اقبال فہمی - (قسط چہارم)۔ ہمالہ حرکتِ کائنات، تسخیرِ فطرت اور قدرتِ الٰہی کا نظام ہے۔ ازقلم : ابرارالحق مظہرؔ حسناتی۔


اقبال فہمی - 
 (قسط چہارم)
ہمالہ حرکتِ کائنات، تسخیرِ فطرت اور قدرتِ الٰہی کا نظام ہے۔
ازقلم : ابرارالحق مظہرؔ حسناتی۔

علامہ محمد اقبال کی نظم ہمالہ کا یہ حصہ اس اعتبار سے نہایت اہم ہے کہ یہاں شاعر جامد نظر آنے والی فطرت کو ایک متحرک زندہ اور مسلسل عمل پذیر نظام کے طور پر پیش کرتا ہے۔ ہمالہ اس کے دامن سے پھوٹتے چشمے فضاؤں میں تیرتے بادل ہوا کی بے قراری اور بجلی کی چمک یہ سب اقبال کے نزدیک الگ الگ مناظر نہیں بلکہ ایک ہی عظیم ربانی نظام کے باہم مربوط اجزا ہیں۔ قرآن مجید نے کائنات کو بارہا ایک زندہ اور منظم نظام کے طور پر پیش کیا ہے جہاں ہر ذرہ اپنے مقررہ قانون کے مطابق اپنے رب کی اطاعت میں مصروف ہے۔ اقبال اسی قرآنی تصور کو شعری پیکر عطا کرتے ہیں۔ وہ فطرت کو محض حسن کا مظہر نہیں سمجھتے بلکہ اسے حرکت نظم حکمت اور قدرتِ الٰہی کی مسلسل تجلی قرار دیتے ہیں۔

اقبال فرماتے ہیں:

چشمۂ دامن ترا آئینۂ سیال ہے
دامنِ موجِ ہوا جس کے لیے رومال ہے

یہ شعر بظاہر ایک نہایت دلکش منظر کی تصویر ہے لیکن اس کے پس منظر میں اقبال کا جمالیاتی اور فکری شعور پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہے۔ ہمالہ کے دامن سے بہنے والا چشمہ اپنی شفافیت میں آئینے کی مانند ہے۔ مگر اقبال کی نظر صرف پانی کی صفائی پر نہیں جاتی بلکہ وہ اس کی روانی کو زندگی کی علامت قرار دیتے ہیں۔ پانی اگر رک جائے تو بدبو پیدا ہو جاتی ہے لیکن جب وہ بہتا رہتا ہے تو زندگی بخشتا ہے۔ یہی قانون انسان کی خودی پر بھی منطبق ہوتا ہے۔ جو شخصیت حرکت جستجو اور مسلسل ارتقا کو اپنا شعار بنا لیتی ہے وہ زندہ رہتی ہے اور جو جمود کا شکار ہو جائے وہ اپنی تمام ظاہری قوت کے باوجود مردہ ہو جاتی ہے۔
یہی تصور بعد میں اقبال کے اس معروف پیغام میں پوری وضاحت سے سامنے آتا ہے کہ زندگی کا راز حرکت میں ہے نہ کہ سکون اور جمود میں۔ ان کے نزدیک مومن ایک بہتے ہوئے چشمے کی مانند ہے جو خود بھی پاک رہتا ہے اور دوسروں کو بھی تازگی عطا کرتا ہے۔ اس کے برعکس وہ زندگی جو صرف اپنی ذات تک محدود ہو جائے وہ ایک ٹھہرے ہوئے جوہڑ کی مانند ہے جس میں نہ تازگی باقی رہتی ہے اور نہ زندگی۔
دوسرے مصرعے میں اقبال فرماتے ہیں کہ ہوا کی موجیں اس چشمے کے کنارے کو گویا رومال کی طرح چھوتی اور لہراتی رہتی ہیں۔ یہاں شاعر فطرت کے مختلف عناصر کے درمیان ایک نہایت حسین ہم آہنگی کا نقشہ کھینچتے ہیں۔ پانی ہوا پہاڑ اور روشنی ایک دوسرے سے جدا نہیں بلکہ ایک ہی خالق کے مقرر کردہ نظام میں ایک دوسرے کے معاون ہیں۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے قرآن مجید بار بار انسان کے سامنے رکھتا ہے تاکہ وہ کائنات کے نظم کو دیکھ کر اپنے رب کی وحدانیت پر ایمان لائے۔

پھر شاعر فرماتے ہیں:

