سہیل کاکوروی اور ان کی غزل کی تشریح آئینہء تصوف میں - ازقلم : تابش ردولوی۔


سہیل کاکوروی اور ان کی غزل کی تشریح آئینہء تصوف میں - 
ازقلم : تابش ردولوی۔ 
موبائل۔ 9580228003

— سہیل کاکوروی کا تعلق اودھ کی عظیم الشان خانقاہ کاظمیہ کاکوری ضلع لکھنو سے ہے وہ پانی خانقاہ شاہ محمد کاظم‌ قلندر‌ کی دختری اولاد ہیں اور ان کو اپنے وقت کے شیخ کامل شاہ مصطفے حیدر قلندر رح سے نہ صرف بیعت ہے بلکہ ان سے ایک نسبت خاص رہی ہے اور ان کے کلام میں بیساختگی کے ساتھ نیرنگی جہان حسن حقیقی کے حیرت میں ڈال دینے والے پہلو ظاہر ہوتے جو انکے ساتھ مخصوص ہیں اور جن سے ہم پہلے آشنا نہیں ہوے اردو کے تمام بڑے غزل گو شعرا کے کلام میں تصوف کی چاشنی کوئی نئی بات نہیں ہے اور بقول غالب :-
ہر چند ہو مشاہدہ ءحق کی گفتگو
بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر 
سہیل کاکوروی کی شاعری شاہد و معنی صورت کے جلوں سے نکھری ہے جس کے نہ ملنے پر ادھر جگر فدا ہیں اور ادھر جسکی یافت پر سہیل نازاں ہیں جس کا عرفان انکو بفیض مرشدی ہوا وہ خیر سگالی کے حامی ہیں اور حافظ کی زبان میں کہتے نظر آتے ہیں :-
غرض ز مسجد و میخانہ ام وصال شماست 
جز ایں خیال نہ دارم خدا گواہ من است
 میرے پیش نظر انکی ایک انوکھی غزل ہے اور اسی کی تشریح میرا موضوع ہے غزل یہ ہے ، جسمیں ہر ردیف ایک نئے جزبے کی عکاس ہے 
یہ کیا ہوا کہ بیت گئی شام، ہائے رام
سورج چمک رہا ہے سرِ بام، ہائے رام

دل نے تڑپ کے آج تو بے تاب کر دیا
بنسی مدھر بجائی ہے کیا شیام، ہائے رام
مستی میں میرا ہاتھ سرِ بزم تھام کر
ساجن نے مجھ کو کر دیا بدنام، ہائے رام
سرشار ہو گیا ہے، وہ آیا ہے رنگ پر
چھلکا کے توڑ دے گا وہ اب جام، ہائے رام
عالم کو قتل اُس نے شرارت میں کر دیا
مجھ پر لگا دیا ہے وہ الزام، ہائے رام
مانا کہ اُس کی شوخیِ فطرت کا عکس ہے
بے باک کس قدر ہے یہ پیغام، ہائے رام
کلیاں چٹک کے کہتی ہیں ہم سے یہی، "سہیل"
آتا ہے تیرا یارِ خوش اندام، ہائے رام
تصوف کی روشنی میں تشریح
اس غزل میں "ہائے رام" محض حسرت یا تعجب کا اظہار نہیں، بلکہ ایک روحانی پکار ہے۔ یہاں "رام" کو کسی مخصوص مذہبی تناظر تک محدود کرنے کے بجائے محبوبِ حقیقی، یعنی خدا کے استعارے کے طور پر بھی پڑھا جا سکتا ہے۔ یہی صوفیانہ روایت کی وسعت ہے کہ محبوب کے لیے رام، شِیام، اللہ، مولا یا یار جیسے الفاظ سب ایک ہی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
شعر اول
یہ کیا ہوا کہ بیت گئی شام، ہائے رام
سورج چمک رہا ہے سرِ بام، ہائے رام
شام کا گزر جانا دنیاوی زندگی کے اختتام یا غفلت کے خاتمے کی علامت ہے، جبکہ سورج کا سرِ بام چمکنا دل میں معرفت کے طلوع ہونے کی نشانی ہے۔ سالک حیران ہے کہ بظاہر شام ہے مگر باطن میں روشنی پھیل رہی ہے۔پہلے مصرع میں تاسف اور دوسرے مصرع میں تعجب کا احساس ہوتاہے 
شعر دوم
دل نے تڑپ کے آج تو بے تاب کر دیا
بنسی مدھر بجائی ہے کیا شیام، ہائے رام
شیام کی بانسری وہ ازلی ندا ہے جو روح کو اپنے اصل وطن کی یاد دلاتی ہے۔ صوفیہ کے نزدیک یہ "ندائے حق" ہے جسے سن کر دل بے قرار ہو جاتا ہے اور عاشق اپنے محبوب کی تلاش میں نکل کھڑا ہوتا ہے‌ یہاں ہاے رام وجدانی کیفیت کا اشاریہ ہے 
شعر سوم
مستی میں میرا ہاتھ سرِ بزم تھام کر
ساجن نے مجھ کو کر دیا بدنام، ہائے رام
یہاں بدنامی دراصل عشقِ الٰہی کی وہ کیفیت ہے جس میں سالک دنیا والوں کی نگاہ میں دیوانہ معلوم ہوتا ہے۔ محبوبِ حقیقی جب اپنے قرب کا جام پلاتا ہے تو عاشق دنیا کی رسموں سے بے نیاز ہو جاتا ہے اس نظام شعر میں ملامت سے حاصل سرخوشی موجیں لے رہی ہے
شعر چہارم
سرشار ہو گیا ہے، وہ آیا ہے رنگ پر
چھلکا کے توڑ دے گا وہ اب جام، ہائے رام
جام سے مراد انا اور خودی کا ظرف بھی ہے۔ محبوب کی تجلی شدید اتنی ہے کہ عشق کا جام چھلک پڑتا ہے اور نفس کا برتن ٹوٹ جاتا ہے۔ یہی فنا کی منزل ہے جہاں صرف محبوب باقی رہتا ہے اس کی سرشاری اور رنگ پر انا باعثِ فرحت روح ہے اور جام توڑنا البیلی ادا ہے
شعر پنجم
عالم کو قتل اُس نے شرارت میں کر دیا
مجھ پر لگا دیا ہے وہ الزام، ہائے رام
محبوب کی ایک ادا پوری دنیا کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے، مگر الزام عاشق کے حصے میں آتا ہے۔ صوفیانہ معنی میں جب حق کی تجلی ظاہر ہوتی ہے تو پرانی دنیا، پرانا نفس اور پرانی شناخت مٹ جاتی ہے، مگر لوگ اس تبدیلی کا ذمہ دار عاشق کو سمجھتے ہیں۔
شعر ششم
مانا کہ اُس کی شوخیِ فطرت کا عکس ہے
بے باک کس قدر ہے یہ پیغام، ہائے رام
حق کی ہر تجلی حسن، شوخی اور تخلیقی قوت کا آئینہ ہے۔ یہ پیغام اس لیے بے باک ہے کہ وہ عاشق کو ہر خوف، ہر پردے اور ہر مصلحت سے آزاد ہو کر سچائی کی طرف بلاتا ہے اور قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً ۖ قَالُوا أَتَجْعَلُ فِيهَا مَن يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ ۖ قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ کے بیباک اعلان شوخی کا منتہی ہے اور اس بیباک اور حتمی فیصلے پر فرشتوں کے رد عمل کی طرف بھی ذہن جاتا ہے 


