جب قلم خاموش ہو جائے - از قلم: رہبر تماپوری۔
جب قلم خاموش ہو جائے -
از قلم: رہبر تماپوری۔
رابطہ : 8431012141
قلم! اے میرے خاموش مگر ہمراز رفیق! آج میں تم سے مخاطب ہوں، اس امید کے ساتھ کہ تم میری بے زبان کیفیت کو الفاظ کی صورت عطا کرو گے۔ تم وہ ساتھی ہو جو تنہائی میں بھی ساتھ نبھاتا ہے اور ہجوم میں بھی دل کی دھڑکن سن لیتا ہے۔ تمہارے وجود میں ایک عجیب تاثیر ہے؛ خاموش رہ کر بھی صدائیں بکھیرنے کی تاثیر۔ تم محض ایک آلہ نہیں، بلکہ فکر و شعور کے امین ہو۔ جب ذہن الجھتا ہے، تم اسے سلجھاتے ہو، اور جب دل بوجھل ہوتا ہے، تم اس کا بوجھ ہلکا کر دیتے ہو۔ تمہاری نوک سے نکلنے والے الفاظ کبھی چراغ بن کر اندھیروں کو چیر دیتے ہیں اور کبھی آئینہ بن کر انسان کو اس کا اصل چہرہ دکھاتے ہیں۔
میں تم سے یہ عہد کرتا ہوں کہ حقیقت کو حقیقت، سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ ہی لکھوں گا۔ علم و آگہی کی اس راہ میں مشکلات ضرور ہیں، مگر انہی مشکلات سے گزر کر شعور کی منزل حاصل ہوتی ہے۔ احساس کا ایک قطرہ نہر بنتا ہے، نہر دریا میں ڈھلتی ہے اور دریا آخرکار سمندر کی وسعتوں میں جا ملتا ہے۔ اسی طرح ایک سچا لفظ بھی دل سے نکل کر معاشرے کی سوچ بدلنے کی قوت رکھتا ہے۔ تم ہی وہ چراغ ہو جو تاریک راستوں میں بھٹکتے مسافروں کو منزل کا سراغ دیتا ہے، اور تم ہی وہ آئینہ ہو جو معاشرے کے بدنما داغوں کو بے نقاب کرکے انسان کو اس کے اصل منصب کی یاد دلاتا ہے۔
میں نے ہمیشہ ایک ایسے معاشرے کا خواب دیکھا ہے جہاں رنگ، نسل، زبان، ذات اور لباس کی تفریق سے بلند ہو کر صرف انسانیت کی عزت کی جائے۔ مگر افسوس! آج مصلحتوں کے بازار میں زبانیں گنگ، ضمیر خوابیدہ اور سچ تنہا دکھائی دیتا ہے۔ ایسے ماحول میں ایک ہی سوال دل کو بے چین کرتا ہے: اگر کبھی قلم خاموش ہو جائے تو کیا ہوگا؟ پھر کون ظلم کے خلاف آواز بلند کرے گا؟ کون مظلوم کے آنسوؤں کی ترجمانی کرے گا؟ کون آنے والی نسلوں کو حق اور باطل میں تمیز کرنا سکھائے گا؟ اس لیے قلم کو کبھی خوف، لالچ، تعصب یا مصلحت کے آگے سر نہیں جھکانا چاہیے۔ اس کا ہر لفظ عدل، دیانت، محبت اور انسانیت کا پیامبر ہونا چاہیے۔
قلم صرف لکھنے کا ذریعہ نہیں، بلکہ تہذیبوں کی امانت، قوموں کی شناخت اور آنے والی نسلوں کے لیے فکری ورثہ بھی ہے۔ جب اہلِ قلم اپنی ذمہ داری کو دیانت کے ساتھ نبھاتے ہیں تو معاشرے میں انصاف، رواداری اور شعور کی فضا قائم ہوتی ہے۔ ایک سچا قلم نفرتوں کی دیواریں گرانے، دلوں کو جوڑنے اور انسان کو انسان کے قریب لانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسی لیے قلم کی حرمت کا تقاضا ہے کہ اس کی روشنائی کبھی جھوٹ، تعصب اور مفاد کی نذر نہ ہونے پائے۔
تاریخ گواہ ہے کہ فاتحین کی تلواریں زنگ آلود ہو گئیں، سلطنتیں مٹ گئیں اور تخت و تاج پیوندِ خاک ہو گئے، مگر قلم کی عظمت ہمیشہ باقی رہی۔ اسی قلم نے تہذیبوں کو سنوارا، قوموں کو بیدار کیا، علم کو دوام بخشا اور انسان کو اس کی اصل پہچان عطا کی۔ قلم کی اصل طاقت اس کی سچائی، دیانت اور بے خوفی میں پوشیدہ ہے۔ جب قلم بیدار رہتا ہے تو قومیں بیدار رہتی ہیں، اور جب قلم خاموش ہو جائے تو صرف الفاظ نہیں مرتے، بلکہ معاشروں کی روح بھی خاموش ہونے لگتی ہے۔
اس لیے میری دعا ہے کہ قلم ہمیشہ سچ کا علمبردار، انصاف کا ترجمان اور انسانیت کا محافظ بن کر زندہ رہے۔ اس کی روشنائی کبھی مصلحت کے اندھیروں میں گم نہ ہو، بلکہ ہر دور میں امید، شعور اور حق کی روشنی پھیلاتی رہے۔ یہی ایک بیدار قلم کی حقیقی ذمہ داری، ادیب کا اصل سرمایہ اور معاشرے کی دائمی عظمت ہے۔
Comments
Post a Comment