بارش: اللہ تعالیٰ کی رحمت اور انسان کے لئے ہدایت کا پیغام" - ازقلم : افضال احمد ملّی، پوار واڑی مالیگاؤں ضلع ناسک۔


بارش: اللہ تعالیٰ کی رحمت اور انسان کے لئے ہدایت کا پیغام" - 
ازقلم : افضال احمد ملّی، پوار واڑی مالیگاؤں ضلع ناسک۔
 
 بارش اللہ تعالیٰ کی بےشمار نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ہے
 قدرت کے اس حسین نظام میں انسان کیلئے ظاہری و مادی فوائد کے ساتھ روحانی پیغامات و اسباق بھی پنہاں ہیں. 
ذیل میں بارش سے حاصل ہونے والے کچھ اسباق و پیغامات قرآن و حدیث کی روشنی میں بیان کیے گئے ہیں.
 
بارش کیسے ہوتی ہے :
سب سے پہلے تو ہم یہ سمجھیں کہ بارش کیسے ہوتی ہے :
     بارش آبی چکر (Water Cycle) کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اس عمل کو آسان الفاظ میں یوں سمجھیں:
1. بخارات بننا: سورج کی گرمی سے سمندروں، دریاؤں، جھیلوں اور زمین پر موجود پانی بخارات میں تبدیل ہو کر اوپر اٹھتا ہے۔
2. بادل بننا: اوپر فضا میں درجۂ حرارت کم ہونے کی وجہ سے یہ بخارات ٹھنڈے ہو کر پانی کے بہت چھوٹے قطروں یا برف کے ننھے ذرات میں بدل جاتے ہیں۔ ان ہی سے بادل بنتے ہیں۔
3. قطروں کا بڑا ہونا: بادلوں کے اندر یہ چھوٹے قطرے آپس میں ملتے رہتے ہیں اور بڑے ہوتے جاتے ہیں۔
4. بارش ہونا: جب قطرے اتنے بھاری ہو جاتے ہیں کہ ہوا انہیں سنبھال نہیں سکتی، تو وہ زمین پر گرنے لگتے ہیں۔ اگر موسم گرم ہو تو یہ بارش کی صورت میں گرتے ہیں، اور اگر بہت زیادہ سردی ہو تو برف یا اولے بھی بن سکتے ہیں۔
اس طرح پانی دوبارہ دریاؤں، جھیلوں اور سمندروں میں پہنچ جاتا ہے، اور یہی عمل بار بار دہرایا جاتا ہے۔

 اس آبی چکر کا پہلا پیغام 
1. اللہ کی کامل تخلیق :
آبی چکر کی پیچیدگی ہمیں یہ باور کراتی ہے کہ اللہ نے کس قدر جامع اور کامل نظام تخلیق کیا ہے۔ فضا میں بادلوں کے بننے کے عمل پر اگر غور کیا جائے تو ہم دیکھتے ہیں کہ کس طرح زمین سے پانی تبخیر کے عمل سے فضا میں جاتا ہے اور وہاں ٹھنڈا ہو کر بارش برسانے کا سبب بنتا ہے۔ آبی چکر کے مختلف مدارج کو قرآن کریم میں اس طرح بیان کیا گیاہے۔
"اللہ وہ ہے جو ہوائیں چلاتا ہے پھر وہ بادل کو اٹھاتی ہیں پھر اسے آسمان میں جس طرح چاہے پھیلا دیتا ہے اور اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے پھر تو مینہ کو دیکھے گا کہ اس کے اندر سے نکلتا ہے، پھر جب اسے اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے پہنچاتا ہے تو وہ خوش ہو جاتے ہیں۔ "(30:48)
پھر اس میں سے کچھ پانی استعمال ہوجاتا ہے اور باقی دوبارہ جھیلوں ، ندیوں، دریاؤں اور سمندروں میں اکٹھا ہوجاتا ہے اور پھر دوبارہ وہاں سے عمل تبخیر کے ذریعے فضا میں پہنچ جاتا ہے۔ اور یہ سب عمل خود بخود ہی چل رہا ہے ۔ بے شک یہ اللہ ہی ہے جس نے یہ سب تخلیق کیا ہے اور کوئی اس کی بصیرت کے ہمسر نہیں ہوسکتا ہے۔ وہ اپنے معاملات محض کن اور فیکون سے قابو میں رکھتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہم اللہ پر بحیثیت مخلوق ایمان رکھتے ہیں۔

