افسانہ: "طلاق" - ازقلم : راشیدہ یاسمین، سکلیشپور، ضلع ہاسن(کرناٹک)
افسانہ: "طلاق" -
ازقلم : راشیدہ یاسمین، سکلیشپور،
ضلع ہاسن(کرناٹک)
سیل نمبر:9035972491
یہ ایک عام سا گھر تھا… مگر اس کے اندر محبت سے زیادہ خاموشی رہنے لگی تھی۔ پہلے باتوں میں نرمی تھی، پھر لہجوں میں تھکن آگئی، اور پھر تھکن نے جھگڑوں کی شکل اختیار کر لی۔
سمیرا اور اس کے شوہر کے درمیان اب ہر بات بحث بن جاتی تھی۔ کبھی چھوٹے مسئلے بڑے ہو جاتے، کبھی بڑے مسئلے انا کی دیوار میں چھپ جاتے۔ گھر کی دیواریں بھی جیسے ان آوازوں سے تھک چکی تھیں۔
اس گھر میں ایک ننھی سی بچی بھی تھی—زینتہ۔
زینتہ ابھی اتنی چھوٹی تھی کہ لفظوں کے معنی نہیں سمجھتی تھی، مگر لہجے ضرور سمجھ لیتی تھی۔ اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ گھر میں ہنسی کم ہو گئی ہے اور خاموشی زیادہ۔
وہ اکثر ماں کے پاس آ کر کہتی: "امی… آپ کی آنکھیں گیلی کیوں ہیں؟"
پھر باپ کی طرف دیکھ کر آہستہ سے پوچھتی: "ابو… آپ گھر میں رہ کر بھی دور کیوں لگتے ہیں؟"
مگر دونوں کے پاس جواب نہیں تھا… یا شاید ہمت نہیں تھی۔
وقت گزرتا گیا اور رشتے کی دراڑیں گہری ہوتی گئیں۔ مصالحت کی چند کوششیں بھی ہوئیں، بزرگوں نے سمجھایا، خیر خواہوں نے نصیحت کی، مگر دلوں پر پڑی انا کی گرد صاف نہ ہو سکی۔
پھر ایک دن وہ لفظ ادا ہو گیا جسے اسلام نے آخری دروازہ قرار دیا ہے، مگر لوگ اکثر غصے میں اسے پہلا راستہ بنا لیتے ہیں۔
طلاق۔
ایک لمحہ، ایک لفظ، اور برسوں کا ساتھ ٹوٹ گیا۔
گھر وہی تھا، مگر اب اس کی چھت دو حصوں میں تقسیم ہو چکی تھی۔
سمیرا الگ ہو گئی۔
اس کا شوہر الگ ہو گیا۔
اور زینتہ؟
وہ دونوں کے درمیان رہ گئی۔
جیسے کسی کتاب کا وہ صفحہ جسے دو ہاتھ اپنی اپنی طرف کھینچ رہے ہوں۔
ابتدا میں اسے سمجھایا گیا کہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔
پھر کہا گیا کہ وقت سب کچھ سکھا دیتا ہے۔
مگر وقت نے اسے جینا تو سکھایا، خوش رہنا نہیں۔
کبھی وہ ماں کے گھر ہوتی تو باپ کی کمی محسوس کرتی، کبھی باپ کے پاس ہوتی تو ماں کی یاد اسے بے چین کر دیتی۔
اس کے پاس دونوں تھے، مگر پھر بھی کوئی مکمل طور پر اس کا نہیں تھا۔
کچھ عرصے بعد زندگی نے ایک اور کروٹ لی۔
سمیرا نے دوسری شادی کر لی۔
اس کے سابق شوہر نے بھی نئی زندگی شروع کر دی۔
نئے گھروں میں نئی خوشیاں تھیں، نئے رشتے تھے، نئی ترجیحات تھیں۔
صرف زینتہ پرانی تھی۔
وہ ہر جگہ موجود تھی، مگر کسی جگہ کا مرکز نہیں تھی۔
کبھی اسے محسوس ہوتا جیسے وہ مہمان ہے، کبھی یوں لگتا جیسے ایک اضافی ذمہ داری۔
وہ پہلے کی طرح شوخ اور زندہ دل نہ رہی۔
اس کی آنکھوں میں وقت سے پہلے سنجیدگی اتر آئی تھی۔
اسکول میں بچے کھیلتے، ہنستے، لڑتے جھگڑتے اور پھر مان جاتے۔
مگر زینتہ اکثر تنہا بیٹھی کھڑکی سے باہر دیکھتی رہتی۔
ایک دن استاد نے پوچھا:
"بیٹی! تم اتنی خاموش کیوں رہتی ہو؟"
زینتہ نے سر جھکا لیا۔
وہ کیا جواب دیتی؟
کیا بتاتی کہ بعض دکھ الفاظ سے بڑے ہوتے ہیں؟
ایک شام وہ اسکول سے واپس آ رہی تھی۔ سامنے ایک بچی اپنے ماں باپ کے ساتھ ہنس رہی تھی۔ باپ نے اسے کندھے پر بٹھا رکھا تھا اور ماں اس کے بال سنوار رہی تھی۔
زینتہ رک گئی۔
کچھ لمحوں تک وہ انہیں دیکھتی رہی۔
پھر اس نے نظریں جھکا لیں۔
اس کی آنکھوں میں نمی اتر آئی تھی۔
گھر پہنچ کر اس نے اپنی ڈائری نکالی اور لکھا:
"میرے پاس ماں بھی ہے اور باپ بھی…
پھر بھی میں خود کو اکیلا کیوں محسوس کرتی ہوں؟"
الفاظ دھندلا گئے۔
شاید آنسو صفحے پر گر پڑے تھے۔
رات گہری ہو رہی تھی۔
کھڑکی کے باہر چاند خاموش کھڑا تھا۔
زینتہ نے آسمان کی طرف دیکھا اور آہستہ سے کہا:
"یا اللہ!
