ہم کہاں جا رہے ہیں؟ ( کالم) از قلم: رہبر تماپوری۔


ہم کہاں جا رہے ہیں؟  ( کالم) 
از قلم: رہبر تماپوری۔
رابطہ : 8431012141

انسانی تاریخ کے ورق الٹ کر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ قوموں کے عروج و زوال کا دارومدار صرف ان کی معاشی اور تجارتی ترقی پر نہیں ہوتا، بلکہ ان کے اخلاقی، دینی اور سماجی رویّوں پر بھی ہوتا ہے۔ آج جب ہم اکیسویں صدی کے اس ترقی یافتہ اور جدید ترین دور میں سانس لے رہے ہیں، جہاں فاصلے سمٹ چکے ہیں اور معلومات کا سمندر ایک کلک کی دوری پر موجود ہے، تو بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ہم ترقی کے اوجِ ثریا کو چھو رہے ہیں۔ لیکن اگر ہم لمحہ بھر کے لیے ٹھہر کر اپنے اردگرد کے ماحول، اپنی ترجیحات اور اپنے رویّوں کا سنجیدگی سے تجزیہ کریں تو روح کانپ اٹھتی ہے اور زبان پر بے اختیار یہ سوال آ جاتا ہے کہ "آخر ہم کہاں جا رہے ہیں؟"

انسان جب اپنی اصل پہچان، یعنی انسانیت سے دور ہو جاتا ہے تو اس کا وجود خود ایک سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔ شرم، حیا اور احساس وہ بنیادی اوصاف ہیں جو انسان اور غیر انسان کے درمیان ایک واضح حدِ فاصل قائم رکھتے ہیں۔ جب یہی اوصاف ماند پڑ جائیں تو انسان کا ہر عمل اس کی انسانیت پر ایک گہرا زخم بن جاتا ہے، اور یہی زخم معاشرے کے چہرے پر ایک مستقل داغ چھوڑ دیتا ہے۔ آج کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ انسان نے مادی ترقی کی اندھی دوڑ میں ان اخلاقی اقدار کو فراموش کر دیا ہے جو اسے اشرف المخلوقات کا درجہ عطا کرتی ہیں۔

شرم محض ایک لفظ نہیں بلکہ ضمیر کی وہ بیدار آواز ہے جو انسان کو اچھائی اور برائی میں فرق سکھاتی ہے۔ یہ وہ اندرونی احساس ہے جو انسان کو ظلم، زیادتی اور ناانصافی کے سامنے ڈھال بننے پر مجبور کرتا ہے۔ جب یہ آواز خاموش ہو جائے تو انسان اپنی اخلاقی حدود سے تجاوز کرنے لگتا ہے اور خود کو ہر اصول و قانون سے بالاتر سمجھ بیٹھتا ہے۔ آج کا سب سے بڑا فکری بحران یہی ہے کہ انسان نے اپنی انا کو اتنا بلند کر لیا ہے کہ دوسروں کے حقوق اور جذبات اس کی نظر سے اوجھل ہو چکے ہیں۔

اگر ہم اپنے دینی پس منظر پر نظر ڈالیں تو قرآنِ مجید ہمیں اس سمت کی نشاندہی کرتا ہے جس پر چلنا ایک بہترین انسانی اور اسلامی معاشرے کی ضمانت ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

«﴿وَابْتَغِ فِيمَا آتَاكَ اللّٰهُ الدَّارَ الْآخِرَةَ وَلَا تَنْسَ نَصِيبَكَ مِنَ الدُّنْيَا وَأَحْسِنْ كَمَا أَحْسَنَ اللّٰهُ إِلَيْكَ وَلَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِي الْأَرْضِ﴾

ترجمہ: "اور جو کچھ اللہ نے تمہیں عطا کیا ہے، اس کے ذریعے آخرت کا گھر تلاش کرو، اور دنیا میں اپنا حصہ بھی نہ بھولو، اور احسان کرو جیسے اللہ نے تم پر احسان کیا ہے، اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ۔"

(سورۃ القصص: 77)»

آج اس آیتِ مبارکہ کی روشنی میں اگر ہم اپنے حالات کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہم نے آخرت کے مقابلے میں دنیا ہی کو اپنا سب کچھ سمجھ لیا ہے۔ مادہ پرستی، خود غرضی، بے حسی اور جاہلانہ رسوم و رواج نے ہمارے معاشرتی تانے بانے کو کمزور کر دیا ہے۔ اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے ایک بہترین اور متوازن معاشرے کی بنیاد انسانیت، خیرخواہی اور باہمی رحم دلی پر رکھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا:

««الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ»

ترجمہ: "مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔"

(صحیح البخاری: 10، صحیح مسلم: 40)»

جب انسان کے اندر "میں" کا زہر سرایت کر جائے تو وہ خود کو کائنات کا محور سمجھنے لگتا ہے۔ یہی خود پسندی ظلم کو جنم دیتی ہے، اور ظلم ایک مستقل سماجی رویہ بن جاتا ہے۔ جب کوئی طاقتور اپنے زعم و تکبر میں کسی کمزور کا حق پامال کرتا ہے تو معاشرے میں مظلوم وجود میں آتا ہے۔ مظلوم کی آہ و بکا انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑتی ضرور ہے، مگر طاقت، مفادات اور بے حسی کی دنیا اکثر اس چیخ کو نظر انداز کر دیتی ہے۔ ہماری زبانیں غیبت، بہتان تراشی اور نفرت انگیز گفتگو کا ذریعہ بنتی جا رہی ہیں اور ہمارے ہاتھ دوسروں کی حق تلفی کے لیے اٹھتے ہیں۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسانیت اپنی بے حسی پر شرمندگی محسوس کرتی ہے۔