دوسرا پیغام 
2. انسانیت کا قابل تعظیم رتبہ : 
بارش کے انسانوں کے لئے بے شمار فوائد ہیں یہ ہمیں پینے کے لیے ، دھونے کے لیے، صفائی کے لیے اور دیگر ضروریات زندگی کے لیے تازہ پانی فراہم کرتی ہے ۔ یہ ہماری فصلوں کے لیے بہت اہمیت کی حامل ہے اور اسی طرح ہماری خوراک کے لئے ۔ 
مزید برآں پانی ہماری صنعت میں بھی بڑی مقدارمیں استعمال ہوتا ہے خاص طور پر بجلی بنانے میں ۔ قرآن کریم میں بارش کے پانے کے بعض فوائد ذیل میں بیان کیے گئے ہیں۔
"وہی ہے جس نے آسمان سے تمہارے لیے پانی نازل کیا، اسی میں سے پیتے ہو اور اسی سے درخت ہوتے ہیں جن میں چراتے ہو” (16:10)
بارش کا عمل دیگر کئی عوام اور مظاہر کی طرح انسانوں کے لیے بہت زیادہ مفید ہے اور زمین پر انسانی بقا، اس کی بڑھوتری اور ترقی کا مظہر ہے ۔ اللہ نے ہمیں بے بہا نعمتیں عطا کی ہیں ۔ اسلیے ہمیں ہر وقت اس کے سامنے عاجزی اخیتار کرنی چاہے اور ہر حال میں اس کا شکر ادا کرنا چاہیے۔

تیسرا پیغام 
3. دلوں کو رہنمائی حاصل ہوتی ہے : 
بارش اور رہنمائی کے حوالے سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بہترین مشابہت بیان فرمائی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا۔ بارش دو طرح کی زمینوں پر ہوتی ہے ۔ پہلی زمین زرخیز ہوتی ہے اور وہ پانی جو جذب کر لیتی ہے اور پھر اس پر پھل، پھول، سبزیاں اور اناج اگتا ہے ۔ اور یہ زمین انسانوں اور جانوروں کے فائدے کے لئے کچھ پانی بچا بھی لیتی ہے ۔ اس کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو اللہ کے احکامات بجا لاتا ہے ، اچھائی کرتا ہے اور دوسروں کو اچھے راستے پر چلنے کی تلقین کرتا ہے۔ جبکہ دوسری طرح کی زمین ایسی زمین ہوتی ہے جو نہ پانی کو محفوظ رکھتی اور نہ ہی اس پر اناج و غلہ اگتا ہے۔ یہ بالکل اس شخص کے دل کی طرح ہے جو رہنمائی اور ہدایت سے خالی ہے نہ تو وہ خود اچھائی کرتاہے اور نہ ہی دوسروں کو کرنے کا کہتا ہے۔
پس اس حدیث کے پیش نظر ہمیں چاہیے کہ ہم اس کھیت کی طرح ہوں جو کہ اناج و غلہ اگاتا ہے اور دوسروں کو فائدہ دیتا ہے نہ نبجر کھیت کی طرح جو نہ خود فائدہ اٹھاتا ہے اور نہ ہی دوسرے کو فائدہ دیتا ہے۔

