ایس آئی آر مہم کی مدت میں ایک ماہ کی توسیع کی جائے، بارش کے موسم میں گھر گھر سروے مشکل: شہریانِ بیدر۔
بیدر، 2 جولائی (نامہ نگار):ریاست کرناٹک میں الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) مہم کا آغاز ہو چکا ہے، جس کے تحت متعلقہ بوتھ لیول آفیسرس (بی ایل اوز) گھر گھر پہنچ کر اہل رائے دہندگان کو فارم فراہم کر رہے ہیں اور مطلوبہ دستاویزات حاصل کرنے کا عمل جاری ہے۔ اس دوران ضلع بیدر کے مختلف علاقوں کے شہریوں نے مہم کی مقررہ مدت، فارم کی خانہ پُری اور بارش کے موسم کے پیش نظر کئی اہم خدشات کا اظہار کرتے ہوئے الیکشن کمیشن سے مہم کی مدت میں توسیع کا مطالبہ کیا ہے۔
شہریان کا کہنا ہے کہ بڑی تعداد میں رائے دہندگان اس بات کو لے کر تذبذب کا شکار ہیں کہ ایس آئی آر فارم کنڑ زبان میں پُر کیا جائے یا انگریزی زبان میں۔ متعدد افراد کو فارم کی خانہ پُری اور مطلوبہ دستاویزات کے بارے میں مکمل معلومات حاصل نہیں ہیں، جس کی وجہ سے غیر ضروری پریشانی پیدا ہو رہی ہے۔ عوام نے مطالبہ کیا کہ اس سلسلے میں مزید واضح رہنمائی فراہم کی جائے تاکہ ہر ووٹر آسانی کے ساتھ درست طریقے سے فارم پُر کر سکے۔
شہریوں نے مزید کہا کہ اس وقت بارش کا موسم جاری ہے جبکہ پارلیمانی حلقہ بیدر رقبے کے اعتبار سے کافی وسیع ہے۔ دور دراز دیہی علاقوں میں مسلسل بارش اور خراب سڑکوں کی وجہ سے ہر گھر تک بی ایل اوز کی بروقت رسائی آسان نہیں۔ اسی طرح بہت سے رائے دہندگان بھی مختلف وجوہات کی بنا پر مقررہ مدت میں فارم جمع کرانے میں دشواری محسوس کر سکتے ہیں۔
شہریانِ بیدر کا کہنا ہے کہ ایس آئی آر مہم کا بنیادی مقصد ووٹر فہرست کو درست، شفاف اور تازہ معلومات کے مطابق مرتب کرنا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ہر اہل رائے دہندہ کو مساوی موقع فراہم کیا جائے۔ اگر مقررہ مدت میں جلد بازی کی گئی تو بعض اہل ووٹر نظرثانی کے عمل سے محروم رہ سکتے ہیں، جس سے عوام میں بے چینی پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔
شہریان نے الیکشن کمیشن آف انڈیا سے پُرزور اپیل کی ہے کہ زمینی حقائق، موسمی حالات اور عوامی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایس آئی آر مہم کی آخری تاریخ میں کم از کم ایک ماہ کی توسیع کی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے بی ایل اوز کو بھی اپنی ذمہ داریاں بہتر انداز میں انجام دینے کا موقع ملے گا اور ہر اہل ووٹر تک فارم کی فراہمی اور دستاویزات کی وصولی کا عمل اطمینان بخش طریقے سے مکمل ہو سکے گا۔
شہریان نے امید ظاہر کی کہ الیکشن کمیشن عوامی مفاد اور ووٹر فہرست کی شفاف نظرثانی کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اس مطالبے پر ہمدردانہ غور کرے گا، تاکہ کوئی بھی اہل رائے دہندہ محض وقت کی کمی، موسمی دشواری یا معلومات کے فقدان کی وجہ سے ووٹر فہرست کی نظرثانی کے عمل سے محروم نہ رہے۔
Comments
Post a Comment