شاعرِ مشرق علامہ اقبال نے ہماری فکری اور اخلاقی گراوٹ کی تصویر یوں کھینچی ہے:

«وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود
یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود»

اگر آج کے عالمی اور مقامی منظرنامے پر نظر ڈالی جائے تو ہر طرف بے چینی، جنگیں، تنازعات اور ناانصافی کے دلخراش مناظر دکھائی دیتے ہیں۔ انسان خود کو باوقار ثابت کرنے کی دوڑ میں دوسروں کو بے وقعت بنا رہا ہے، حالانکہ حقیقی وقار عدل، انصاف اور حسنِ اخلاق سے حاصل ہوتا ہے۔ ظلم ہمیشہ ذلت اور رسوائی کا سبب بنتا ہے، چاہے وہ وقتی طور پر کتنا ہی طاقتور کیوں نہ دکھائی دے۔

انسان جب آئینے کے سامنے کھڑا ہوتا ہے تو اسے صرف اپنا ظاہری چہرہ نظر آتا ہے، مگر اصل آئینہ اس کا زندہ ضمیر ہوتا ہے۔ اگر ضمیر بیدار ہو تو انسان خود احتسابی کی طرف مائل ہوتا ہے، اور اگر ضمیر مردہ ہو جائے تو وہی انسان انسانیت کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔ ہمیں یہ حقیقت کبھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ہر عمل کا حساب دینا ہوگا۔

اسلام نے مساوات اور عدل کا عالمگیر درس دیا ہے۔ حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«"کسی عربی کو کسی عجمی پر، کسی عجمی کو کسی عربی پر، کسی گورے کو کسی کالے پر اور کسی کالے کو کسی گورے پر کوئی فضیلت نہیں، مگر تقویٰ کے سبب۔"

(خطبۂ حجۃ الوداع)»

یہ وہ آفاقی اصول ہے جس پر عمل کر لیا جائے تو نفرت، تعصب اور ظلم کا خاتمہ ممکن ہو جاتا ہے۔

علامہ اقبال نے امید اور خود سازی کا پیغام دیتے ہوئے فرمایا:

«نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی»

حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی معاشرے کی اصلاح کا آغاز حکومتوں، اداروں یا قوانین سے پہلے فرد کی اپنی ذات سے ہوتا ہے۔ اگر ہر انسان دوسروں کی خامیاں تلاش کرنے کے بجائے اپنی اصلاح کا عزم کر لے تو معاشرے کی بہت سی برائیاں خود بخود ختم ہو جائیں گی۔ ایک باکردار فرد ایک باکردار خاندان کی بنیاد بنتا ہے، باکردار خاندان ایک صالح معاشرہ تشکیل دیتا ہے، اور صالح معاشرہ ہی ایک مضبوط قوم کی پہچان بنتا ہے۔ اس لیے ہمیں دوسروں کو بدلنے سے پہلے اپنے کردار، اپنی زبان، اپنے معاملات اور اپنے رویّوں کا جائزہ لینا چاہیے۔

یہ دنیا عارضی ہے اور یہاں کی کامیابیاں بھی عارضی ہیں۔ اصل اور دائمی کامیابی وہ ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ کی رضا اور آخرت کی فلاح عطا کرے۔ دولت، شہرت، منصب اور طاقت اگر انسان کو اپنے رب سے دور کر دیں تو یہ کامیابیاں درحقیقت ناکامی کا دوسرا نام ہیں، لیکن اگر یہی نعمتیں اللہ کی اطاعت، خدمتِ خلق اور نیک اعمال کا ذریعہ بن جائیں تو یہی دنیا آخرت کی کامیابی کا وسیلہ بن جاتی ہے۔

ایک سچا انسان وہی ہے جو ہر روز اپنے آپ سے یہ سوال کرے کہ آج میں نے اپنے اخلاق، اپنے کردار، اپنی عبادت، اپنی دیانت اور اپنی انسانیت میں کتنا اضافہ کیا؟ اس کی سب سے بڑی فکر دوسروں پر تنقید نہیں بلکہ اپنی اصلاح ہونی چاہیے۔ خود احتسابی وہ چراغ ہے جو انسان کو اندھیروں سے روشنی کی طرف لے جاتا ہے، اور یہی روشنی ایک بہتر معاشرے کی بنیاد بنتی ہے۔

آخر میں پھر یہی سوال ہمارے سامنے کھڑا ہے کہ "ہم کہاں جا رہے ہیں؟" اس کا جواب کسی اور کے پاس نہیں بلکہ ہمارے اپنے کردار، اعمال اور نیتوں میں پوشیدہ ہے۔ اگر ہم اپنی اصلاح کر لیں، اپنی انا کو قابو میں رکھیں، اپنے اخلاق کو سنواریں اور اپنی زندگی کو قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق ڈھال لیں تو نہ صرف ہماری اپنی زندگی بہتر ہوگی بلکہ ہمارا خاندان، ہمارا معاشرہ اور ہماری آنے والی نسلیں بھی ایک روشن مستقبل کی طرف گامزن ہوں گی۔ ایک سچے انسان کی حقیقی منزل صرف دنیاوی کامیابی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور آخرت کی کامیابی ہے۔ اس لیے ہر صاحبِ ایمان کو ہر لمحہ اپنی ذات کا محاسبہ کرتے ہوئے خود کو بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش کرتے رہنا چاہیے، کیونکہ جب فرد سنور جاتا ہے تو خاندان سنورتا ہے، خاندان سنورتا ہے تو معاشرہ سنور جاتا ہے، اور جب معاشرہ سنور جاتا ہے تو قومیں عروج کی راہ پر گامزن ہو جاتی ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