اردو ہال قہقہوں سے گونج اٹھا،معین امر بمبو کے مزاحیہ شعری مجموعہ کی رسم اجراء - پروفیسرایس اے شکور ڈائریکٹر مشتاق احمد سہروردی اور جاوید کمال کے تقاریر۔
حیدرآباد۔ 20 جولائی (پریس نوٹ) فولس پیراڈائز کلچرل سوسائٹی کے زیر اہتمام اردو ہال حمایت نگر میں ڈاکٹر معین امر بمبو کے مزاحیہ شاعری کا مجموعہ بیگن کی شاعری کا پروفیسر ایس اے شکور، ڈاکٹر مشتاق احمد سہروردی گلبرگہ کے ہاتھوں رسم اجرا عمل میں آیا صدر جلسہ پروفیسر ایس اے شکور نے اپنی تقریر میں فرمایا کہ بیگن حیدرآبادیوں کا تکیہ کلام بن چکا ہے وہ ہر بات میں بیگن شامل کر دیتے ہیں حالانکہ بیگن ایک ترکاری کا نام ہے لوگ بگھارے بیگن، بیگن کا بھرتا مزے لے کر کھاتے ہیں لیکن گفتگو میں اس کا استعمال معیوب سمجھا جاتا ہے کتاب کا سرورق بڑا معنی خیز ہے موجودہ دور میں کتابوں کی کم ہوتی ہوئی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے ابتدا میں ڈاکٹر جاوید کمال نے طنز و مزاح سے بھرپور انشائیہ پیش کیا انہوں نے معین امر بمبو کی بیگن کی شاعری کے سلسلہ کو اکبر اعظم اور بیربل کے واقعہ سے جوڑ دیا اور محمد قلی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ محمد قلی قطب شاہ نے بھی ترکاریوں پر نظمیں لکھی تھیں اسی سے متاثر ہو کر معین امر بمبو نے اپنے مجموعہ کا نام بیگن کی شاعری رکھا، کے بی این ٹائمز گلبرگہ کے شریک مدیر ڈاکٹر مشتاق احمد سہروردی جو بطور مہمان خصوصی شرکت کی اور بہنوئیوں کے ناز و نخروں پر طنز و مزاح سے بھرپور انشائیہ سنایا اور معین امر بمبو کو مبارکباد پیش کی اس کے علاوہ آئرلینڈ سے تشریف لائے ایک اور مہمان کریم الدین محمد، گلبرگہ سے تشریف لائے مہمان میاں سردار فیروزآبادی، ممتاز صحافی جناب کے این واصف، جناب ابو مسعود عبدالغنی موظف تحصیلدار محبوب نگر، جناب محمد ظہور الدین سکندرآباد کوآپریٹو بنک، صوفی سلطان شطاری نے بڑے ہی پر لطف انداز میں معین امربمبو کے فن کوسراہا ادبی اجلاس کی نظامت ڈاکٹر جاوید کمال نے طنز و مزاح سے بھرپور انداز میں کی تقریب کی ابتدا ڈاکٹر طیب پاشاہ قادری کے نعتیہ کلام سے ہوئی اس موقع پر ڈاکٹر طیب پاشاہ قادری کو ملازمت سے ان کے وظیفہ حسن پر سبکدوشی پر انجمن ریختہ گویاں اور فولس پیراڈاز کی جانب سے تہنییت پیش کی گئی ممتازشاعر نجیب احمد نجیب نے ڈاکٹر معین امر بمبو کی شخصیت اور مجموعہ کلام پر تبصرہ پیش کیا بعد ازاں مزاحیہ مشاعرہ کا انعقاد عمل میں آیا جس کی نظامت طنزو مزاح کے ممتاز شاعر لطیف الدین لطیف نیکی جناب شاہد عدیلی، فرید سحر، وحید پاشاہ قادری، ڈاکٹر معین امر بمبو،لطیف الدین لطیف، نجیب احمد نجیب شبیر خاں اسمارٹ اور ڈاکٹر حسام الدین طلعت نے اپنے مزاحیہ کلام سے محفل کو زعفران زار بنادیا مشہور کامیڈین شہاب الدین پایا نے اپنے منفرد خاکوں سے سامعین کو بار بار قہقہے لگانے پر مجبور کر دیا ڈاکٹر جاوید کمال کے شکریہ پر اس یادگار اور قہقہہ بردوش محفل کا اختتام عمل میں آیا۔
Comments
Post a Comment