رئیس فتح آبادیؒ — ایک روشن ستارہ - سید فاروق احمد قادری۔


رئیس فتح آبادیؒ — ایک روشن ستارہ - 
سید فاروق احمد قادری۔ 

زندگی میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو اپنے کردار، علم، اخلاص اور خدمت کے باعث اپنے پیچھے ایسی روشن یادیں چھوڑ جاتی ہیں جو مدتوں دلوں میں زندہ رہتی ہیں۔ مرحوم رئیس فتح آبادیؒ بھی انہی باوقار شخصیات میں سے ایک تھے۔ انہوں نے بحیثیتِ معلم، صحافی، کرکٹ کے بہترین کھلاڑی اور ایک مخلص انسان اپنی زندگی کو معاشرے کی خدمت کے لیے وقف کر دیا۔
مرحوم رئیس فتح آبادیؒ کا تعلق فتح آباد، تعلقہ دھارور، ضلع بیڑ (مہاراشٹر) سے تھا، جو میرا بھی آبائی وطن ہے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے وطن میں حاصل کی اور دسویں جماعت تک یہیں زیرِ تعلیم رہے۔ بعد ازاں اعلیٰ تعلیم کے لیے بیڑ تشریف لے گئے، جہاں گیارہویں جماعت سے لے کر ایم اے تک تعلیم حاصل کی۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں پر انہیں یکساں عبور حاصل تھا۔
تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ اندرا گاندھی میموریل اردو ہائی اسکول سے وابستہ ہوئے اور ایک مخلص، بااخلاق اور فرض شناس معلم کی حیثیت سے اپنی خدمات انجام دیں۔ ان کے حسنِ اخلاق، سادگی اور طلبہ سے محبت نے انہیں ہر دل عزیز بنا دیا تھا۔ ان کے شاگرد آج بھی انہیں احترام سے یاد کرتے ہیں۔
صحافت ان کی شخصیت کا دوسرا نمایاں پہلو تھا۔ انہوں نے مختلف اخبارات، خصوصاً ایشیا ایکسپریس، اورنگ آباد کے لیے خبریں اور مضامین تحریر کیے۔ ان کی صحافت سچائی، دیانت داری اور عوامی مسائل کی ترجمانی پر مبنی تھی۔ وہ قلم کو خدمتِ خلق کا ذریعہ سمجھتے تھے، نہ کہ شہرت حاصل کرنے کا وسیلہ۔
کرکٹ مرحوم رئیس فتح آبادیؒ کی شخصیت کا ایک روشن باب تھا۔ انہوں نے ضلع، مراٹھواڑہ اور مہاراشٹر کی سطح پر اپنی بہترین کارکردگی کے باعث متعدد اعزازات اور انعامات حاصل کیے۔ کھیل کے میدان میں ان کی صلاحیتوں کو ہمیشہ سراہا گیا، لیکن ان کامیابیوں کے باوجود ان کے مزاج میں کبھی غرور یا تکبر پیدا نہیں ہوا۔ وہ نہایت منکسر المزاج، خوش اخلاق اور نوجوان کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرنے والے انسان تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ اصل کامیابی انعامات میں نہیں بلکہ اچھے کردار، محنت اور خدمتِ خلق میں ہے۔
مرحوم رئیس فتح آبادیؒ کے احباب اور رفقائے کار کا حلقہ نہایت وسیع تھا غلام ساقب ادب اور شاعر بھی ہیں مرحوم کو ترقی کی راہ ہموار کرنے میں نمایاں کارنامہ انجام دیا ان کے چچا زاد بھائی ڈاکٹر سراج آرزو، جو اورنگ آباد ٹائمز سے وابستہ ممتاز صحافی اور اہلِ قلم ہیں، ہمیشہ ان کے ساتھ رہے۔ اسی طرح جاوید صاحب، جو روزنامہ رہبر کے نامہ نگار ہیں، اور دیگر صحافی دوست بھی ان کے مخلص ساتھیوں میں شامل تھے۔ ان سب کے تعلقات صرف صحافت تک محدود نہیں تھے بلکہ باہمی محبت، خلوص اور بھائی چارے پر قائم تھے۔
میرا مرحوم رئیس فتح آبادیؒ سے تعلق ہم وطنی، سلام و دعا اور باہمی احترام کا تھا۔ اگرچہ میری ان سے ملاقاتیں زیادہ نہیں ہوئیں، کیونکہ میں غیر ضروری روابط سے ہمیشہ گریز کرتا ہوں، لیکن‌ میرے ارٹیکل ایشیا ایکسپریس اور تہلکہ روزنامہ ناندیڑ میں برابر شائع کرتے تھے ان کے اخلاق اور خلوص سے ہمیشہ متاثر رہا۔ ان کے انتقال کے بعد ان کے انہی مخلص احباب سے میرا رابطہ مضبوط ہوا، اور انہوں نے میرے مضامین کو مختلف اخبارات تک پہنچانے اور شائع کرانے میں بھرپور تعاون کیا۔ میں ان سب کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔
22 اگست 2022 کو مرحوم رئیس فتح آبادیؒ کا اچانک انتقال تعلیمی، صحافتی اور کھیلوں کے حلقوں کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان تھا۔ ان کی رحلت کے بعد ان کی اہلیہ اسماء رئیس فتح آبادی نے صبر و استقامت کی روشن مثال قائم کی۔ اندرا گاندھی میموریل اردو ہائی اسکول کی انتظامیہ، خصوصاً اسکول کے سیکریٹری کی خصوصی کوششوں سے انہیں اسی ادارے میں تدریسی خدمات انجام دینے کا موقع ملا۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ صحافت کے میدان میں بھی سرگرم ہیں اور اپنے مرحوم شوہر کے مشن کو خلوص اور دیانت داری کے ساتھ آگے بڑھا رہی ہیں۔
مرحوم رئیس فتح آبادیؒ اگرچہ آج ہمارے درمیان موجود نہیں، مگر ان کی علمی، تعلیمی، صحافتی اور کھیلوں کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ وہ واقعی ایک روشن ستارہ تھے، جس کی روشنی آنے والی نسلوں کے لیے بھی مشعلِ راہ بنی رہے گی۔
اللہ تعالیٰ مرحوم رئیس فتح آبادیؒ کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