شعر ہفتم
کلیاں چٹک کے کہتی ہیں ہم سے یہی، "سہیل"
آتا ہے تیرا یارِ خوش اندام، ہائے رام
کلیوں کا چٹکنا باطنی بہار اور روحانی بیداری کی علامت ہے۔ پوری کائنات عاشق کو خبر دے رہی ہے کہ محبوب کی آمد کا وقت قریب ہے۔ صوفیہ کے نزدیک جب دل پاک ہو جاتا ہے تو کائنات کا ذرہ ذرہ محبوب کی آمد کی بشارت دینے لگتا ہے۔یہاں وہ مسرت وہ سرور رواں ہے جسمیں طلوع آفتاب وصل کے امکانات کی شعاعیں قلب عاشق پر نزول کر رہی ہیں 
مجموعی تاثر
یہ غزل ظاہری طور پر رومانوی فضا رکھتی ہے، لیکن اس کے استعارے—شام، سورج، شیام، بانسری، جام، بدنامی، کلیاں اور یار—صوفیانہ قرأت میں روح کے سفر، عشقِ حقیقی، فنا، بقا اور معرفت کی منازل میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ ردیف "ہائے رام" ہر شعر میں الگ کیفیت پیدا کرتی ہے: کہیں حیرت، کہیں شوق، کہیں درد، کہیں وجد، کہیں التجا اور آخر میں وصال کی خوش خبری۔ یہی کیفیتوں کا تنوع اس غزل کی فنی اور روحانی خوب صورتی ہے۔
سہیل کاکوروی نے شاعری میں کمالات کے جوہر دکھائے ہیں ، معتبر اہل نقد و نظر نے انکی بعض تخلیقات کو کارنامہ مان لیا ہے انہوں نے اردو شاعری کو انمول جواہر سے سجا دیا ہے اور وہ ریکارڈس میں درج ہونے کے ساتھ ساتھ عظیم دانشوروں کی تحریری تصدیق حاصل کر چکی ہیں انکی سولہ کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں وہ اردو ہندی انگریزی اور فارسی زبانوں کے ماہرین میں سے ہیں اور ان چاروں زبانوں میں انکی قابل قدر تصانیف موجود ہیں بارہ کتابیں تو ریختہ ویبسائٹ پر آن لاین ہیں وہ اتحاد اور یکجہتی کے حامی ہیں اور یہ بات واضح ارفع اور اعلی ہے اور اسی باعث اتر پردیش ہندی سنستھان نے ان کو سوہارد کے بڑے ایوارڈ سے ٢٠٢١ میں نوازا لمکا بک آف ریکارڈ میں آم‌ نامہ اور ایشیا بک آف ریکارڈ میں انکی طویل ترین محاوراتی غزل درج ہے وہ نثر بھی بہت پر فکر اور رواں لکھتے ہیں۔ سہیل کاکوروی کی عظمت کا راز آن کی شاعری اور نثر نگاری ہی سے نہیں بلکہ اُن کی شخصیت سے بھی ہویدا ہے۔ آخر میں بس اتنا ہی کہنا کافی ہے کہ :- 
" بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا "
تابش ردولوی

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