سیرتِ طیبہ کا مطالعہ انتہائی ضروری ہے۔از قلم مفتی محمد اسلم جامعی۔ (استاذ دارالعلوم محمدیہ قدوائی روڑ)
سیرتِ طیبہ کا مطالعہ انتہائی ضروری ہے۔
از قلم مفتی محمد اسلم جامعی۔
(استاذ دارالعلوم محمدیہ قدوائی روڑ)
زیراہتمام ادارہ پیغامِ جامعی مدنی نگر مالیگاؤں۔
خداوند قدوس نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ کو انسانیت کے لیے اسوہ اور نمونہ بنایا، اسوہ سے مراد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مذہبی، تبلیغی، سماجی، سیاسی، خانگی، اور تمدّنی حیات پاک اور اس کے وہ شب و روز ہیں، جو اسلامی تعلیمات کا صحیح ترین اور مکمّل ترین مظہر ہیں، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی، ایک ایسا خوب صورت باغ ہے، جس کے پھولوں کی مہک، فضاؤں کی نکہت اور ہواؤں کی تازگی سے آج تک دنیا مسحور ہے، یہ چمن ہر ایک کو دعوت دے رہا ہے، کہ اس عظیم الشان باغ کا نظارہ کریں، اس باغ سے پھول چُنے اور اپنی دنیا و عقبیٰ کو سنواریں، اب ظاہر سی بات ہے، اسوۂ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی واقفیت مطالعۂ سیرت پر موقوف ہے، نیز سیرت نبوی ہی سے احکامات اور دیگر اوامر و نواہی بل کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پسند و ناپسند کا علم ہوگا، فہمِ قرآن سیرت نبوی کے بغیر ناممکن ہے کیوں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کریم کی عملی تصویر اور کامل تفسیر ہے،اسی طرح ایمان و اسلام کی معرفت سیرت نبوی کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتی ہے، قرآن پاک میں خداوند عالم کا ارشاد ہے اَلْنَّبِیُّ اولیٰ بالمؤمنين من أنفسهم، نبی مؤمن کے حق میں ان کی جان سے بھی زیادہ قریب ہے حضرت مولانا ادریس کاندھلوی رح فرماتے ہیں: کیوں کہ مؤمن کا وجودِ ایمانی آفتابِ نبوت کا ایک معمولی سا عکس اور پَرتو ہے اور ظاہر ہے کہ پَرتَوْ کو جو قُرب اور تعلق اپنے اصل منبع یعنی آفتاب سے ہوسکتا ہے وہ آئینہ سے نہیں ہوسکتا ہے، مؤمن کو جو ایمان پہنچتا ہے وہ نبی کے واسطے سے پہنچتا ہے معلوم ہوا کہ ایمان نبی سے قریب اور مؤمن سے بعید ہے، اس لیے کہ نبی ایمان کے ساتھ متصف بالذات ہے اور مؤمن کے ساتھ متصف بالعرض ہے، لھذا ضروری ہوا کہ مؤمن اپنے آپ اور اپنے ایمان کے جاننے سے پہلے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو جانے تاکہ اسی راستے پر چلے اور دوسروں کو بھی اس پر چلنے کی دعوت دے، (سیرت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم صفحہ ١٥ ) صحیح بخاری میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ کوئی مؤمن ایسا نہیں جس کے لئے دنیا و عقبیٰ میں، میں سارے انسانوں سے زیادہ اولیٰ اور اقرب نہ ہوں تمہارا دل چاۂیے تو اس کی تصدیق کے لیے قرآن کی یہ آیت پڑھ لو النبی اولی بالمؤمنين من أنفسهم (بخاری) اور صحیحین کی دوسری روایت میں ہے کہ تم میں سے کوئی اس وقت تک مؤمن نہیں ہوسکتا ہے جب تک اس کے دل میں میری محبت اپنے باپ، بیٹے اور سارے انسانوں سے زیادہ نہ ہوجائے(بخاری و مسلم) (معارف القرآن جلد 7 صفحہ 86) یعنی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور معرفت تکمیلِ ایمان کی دلیل ہے اور یہ محبت و معرفت مطالعۂ سیرت پر منحصر ہے کیوں کہ جب تک