چوتھا پیغام 
4۔ اللہ کی نعمت اور عذاب :
    بارش اللہ کی عظیم نعمت ہے ۔جیسا کہ اللہ پاک کی ذات فرماتی ہے”
اور ہم نے آسمان سے برکت والا پانی اتارا پھر ہم نے اس کے ذریعے سے باغ اگائے اور اناج جن کے کھیت کاٹے جاتے ہیں۔” (50:9)
تاہم بارش طوفان کی شکل میں اذیت کا سبب بھی ہوسکتی ہے اور پوری پوری تہذیبوں کو بہا کے لے جاتی ہے ۔ اللہ پاک نے قوم لوط کے بارے میں فرمایا:”
اور ہم نے ان پر مینہ برسایا، پھر ڈرائے ہوؤں کا مینہ برا تھا۔” (27:58)
بارش کی طرح زندگی میں ہم دو چیزوں کا سامنا کرتے ہیں نعمت اور لعنت اور ان کا انحصار صورتحال پر ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر تکالیف اور آفات اللہ کی نعمتیں ہیں کیونکہ یہ ہمیں دوبارہ اٹھ کھڑے ہونے کا حوصلہ عطاکرتی ہیں ۔ یہ ہماری تربیت اور نشو نما کرتی ہیں اور ہمیں اللہ کے قریب لے آتی ہیں اور اگر یہ ہمیں گناہ اور ناشکری کی طرف لے جائیں تو یہ اللہ کا عذاب بن جاتی ہیں۔ اس کی ایک اور مثال دولت ہے۔ یہ اللہ کی نعمت ہے کیونکہ اس سے ہم بہت ساری ضروریات زندگی پوری کرتے ہیں اور دوسروں کی مدد کرتے ہیں۔ تاہم اگر یہ ہمیں غرور ، کنجوسی اور ذرائع کے ناجائز استعمال کی طرف لے جائیں تو سمجھ لیں کہ یہ اللہ کا عذاب ہے۔

پانچواں پیغام 
5. غیب کا علم : 
حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:
وَمَا يَدْرِي أَحَدٌ مَتَى يَجِيءُ الْمَطَر
” کوئی بھی نہیں جانتا کہ بارش کب ہوگی سوائے اللہ تعٰالی کے”۔
 آج کے دور میں جب دنیا کے پاس سپر کمپیوٹر بھی آچکے ہیں تاہم تب بھی ان کی موسم کے حوالے سے پیشین گوئیاں اکثر غلط ثابت ہوتی ہیں۔ یونیورسٹی آف ریڈنگ کے ایک ریسرچ سائنسدان جان شانک کا کہنا ہے کہ ہم کبھی بھی 100 فیصد درستگی سے موسم کے بارے میں پیشین گوئی نہیں کر سکتے ۔ پس اس کا مطلب ہے کہ بارش کے بارے میں کوئی بھی درست پیشین گوئی نہیں کر سکتا۔  
اس سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ سوائے اللہ کے کوئی بھی غیب کا علم نہیں رکھتا۔ پس ہمیں اپنے مستقبل کے بارے میں بھی صرف اللہ تعٰالی کی ذات پر ہی بھروسہ کرنا چاہیے۔

چھٹا پیغام 
6۔ آخرت کا نشان :
بارش ہمیں مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کی یاددہانی کراتی ہے کیونکہ یہ زمین پر زندگی کا دوبارہ احیاء کرتی ہے بلکل ایسے ہی جیسے قیامت کے روز صور پھونک کر زندگی کو دوبارہ بحال کر دیا جائے گا۔ بالکل ایسے ہی بارش زمین کے اندر سے پودے اگاتی ہے اور ایسے ہی روز قیامت لوگوں کو قبروں سے نکال کر اللہ کے سامنے پیش کر دیا جائے گا۔ قرآن کریم میں ارشاد باری تعٰالی ہے”
اور وہ جس نے آسمان سے اندازے کے ساتھ پانی اتارا، پھر ہم نے اس سے مردہ بستی کو زندہ کیا، تم بھی اس طرح ( قبروں سے) نکالے جاؤ گے۔”(43:11)

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