ابر کے ہاتھوں میں رہوارِ ہوا کے واسطے
تازیانہ دے دیا برقِ سرِ کوہسار نے

یہ شعر اقبال کے تخیل کی بلندی اور ان کی فطرت شناسی کا بے مثال نمونہ ہے۔ بادل گویا ایک سوار ہے ہوا اس کی سواری ہے اور پہاڑ کی چوٹی پر چمکنے والی بجلی اس کے ہاتھ میں تازیانہ بن جاتی ہے۔ اس منظر میں شاعر نے پوری فضا کو ایک زندہ کارواں بنا دیا ہے۔ لیکن اس تصویر کے پیچھے ایک نہایت گہرا پیغام پوشیدہ ہے۔
اقبال کے نزدیک کائنات کا کوئی عنصر بے مقصد نہیں۔ بجلی محض روشنی نہیں ہوا صرف ایک طبعی قوت نہیں اور بادل محض پانی کے ذخیرے نہیں بلکہ یہ سب اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ نظام کے کارکن ہیں۔ قرآن مجید بادلوں کو بارش کا ذریعہ ہواؤں کو رحمت کی بشارت اور بجلی کو خوف و امید کی علامت قرار دیتا ہے۔ اقبال اسی قرآنی شعور کو شعری پیکر عطا کرتے ہیں تاکہ انسان فطرت کے ہر منظر میں قدرتِ الٰہی کے نظام کو پہچان سکے۔
یہ شعر ایک اور حقیقت بھی واضح کرتا ہے کہ پوری کائنات مسلسل عمل میں مصروف ہے۔ کہیں سکون نہیں ہر طرف حرکت ہے ہر طرف ذمہ داری ہے اور ہر طرف ایک مقصد ہے۔ اقبال اسی حرکت کو زندگی کی اصل روح قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک جو قومیں حرکت چھوڑ دیتی ہیں وہ تاریخ کے میدان سے نکل جاتی ہیں اور جو حرکت کو اپنا شعار بناتی ہیں وہ زمانے کی قیادت کرتی ہیں۔

پھر اقبال فرماتے ہیں:

اے ہمالہ! کوئی بازی گاہ ہے تو بھی جسے
دستِ قدرت نے بنایا ہے عناصر کے لیے

یہ شعر نظم کے اہم ترین فکری نکات میں شمار ہوتا ہے۔ اقبال ہمالہ کو دیکھ کر یہ نہیں کہتے کہ یہ محض پتھروں کا انبار ہے بلکہ وہ اسے قدرت کی ایک عظیم تجربہ گاہ قرار دیتے ہیں۔ یہاں ہوا بھی ہے پانی بھی برف بھی، آگ بھی بجلی بھی اور نباتات بھی۔ گویا تمام عناصر ایک دوسرے کے ساتھ ایک متوازن نظام میں کام کر رہے ہیں۔
بازی گاہ کا لفظ یہاں نہایت بلیغ ہے۔ اس سے مراد کھیل تماشا نہیں بلکہ وہ میدان ہے جہاں مختلف قوتیں اپنے اپنے قوانین کے مطابق اپنا کردار ادا کرتی ہیں۔ قرآن مجید واضح کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو کھیل کے طور پر پیدا نہیں کیا بلکہ ایک عظیم مقصد کے تحت پیدا فرمایا ہے۔ اقبال اسی حقیقت کو شعری زبان میں بیان کرتے ہیں کہ پوری کائنات اللہ تعالیٰ کی حکمت کا ایک منظم مظہر ہے جہاں ہر چیز اپنی ذمہ داری ادا کر رہی ہے۔ انسان اگر اس نظام کو سمجھ لے تو اسے معلوم ہوگا کہ اس کی اپنی زندگی بھی بے مقصد نہیں بلکہ ایک عظیم امانت اور ذمہ داری ہے۔

آخر میں شاعر فرماتے ہیں:

ہائے کیا فرطِ طرب میں جھومتا جاتا ہے ابر
فیلِ بے زنجیر کی صورت اُڑا جاتا ہے ابر

اس شعر میں اقبال نے بادل کی حرکت کو ایک آزاد ہاتھی سے تشبیہ دی ہے۔ یہ تشبیہ صرف قوت کا اظہار نہیں بلکہ آزادی وسعت اور بے ساختگی کی علامت بھی ہے۔ بادل کبھی ایک جگہ مقید نہیں رہتا۔ وہ مسلسل سفر کرتا ہے سمندروں سے پانی لیتا ہے پہاڑوں پر برستا ہے، میدانوں کو سیراب کرتا ہے اور پھر نئے سفر پر روانہ ہو جاتا ہے۔
اقبال کے نزدیک یہی حرکت زندگی کی اصل شان ہے۔ جو انسان اپنے علم اپنے اخلاق اپنی خدمت اور اپنی فکر کو ایک جگہ منجمد کر دیتا ہے وہ فطرت کے اس ابدی قانون سے ٹکرا جاتا ہے جس پر پوری کائنات قائم ہے۔ لیکن جو مسلسل سیکھتا بڑھتا سفر کرتا اور دوسروں کے لیے نفع کا ذریعہ بنتا ہے وہ بادل کی طرح زندگی بخش بن جاتا ہے۔
اسی لیے اس پورے حصے میں علامہ اقبال فطرت کے مختلف مناظر کے ذریعے انسان کو یہ تعلیم دیتے ہیں کہ کائنات کا ہر ذرہ حرکت نظم تعاون اور مقصدیت کا پیغام دے رہا ہے۔ پہاڑ اپنی جگہ ثابت ہے مگر اس کے دامن میں چشمے رواں ہیں اس کی چوٹیوں پر بجلی متحرک ہے اس کے گرد بادل گردش کر رہے ہیں اور ہوائیں مسلسل رواں ہیں۔ گویا ثبات اور حرکت ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل ہیں۔ یہی وہ توازن ہے جس پر فرد کی خودی، معاشرے کی تعمیر اور تہذیبوں کا عروج قائم ہوتا ہے اور یہی وہ قرآنی حقیقت ہے جسے اقبال نے اپنے مخصوص حکیمانہ اسلوب میں نظم ہمالہ کے ان اشعار میں جاودانی صورت عطا کر دی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