آہ خبر میرے شہر کی - از قلم : شعیب احمد محمدی۔
آہ خبر میرے شہر کی -
از قلم : شعیب احمد محمدی۔
ہمارے شہر کی فضا آج پہلے جیسی نہیں رہی۔ یہ وہی شہر ہے جسے کبھی مسجدوں اور میناروں کا شہر کہا جاتا تھا۔ جہاں اذانوں کی گونج سے صبح ہوتی تھی اور دلوں میں ایمان کی روشنی۔ مگر آج اخبار کی سرخیاں گلیوں کی سسکیاں اور ماؤں کی دعائیں سب یہی پکار رہی ہیں ہم اپنی شناخت کھو رہے ہیں
اذانوں کی گونج سے صبح تو ہوتی ہے مگر اب شہر میں گناہ اتنے ہو رہے ہیں کہ رکنے کا نام نہیں لے رہے۔ اہل نظر کی نیندیں اڑی ہوئی ہیں اور ہر باشعور دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ اے کاش میرا شہر پھر سے ایمان حیا اور امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نمونہ بن جائے۔
آج ہمارے شہر میں خودکشی ناجائز تعلق نشہ چوری جنسی جرائم اور سب سے زیادہ تکلیف دہ بات مسلم بچیوں کا دین سے دوری اور ارتداد کی خبریں زوروں پر ہیں۔ یہ کوئی ایک واقعہ نہیں۔ یہ ایک سماجی زخم ہے جس پر مرہم رکھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔
1. ایمان کی کمزوری
جب اللہ سے رشتہ کمزور ہو جاتا ہے تو شیطان کا راستہ آسان ہو جاتا ہے۔ نماز قرآن دعا اور حلال و حرام کا فرق جب گھروں سے نکل جائے تو دل بے نور ہو جاتا ہے۔ نوجوانوں کو یہ بتانا ہوگا کہ زندگی امانت ہے۔ مایوسی کفر ہے۔ اور عزت صرف اللہ کے احکام میں ہے۔
2. گھر اور اسکول کا کردار
ماں کی گود پہلی درسگاہ ہے۔ باپ سایہ ہے۔ جب گھر میں موبائل کی آزادی دوستوں کی صحبت اور دینی تربیت کا فقدان ہو تو بچہ بھٹک جاتا ہے۔ اسکول صرف ڈگری نہیں دیتے کردار بھی بناتے ہیں۔ اساتذہ والدین اور محلے کے بزرگوں کو مل کر بچوں کی صحبت پر نظر رکھنی ہوگی۔
3. حیا کا جنازہ
ناجائز عشق بے حیائی اور نشہ سب کا آغاز چھوٹی غلطی سے ہوتا ہے۔ آج ایک میسج کل ملاقات پھر بربادی۔ ہماری تہذیب کی بنیاد حیا ہے۔ جب حیا جائے تو باقی سب جاتا رہتا ہے۔ لڑکے اور لڑکیاں دونوں کو اپنی عزت کی حفاظت کا درس دینا ہوگا۔
4. مایوسی کا علاج
زیادہ تر خودکشیاں اور غلط قدم مایوسی ڈپریشن اور توجہ نہ ملنے سے اٹھتے ہیں۔ بچوں سے بات کریں۔ ان کی سنیں۔ ان کا درد بانٹیں۔ انہیں بتائیں کہ ہر اندھیری رات کے بعد صبح ہوتی ہے۔ اللہ کی رحمت ہر گناہ سے بڑی ہے۔
5. ہم سب ذمہ دار ہیں
چوری نشہ اور جرائم تب پروان چڑھتے ہیں جب معاشرہ آنکھیں بند کر لے۔ علماء اساتذہ پولیس سوشل ورکرز اور ہر باشعور شہری کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ مساجد میں اصلاحی بیانات اسکولوں میں کونسلنگ اور گھروں میں دین کی محبت عام کرنی ہوگی۔
6. درد دل
دل خون کے آنسو روتا ہے جب صبح اخبار و موبائل پر کسی بیٹی کے گھر سے نکل جانے کی خبر کسی جوان کی خودکشی کی لاش اور کسی معزز گھر کی عزت تار تار ہونے کی داستان وائرل ہو جاتی ہے۔
وہ مائیں جن کی گودیں کبھی قرآن کی تلاوت سے مہکتی تھیں آج سجدوں میں ٹوٹ کر بس یہی کہتی ہیں یا اللہ میری اولاد کو بچا لے۔ وہ باپ جس کی محلہ میں عزت تھی آج لوگوں کی باتوں سے شرم کے مارے نظریں جھکا لیتے ہیں۔
ہمارے بازار گواہ ہیں ہمارے اسکول گواہ ہیں ہماری گلیوں کے چوراہے گواہ ہیں کہ ہم نے اپنی اولاد کو موبائل کے حوالے کر دیا بری صحبت کے حوالے کر دیا اور خود دنیا کمانے میں لگ گئے۔
پور پور زخمی ہے اور بدن پر چھالے ہیں
ہر زبان پر پھر بھی مصلحت کے تالے ہیں۔
ہم سب دیکھ رہے ہیں سب سن رہے ہیں مگر بول کوئی نہیں رہا۔ اگر آج ہم نے اپنی آنکھیں نہ کھولیں اپنے گھروں کو نہ سنبھالا اپنی مسجدوں اور مدارس کو متحرک نہ کیا تو کل یہ زخم اتنا گہرا ہو جائے گا کہ نسلیں روئیں گی اور مرہم بھی کام نہ آئے گا۔
ہمارے بعد ہماری نسل خواب دیکھے گی
جو ہم نا دیکھ سکے وہ عذاب دیکھے گی
7. اجتماعی عہد ایک جسم ایک جان
اب وقت آ گیا ہے کہ ہمارا شہر ایک جسم ایک جان بن کر ان تمام برائیوں کو روکنے اور ختم کرنے کے لیے کھڑا ہو۔ ہر ملی تنظیم ہر دینی و سماجی ادارہ ہر مقرر اور خطیب ہر استاد اور والدین سب اپنا حق سمجھتے ہوئے میدان میں آئیں۔ فرقے مسلک اور اختلافات بھلا کر صرف امت کا درد دل میں رکھ کر کام کریں۔ جب تک ہم متحد نہیں ہوں گے فتنے ہمیں ایک کر کے نگلتے رہیں گے۔
آخر میں ایک گزارش
بیٹیوں کی حفاظت صرف پردے سے نہیں تربیت سے ہوتی ہے۔ انہیں دین کی سمجھ دنیا کی پہچان اور فتنوں سے بچنے کا ہنر دیں۔ بیٹوں کو غیرت محنت اور ذمہ داری سکھائیں۔
یاد رکھیے شہر تبھی بچے گا جب ہر گھر بچے گا۔ اور ہر گھر تبھی بچے گا جب ہم قلم زبان اور عمل سے اصلاح کا بیڑا اٹھائیں گے۔
اللہ ہمارے شہر کو فتنوں سے محفوظ فرمائے۔ ہمارے نوجوانوں کو ہدایت دے۔ اور ہمیں امت کی تعمیر کا ذریعہ بنائے۔ آمین
Comments
Post a Comment