۔ یہ اُس دور کی بات ہے جب زیادہ تر لوگ کسان ہوا کرتے تھے۔ گھروں میں اناج تو موجود ہوتا تھا، مگر نقد رقم کی شدید کمی رہتی تھی۔ بڑے بڑے زمیندار بھی اکثر ضرورت کے وقت دولت مندوں سے قرض لیا کرتے تھے۔ جب قمر جہاں اپنے بچوں کو لے کر شہر کی طرف آئی تو اپنی ایک قریبی رشتہ دار خاتون کے پاس پالی ہوئی ایک بکری چھوڑ آئی۔ اس کے دل میں یہ امید تھی کہ اگر کبھی ضرورت پڑی تو بکری فروخت کرکے کچھ مالی مدد حاصل ہو جائے گی۔ شہر کے قریب ایک گاؤں میں رہائش اختیار کرنے کے بعد بھی اس کی غربت ختم نہ ہوئی۔ غربت گویا اس کے ساتھ ساتھ چلتی رہی۔ اُس زمانے میں لوگ لکڑیاں خرید کر چولہے پر کھانا پکاتے تھے، مگر غریب عورتیں دن بھر کھیتوں میں مزدوری کرنے کے بعد شام کو واپسی پر سر پر لکڑیوں کا گٹھا اٹھا کر لاتیں اور انہی سے گھر کا چولہا جلتا۔ قمر جہاں بھی روزانہ مزدوری کے لیے جاتی۔ واپسی پر کبھی لکڑیاں ساتھ لے آتی، اور اگر کام نہ ملتا تو دوسری عورتوں کے ساتھ جنگل جا کر صرف چولہے کے لیے لکڑیاں جمع کرتی۔ غربت قدم قدم پر اس کی ساتھی تھی۔ مگر اس کی ایک ہی فکر تھی ،کسی طرح اس کی اولاد کامیاب ہو جائے۔
یوں ہی محنت و مشقت کے دن گزر رہے تھے کہ ایک وقت ایسا آیا جب مجبوری نے اسے گاؤں جا کر بکری فروخت کرنے پر مجبور کر دیا۔ وہ اپنے آٹھویں جماعت میں زیرِ تعلیم چھوٹے بیٹے کو ساتھ لے کر گاؤں روانہ ہوئی۔ بہت کوشش کی کہ بکری وہیں اچھے داموں میں فروخت ہو جائے، مگر جیسا کہ کہا جاتا ہے: غریب کی مجبوری سے ہر کوئی فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔
آخر اس نے فیصلہ کیا کہ بکری کو شہر لے جا کر فروخت کرنا زیادہ مناسب ہوگا۔ گرمی کا موسم شروع ہو چکا تھا۔ نمازِ فجر کے بعد، آفتاب طلوع ہونے سے پہلے، صبح کی ٹھنڈی اور خوشگوار ہوا میں ماں اور بیٹے نے بکری کے گلے میں رسی باندھی۔ بکری کے دو ماہ کے میمنے کو گود میں اٹھایا اور شہر کی طرف چل پڑے۔ سفر چالیس کلومیٹر سے زائد تھا۔ صبح کی تازگی میں کچے راستے کا کچھ سفر آسانی سے طے ہوگیا۔ پھر آہستہ آہستہ سورج کی تپش بڑھنے لگی۔ بکری ساتھ ساتھ چلتی رہی اور راستے کے کنارے گھاس بھی چرتی جاتی۔ مگر اس کے بچے کو ماں اور بیٹا باری باری گود میں اٹھاتے اور آگے بڑھتے رہے۔ کبھی دونوں تھک جاتے تو کچھ دیر رُک جاتے، پھر نئی ہمت کے ساتھ چل پڑتے۔ راستے میں کسی گاؤں سے گزرتے تو کسی جھونپڑی نما ہوٹل سے پانی پی لیتے۔ پاس پیسے نہیں تھے کہ کچھ خرید کر ناشتہ ہی کر لیتے۔
راستے میں ایک ندی آئی جہاں بکری کو پانی پلایا گیا۔ میمنے نے ماں کا دودھ پیا۔ پھر سفر دوبارہ شروع ہوا۔
کبھی بچہ گود میں ہوتا، کبھی زمین پر چلنے دیا جاتا۔ جب وہ ادھر اُدھر بھٹکنے لگتا تو دوبارہ گود میں اٹھا لیا جاتا۔ سورج ڈھلنے لگا تھا۔ زرد ہوتی روشنی شام میں بدل رہی تھی۔ سخت تھکا دینے والا سفر تین پڑاؤ پار کرکے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا تھا۔ ماں اور بیٹے کی زبان پر نہ تھکن کا شکوہ تھا، نہ کسی سے شکایت۔ چہروں پر صرف صبر، سکون اور اطمینان تھا۔ آخر شام کی سیاہی گہری ہو چکی تھی جب دونوں ماں بیٹے، بکری اور میمنے کے ساتھ خیریت سے گھر پہنچ گئے۔ ابھی پیدل سفر کی تھکن سے تھوڑا آرام ہی ملا تھا کہ بکری اور میمنے کو فروخت کرنے بازار جانا پڑا۔ وہاں قمر جہاں نے بکری اور اس کے میمنے کو فروخت کرکے اپنی فوری ضرورت پوری کی۔۔۔۔اور پھر ایک نئ ضرورت کو پورا کرنے کےلیۓ تازہ دم نئ محنت سے اپنے آپ کو تیار کرلیتی تھیں۔یہ سفر اس کے دنیا سے کوچ کرجانے تک جاری رہا۔۔۔۔۔اس کی زندگی کی ہر قربانی اس کی اولاد کےلیۓ صبر استقامت کی گہری چھاؤں تھی۔۔۔۔جو ان کے ساتھ سایہ فگن رہتی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