انسان کسی کی شخصیت، اس کی پاکیزہ حیات اور کردار کی عظمت و رفعت سے متعارف نہ ہو، تو نہ اس کے دل میں حقیقی معنوں میں اُس شخص کی عظمت و رفعت جاگزیں ہوسکتی ہے اور نہ سچی محبت پروان چڑھ سکتی ہے اس لیے بحیثیتِ مسلمان سیرتِ طیبہ کا مطالعہ انتہائی ناگزیر ہے مزید برآں سیرتِ نبوی کے مطالعہ سے خوابیدہ صلاحیتیں پروان چڑھتی ہیں، علمی و عملی رعنائی و توانائی حاصل ہوتی ہے، مذھبِ اسلام سے کامل محبت پیدا ہوتی ہے، اتباعِ نبوی اور محبتِ نبوی کا جذبۂ صادق موجزن ہوتا ہے، صحابہ کرام و صحابیات اور نیک لوگوں کی محبت سے دل سرشار ہوتا ہے، معلوماتِ قدیمہ کوجِلا ملتی ہے، اعمالِ صالحہ پر عمل پیرا ہونے کی راہیں ہموار ہوتی ہے، عبادت و ریاضت میں دلجمعی اور ذوق وشوق پیدا ہوتا ہے، علم میں گہرائی وگیرائی پیدا ہوتی ہے، اپنے ایمان کی حفاظت، اعدائے اسلام کی فتنہ سامانیوں اور قلمی شر انگیزیوں سے بچنے کا موقع حاصل ہوتا ہے، سیرتِ نبوی ایک اتھاہ سمندر ہے جس میں غطہ زنی پر علوم و معارف کا گنجینہ حاصل ہوتا ہے، دین اسلام کی تبلیغ اور نشر واشاعت کے لیے سیرتِ طبیہ کا مطالعہ ناگزیر ہے، کیوں کہ ہر مبلغ تبلیغ کے مسنون طریقہ سے آگاہ ہوگا جن کے ذریعے سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب کی کایا پلٹ دی تھی، اسی طرح مخاطب کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ سے متعارف کروا کر سیرتِ طیبہ کے واقعات سے متاثر کرسکتا ہے، غير مسلم کے اعتراضات کا مکمّل و مدلل جواب اور ان کے شکوک شبہات دور کرنے کا ملکہ سیرت نبوی کے مطالعہ میں ہی مضمر ہے، یہ سب فوائد مطالعۂ سیرت سے وابستہ ہیں مگر ایک نظر ہمارے ذوقِ مطالعہ اور اسلامی معلومات پر ڈالتے چلیں ہم خاندانی مسلمان ہیں تحقیقی طور پر دین و ایمان، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرات صحابہ کرام کے متعلق ہماری معلومات برائے نام ہے، کیا یہی محبت ہے؟ کیا یہی عقیدت ہے؟ ماہِ بیع الاول میں حُبِّ نبوی کا دعویٰ کرنا محبت نہیں ہے، کیوں کہ محبت دعویٰ کی چیز نہیں اس کا ایک معیار ہے جو مُحب کی زندگی چال ڈھال نشست برخاست سے عیاں ہوتی ہے اور وہ ہے اتباع اور اتباعِ نبوی کی واقفیت کا انحصار بھی مطالعۂ سیرت پر موقوف ہے، موجودہ زمانے میں شوشل میڈیا اور انٹرنیٹ نے فرصت کے لمحات کا قتل کر دیا، تنہائی ہو یا مجمع، گھنٹوں نئی نسل اس انٹرنیٹ کی دنیا میں اسیر رہتی ہے اور اگر اس کے علاوہ کچھ فرصت کا وقت بچ بھی گیا تو وہ چوک چوراہے، گپ شپ کی محفلوں اور ہوٹلوں میں ملکی حالات اور عالمی خبروں کی گفتگو میں صرف ہوتا ہے، اگر ہم اپنے روز مرہ کے اوقات میں سے کچھ گھنٹے سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطالعہ کے لئے نکالتے ہیں تو اوپر ذکر کردہ تمام فوائد کے ساتھ قلبی و ذہنی سکون، مصائب و آلام پر ثابت قدمی اور اللہ تعالیٰ کے وعدوں وعید پر کامل یقین حاصل ہوگا، سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطالعہ سے آپ خود محسوس کریں گے کہ کتنا فائدہ ہوا، سیرت کے عنوان پر بازار میں بے شمار کتابیں دستیاب ہے اُنھیں خریدیں اور ذوق و شوق، عقیدت و محبت میں ڈوب کر مطالعہ کریں
جاری........................
منجانب ادارہ پیغامِ جامعی مدنی نگر مالیگاؤں۔
Comments
Post a Comment