تعلیمی اداروں پر بلڈوزر کارروائی ریاست کا وقار نہیں بلکہ قومی ترقی پر حملہ ہے - یونیورسٹی کا قیام ایک طویل اور پیچیدہ عمل؛ مجاہدِ آزادی مولانا محمد علی جوہر کے نام سے منسوب ادارے کی حرمت برقرار رکھنا حکومت کی ذمہ داری۔
اظہر ظہیر الدین کردمے، شریوردھن ضلع رایگڈھ کی خصوصی رپورٹ:
ملک میں ایک تعلیمی ادارے یا یونیورسٹی کو کھڑا کرنا کوئی معمولی کام نہیں ہے۔ اس کے لیے سالہا سال کی سخت محنت، بے پناہ قربانیوں، خطیر سرمایہ کاری اور طویل قانونی و انتظامی پیچیدہ مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ ایک ایک اینٹ جوڑ کر جب کوئی یونیورسٹی بنتی ہے، تو وہ صرف ایک عمارت نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے روشن مستقبل کا ضامن بنتی ہے۔ ترقی یافتہ معاشروں کو ہمیشہ باصلاحیت اور تعلیم یافتہ لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ موجودہ دور میں مسلمانوں سمیت ہر طبقے کے لوگوں کی سب سے بڑی ضرورت تعلیم ہی ہے، لیکن اگر تعلیم دینے والے اداروں پر ہی انتقامی کارروائی کے طور پر بلڈوزر چلایا جائے، تو آنے والی نسلوں کو اعلیٰ تعلیم، جدید علوم، تحقیق، ٹیکنالوجی اور پیشہ ورانہ مہارتوں سے آراستہ کر کے ان کی زندگیوں کو کیسے سنوارا جا سکتا ہے؟
حالیہ دنوں میں محمد علی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے سامنے آنے والے تنازعات اور انہدامی کارروائیوں کے خطرات پر ملک بھر کے دانشوروں، سماجی کارکنوں اور ملی تنظیموں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
سیاسی انتقام اور بلڈوزر کارروائی: ریاست کے وقار کے منافی
دانشوروں اور قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی ریاست کا وقار اس میں نہیں ہے کہ ہر آنے والی حکومت، جانے والی حکومت کے فیصلوں کو غیر قانونی بتا کر، شرانگیزی کر کے انتقام کے طور پر بلڈوزر کارروائی کرے اور اپنا سیاسی انتقام لینے کی کوشش کرے۔ اگر بالفرض کسی عمارت کے نقشے کی منظوری یا کسی ضابطے کی تکمیل میں کوئی کمی رہ گئی ہے، تو اسے دیگر سول معاملات کی طرح جرمانہ عائد کر کے یا قانونی لوازمات کو پورا کر کے درست کیا جا سکتا ہے۔ نقشے کی منظوری نہ ہونا کوئی ایسا سنگین جرم نہیں ہے کہ پوری یونیورسٹی کو ہی منہدم کر کے ملبے کا ڈھیر بنا دیا جائے۔ انتظامیہ کو اس بات کو ملحوظ رکھنا چاہیے کہ اس یونیورسٹی میں کسی ایک طبقے کے نہیں، بلکہ ہر سماج اور برادری سے تعلق رکھنے والے ہزاروں طلباء زیرِ تعلیم ہیں، جن کا مستقبل اس ادارے سے وابستہ ہے۔
مولانا محمد علی جوہر کی تاریخی شخصیت اور ادارے کی حرمت
