طلبہ پر لاٹھی چارج کی مذمت، مرکزی وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ - امتحانی نظام میں شفافیت لانے اور نیٹ بے ضابطگیوں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ.
بیدر، 23 جولائی (نامہ نگار) مختلف مسابقتی امتحانات، خصوصاً نیٹ (NEET) امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں اور نئی دہلی میں پرامن احتجاج کرنے والے طلبہ پر لاٹھی چارج کے خلاف کرناٹک ریاست دلت سنگھرش سمیتی (امبیڈکر وادی) کی جانب سے آج جمعرات کو بیدر کے امبیڈکر سرکل میں احتجاجی دھرنا دیا گیا۔ بعد ازاں ضلع ڈپٹی کمشنر کے توسط سے وزیر اعظم ہند کے نام ایک یادداشت پیش کی گئی۔
مقررین نے کہا کہ ملک کے امتحانی نظام میں مسلسل سامنے آنے والی بے ضابطگیوں نے لاکھوں طلبہ کے مستقبل کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔ نیٹ سمیت مختلف قومی امتحانات میں مبینہ بے قاعدگیوں کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کراتے ہوئے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور امتحانی نظام میں شفافیت و جوابدہی کو یقینی بنایا جائے۔
انہوں نے نئی دہلی میں پرامن احتجاج کرنے والے طلبہ پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے استعمال کو جمہوری اقدار کے منافی قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی۔ مقررین نے مطالبہ کیا کہ متاثرہ طلبہ کو فوری انصاف فراہم کیا جائے، متاثرہ خاندانوں کو مناسب معاوضہ دیا جائے اور مرکزی وزیرِ تعلیم اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
احتجاجی قائدین میں کرناٹک ریاست دلت سنگھرش سمیتی کے ریاستی صدر ماروتی بودھے، ضلعی صدر راج کمار واگھمارے، ارون پٹیل، تعلقہ صدر رتنیپا ورما (اوراد)، وامن راؤ میسلگے (بسواکلیان)، ضلع صدر دلت کلا منڈلی شیوراج تڑپلی، شیرو منی ہلگے، ستیش رتناکر، رمیش بیلدار، ادئے نائک، وجئے کمار بھاویکٹی، راہل ہالہپرگا، مہیش گورنالکر، بابوراؤ ہونّا، مکیش رائے، ونود بھنگے، بسوراج بھاویدوڈی، گوتم اتنگیکر، راجو کامبلے، جئے بھیم چیمنائک، شری نواس دیال، ونئے مالگے، بابو ٹائیگر، اوم پرکاش روٹے، جگدیش بیرادار، وٹھل داس پائے، دشرتھ گرو، رمیش جی۔ اماپورے، اُتم مانجریکر، ملیکارجن مالے، سچن بھیم نگر، نرسنگ نوَدگیری، سدھامنی، مایاوتی اور آکانکشا سمیت بڑی تعداد میں کارکنان موجود تھے۔
مقررین نے انتباہ دیا کہ اگر حکومت طلبہ کے مطالبات پر فوری کارروائی نہیں کرتی تو احتجاجی تحریک کو مزید وسیع کیا جائے گا۔
Comments
Post a Comment