ظہیرآباد میں بارانِ رحمت کے حصول کے لیے تین روزہ نمازِ استسقاء کا اعلان - جمیع علماء و حفاظ ظہیرآباد اور عیدگاہ کمیٹی کی جانب سے شہر اور اطراف کے مسلمانوں سے بھرپور شرکت کی اپیل -
ظہیرآباد 15 جولائی(نمائندہ ،جی،یم،)بارشوں کے موسم کے باوجود علاقے میں مسلسل بارش نہ ہونے اور خشک سالی کی سنگین صورتحال کے پیشِ نظر جمیع علماء و حفاظ ظہیرآباد اور عیدگاہ کمیٹی ظہیرآباد کے مشترکہ زیرِ اہتمام سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق تین روزہ نمازِ استسقاء کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔
منتظمین کے مطابق یہ روحانی اجتماع 18، 19 اور 20 جولائی 2026 (ہفتہ، اتوار اور پیر) کو عیدگاہ میدان، ظہیرآباد میں منعقد ہوگا۔ ہر روز صبح 7:15 بجے تا 8:00 بجے خصوصی اصلاحی و ہدایتی بیان ہوگا، جس کے فوراً بعد صبح ٹھیک 8:00 بجے نمازِ استسقاء ادا کی جائے گی۔ نماز کے بعد خطبۂ استسقاء اور بارانِ رحمت کے لیے انتہائی رقت انگیز اجتماعی دعا کا اہتمام ہوگا۔
بارشوں کی غیر معمولی تاخیر نے پورے علاقے میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ کسان پریشان ہیں، کھڑی فصلیں پانی کی منتظر ہیں، تالاب، کنویں اور آبی ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔ موسمی بے اعتدالی کے باعث زرعی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں اور عوام بارانِ رحمت کے لیے بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں۔ ایسے نازک حالات میں شریعتِ اسلامیہ ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع، سچی توبہ، کثرتِ استغفار اور عاجزی و انکساری کے ساتھ نمازِ استسقاء ادا کرنے کی تلقین کرتی ہے۔
تینوں دن کا پروگرام حسبِ ذیل ہوگا:
ہفتہ، 18 جولائی
خصوصی بیان: حضرت مولانا عتیق احمد صاحب قاسمی دامت برکاتھم
نمازِ استسقاء و خطبہ: حضرت مولانا مفتی عبد القدوس صاحب
اجتماعی دعا: حضرت مولانا فاروق صاحب قاسمی (مدرسہ خیرالعلوم، رنجھول)
اتوار، 19 جولائی
خصوصی بیان: حضرت مولانا مفتی عبدالصبور قاسمی
نمازِ استسقاء و خطبہ: حضرت مولانا حمایت علی صاحب رشادی
اجتماعی دعا: حضرت مولانا عبدالمجیب صاحب قاسمی
پیر، 20 جولائی
خصوصی بیان: حضرت مولانا مفتی خلیل احمد قاسمی
نمازِ استسقاء و خطبہ: حضرت مولانا مفتی نذیر احمد حسامی صاحب
اجتماعی دعا: محترم قاضی ضیا صاحب صاحب، خطیب عیدگاہ ظہیرآباد
جمیع علماء و حفاظ ظہیرآباد اور عیدگاہ کمیٹی ظہیرآباد نے ظہیرآباد شہر، تمام منڈلوں اور گرد و نواح کے تمام دیہات کے مسلمانوں سے نہایت پُرزور اپیل کی ہے کہ وہ تینوں دن صبح 7:15 بجے سے قبل باوضو عیدگاہ میدان پہنچیں، دنیاوی مشاغل کو کچھ دیر کے لیے ترک کرکے اخلاصِ دل کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوں، اپنے گناہوں پر سچی ندامت کا اظہار کریں، کثرت سے توبہ و استغفار کریں اور نوجوانوں، بزرگوں اور بچوں سمیت زیادہ سے زیادہ تعداد میں اس بابرکت اجتماع میں شریک ہوں۔
منتظمین نے کہا کہ نمازِ استسقاء محض ایک رسم نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کو متوجہ کرنے، اپنی کوتاہیوں پر معافی مانگنے اور اجتماعی طور پر ربِ کریم کے سامنے عاجزی اختیار کرنے کا عظیم ذریعہ ہے۔ امید ہے کہ اہلِ ایمان کی اجتماعی دعاؤں، توبہ و استغفار اور رجوع الی اللہ کی برکت سے اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے بارانِ رحمت نازل فرمائے گا، خشک سالی کا خاتمہ کرے گا، کسانوں کی محنت کو بارآور بنائے گا اور پورے علاقے کو خیر و برکت سے سرفراز فرمائے گا۔۔۔۔۔
Comments
Post a Comment