اس پورے تنازعے کا سب سے زیادہ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ یہ یونیورسٹی برصغیر کے عظیم مجاہدِ آزادی، بے باک صحافی، مدیر اور قوم پرست رہنما مولانا محمد علی جوہر کے نام سے منسوب ہے۔ مولانا محمد علی جوہر نے ملک کی آزادی اور بیداری کے لیے جو قربانیاں دیں، وہ تاریخ کا ایک سنہرا باب ہیں۔ اس لیے اس عظیم قومی شخصیت کے نام اور اس تاریخی ورثے کا احترام کرنا بھی ریاستی حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ ایک مجاہدِ آزادی کے نام سے وابستہ ادارے کی حرمت کسی بھی صورت مجروح نہیں ہونی چاہیے، کیونکہ یہ براہِ راست ملک کے تاریخی اثاثوں کی توہین کے مترادف ہے۔
نفرت کی سیاست کا خاتمہ اور متبادل راستے کی ضرورت
موجودہ حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں کے ارد گرد نفرت کی سیاست نہیں کھیلی جانی چاہیے۔ اسی فرقہ پرستی اور سیاسی انتقام کی سیاست نے دیش ہندوستان کو آج ایک ایسے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں سے آگے کا کوئی فلاحی اور تعمیری راستہ نظر نہیں آ رہا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اس منفی سوچ اور ماحول کو بدلا جائے۔ ہمیں لوگوں کو ایک پرچم تلے اکٹھا کر کے فرقہ پرستی اور نسلی نفرت کے خلاف آواز بلند کرنی ہوگی۔ ہم اپنے بہترین کردار، مثبت عمل اور یکجہتی سے اس مایوس کن ماحول کو بدل سکتے ہیں۔ ہر بھارتی شہری کے دل میں ایک دوسرے کے لیے احترام، عزت، جگہ اور اتحاد پیدا کر کے ہی ہم ایک تابناک مستقبل کی جدوجہد کو جاری رکھ سکتے ہیں اور محبت کے چراغ روشن کر سکتے ہیں۔
تعلیم، معیشت اور دیش کی ترقی میں یونیورسٹیوں کا رول
ایک مضبوط تعلیمی معاشرہ ہی ہمیشہ ایک مضبوط معاشی نظام اور ایک بہترین قوم کو جنم دیتا ہے۔ جب معاشرے میں تعلیم آتی ہے، تو شعور پیدا ہوتا ہے۔ اسی شعور کے بعد تحقیق کا راستہ کھلتا ہے، اور تحقیق سے نئی ایجادات جنم لیتی ہیں۔ ایجادات کے نتیجے میں صنعتی ترقی اور صنعتی انقلاب آتا ہے، جس سے تجارت کو فروغ ملتا ہے اور ملک کی معیشت مضبوط ہوتی ہے۔ اور جب معیشت مستحکم ہوتی ہے، تو قوم سچی معنوں میں خود مختار بنتی ہے۔
جب کسی ملک میں معیاری تعلیم، مضبوط معیشت، اعلیٰ کردار اور اچھی قیادت ایک ساتھ مضبوط ہوتے ہیں، تو اس ملک کے شہریوں اور اس ملک کو بذاتِ خود پوری دنیا میں انتہائی عزت، وقار اور احترام کے ساتھ دیکھا جاتا ہے۔ اس لیے تعلیمی اداروں کو سیاسی اکھاڑہ بنانے کے بجائے ہمارے دیش کے مستقبل اور آنے والی نسلوں کے وقار کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
مطالبہ اور حل
ملی تنظیموں، دانشوروں اور باشعور شہریوں کا متفقہ مطالبہ ہے کہ حکومت اور انتظامیہ ضدی رویہ اور انتقامی سیاست چھوڑ کر متبادل قانونی راستہ نکالیں، تمام قانونی لوازمات کو پورا کروائیں اور یونیورسٹی کے وجود کو تسلیم کریں۔ کسی بھی قسم کی انتظامی بے ضابطگی کو قانون کے دائرے میں رہ کر حل تلاش کر کے دور کیا جائے تاکہ یونیورسٹی کا تحفظ بھی ہو سکے اور وہاں زیرِ تعلیم ہزاروں طلباء کا مستقبل بھی محفوظ رہے۔ تعلیمی اداروں کو بچانا ہی دراصل ملک کے مستقبل اور اس کی ترقی کو بچانا ہے۔
اظہر ظہیر الدین کردمے
شریوردھن ضلع رایگڈھ
Comments
Post a Comment