میں نے کسی سے کچھ نہیں مانگا۔
بس اتنا بتا دے کہ بچوں کا قصور کیا ہوتا ہے؟
جب بڑے ناراض ہوتے ہیں تو سزا بچوں کو کیوں ملتی ہے؟
جب گھر ٹوٹتے ہیں تو سب سے پہلے بچپن کیوں بکھرتا ہے؟"
ہوا کا ایک جھونکا آیا۔
کھڑکی کا پردہ ہولا سا ہلا۔
اور زینتہ کو یوں محسوس ہوا جیسے کائنات بھی اس کے سوال کا جواب ڈھونڈ رہی ہو۔
اس رات وہ دیر تک جاگتی رہی۔
پھر نہ جانے کب اس کی آنکھ لگ گئی۔
خواب میں اس نے خود کو ایک سرسبز باغ میں دیکھا۔
وہاں نہ جھگڑے تھے، نہ جدائیاں، نہ آنسو۔
وہ بھاگتی ہوئی گئی اور دیکھا کہ اس کے ماں باپ ایک درخت کے نیچے بیٹھے مسکرا رہے ہیں۔
وہ دوڑ کر ان سے لپٹ گئی۔
پہلی بار اسے لگا کہ وہ مکمل ہے۔
مگر خواب آخر خواب تھا۔
صبح آنکھ کھلی تو حقیقت پھر سامنے کھڑی تھی۔
مگر اس رات کے بعد زینتہ بدل گئی۔
اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے دکھ کو اپنی طاقت بنائے گی۔
وہ خوب پڑھی، محنت کی، اور وقت کے ساتھ ایک ماہرِ نفسیات بن گئی۔
اب اس کے پاس ایسے بچے آتے تھے جن کے گھر بکھر چکے تھے۔
وہ ان کی باتیں سنتی، ان کے آنسو پونچھتی اور انہیں احساس دلاتی کہ ان کا کوئی قصور نہیں۔
ایک دن ایک ننھی بچی اس کے پاس آئی اور روتے ہوئے بولی:
"آپی! میرے امی ابو الگ ہو گئے ہیں۔"
زینتہ نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔
اس کی اپنی آنکھیں بھیگ گئیں۔
مگر اس نے مسکرا کر کہا:
"بیٹی! یاد رکھو، ماں باپ کی جدائی تمہاری غلطی نہیں ہوتی۔"
یہ کہتے ہوئے اسے اپنا بچپن یاد آ گیا۔
وہی بچپن جو کبھی خاموشی کی قبر میں دفن ہو گیا تھا۔
اس نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔
سورج طلوع ہو رہا تھا۔
اور اسے محسوس ہوا کہ شاید زندگی کا مقصد اپنے زخموں کو رونا نہیں، بلکہ دوسروں کے زخموں کے لیے مرہم بن جانا ہے۔
مگر اس کے دل کے کسی کونے میں ایک سوال آج بھی زندہ تھا:
"طلاق اگر ناگزیر ہو تو ہو جائے، مگر کیا ہم اپنے بچوں کے دلوں کو بھی ساتھ ہی طلاق دے دیتے ہیں؟"
یہ سوال آج بھی ہزاروں گھروں کی دیواروں پر لکھا ہے۔
کچھ لوگ اسے پڑھ لیتے ہیں۔
کچھ سمجھ لیتے ہیں۔
اور کچھ… بہت دیر کر دیتے ہیں۔
Comments
Post a Comment