سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا - نازیہ الہی کی بکواس کے پس منظر میں - بقلم : محمد ناظم ملی استاد جامعہ اکل کواں۔


سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا - 
نازیہ الہی کی بکواس کے پس منظر میں - 
 بقلم : محمد ناظم ملی استاد جامعہ اکل کواں۔

ارباب عقل و دانش کا یہ قدیم تجربہ ہے کہ جب چاند اپنے اب و تاب کے ساتھ اسمان پر اپنی ضیا پاشی کرتے ہوئے افاق وانفس کو منور کر رہا ہوتا ہے تو ستارے اس کا ہالہ بن کر اس کی روشنی اور ضیا باری کو مزید بڑھا دیتے ہیں اور اس کے اطراف و جوانب میں مضبوط حصار بن جایا کرتے ہیں اسمان نبوت کے ماہ تمام مصطفی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گردا گرد رب العلی نے صحابہ و صحابیات جیسی نفوس قدسیہ کو ہالہ بنا دیا ان خوش نصیب بخت آور لوگوں میں عفیفہ کائنات محمد مصطفی کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا مقام بہت بلند اعلی و بالا ہے اصحاب نبی کی اس مبارک جماعت پر سب و شتم اور لعن طعن کرنے والے بدقماش خیر القرون اور نبی محترم کے عہد سعید میں بھی رہے ہیں اور بعد کے ادوار میں بھی نظر اتے رہے ہیں اور اج ہمارے دور میں تو مورو مگس اور کیڑے مکوڑوں کی طرح رینگ رہے ہیں ابھی کل کی بات ہے ایک ایکس مسلم خاتون جس کا نام اب ہم بجائے" نازیہ" کے اس کو "ناریہ"(جہنمی) سے تعبیر کرنا پسند کریں گے اس بدقماش نے حضرت رسول مقبول اور اپ کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ کے بارے میں اپنے نا اہل کم ظرف اقاؤں کو خوش کرنے کے لیے بھونکنا شروع کیا ہے اور شان عائشہ اور ختم المرسلین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی مرتکب ہوئی ہے یہ فکر گستاخ ناخن تدبیر سے عاری (مائے مستعمل) سیدہ عائشہ کی شان و عظمت کیا جانے؟میں اپنے جذبہ ایمانی سے مجبور سیدھا قران کریم کتاب مبین اور سرچشمہ رشد و ہدایت کلام اللہ کی عدالت میں ا کھڑا ہوا میں نے قران کے در دولت پر دستک دی میں نے سوال کیا پوچھا کہ صحابہ و صحابیات کی عظمت پر ڈاکہ پڑ رہا ہے تو توانکی عظمت بیان کر قران بولا. 
 اولئك هم المؤمنون حقا دوسری جگہ ارشاد فرمایا
 ولكن الله حبب اليكم الايمان وزينه في قلوبكم وكره اليكم الكفر والعصيان اولئك هم الراشدون 
پھر قران مجید نے ایک اور اواز لگائی
لقد رضي الله عن المؤمنين اذ يبايعونك تحت الشجره 
میں نے بالخصوص سیدہ عائشہ کے بارے میں پوچھا تو قران نے عظمت عائشہ پرسورہ نور کی سولہ آیتیں سنا دیں اسی فکر و خیال میں میں نے در نبی پر دستک دی تو زبان فیض رسالت سے اواز بلند ہوئی
من سب على اصحابي فعليه لعنه الله والملائكه والناس اجمعين 
اسلاف کی چوکھٹ پر جبی سائیں کی تو تخریج مشکات میں ایک نابغہ روزگار ہستی امام البانی رحمت اللہ علیہ نے میری رہنمائی کی اور انہوں نے حضرت رسول مقبول کا فرمان سنادیا
 اكرموا اصحابي فانهم خياركم
پھر اگے بڑھا تو عالم اسلام کی ایک عہد ساز شخصیت شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کو منھاج السنۃ میں یہ کہتے ہوئے پایا کہ" یہ رافضی اور بے دین یہود اور نصاری سے بھی بدتر ہے کہ انہوں نے اصحاب نبی کی ذات کو نشانہ نہ بنایا برا بھلا نہ کہا" اب اپ اندازہ کیجئے ایک صحابی رسول یا صحابیہ پر کس طرح کا کوئی بھی بھدا لفظ کہنا ایمان کو بے اثر کر دیتا ہے چہ جائکہ حضرت رسول مقبول اور ان کی زوجہ محترمہ عفیفہ کائنات سیدہ عائشہ صدیقہ کے بارے میں کچھ الول جلول بکنا کہاں لے جائے گا کیا روز محشر یہ لوگ اپنے نبی کو منہ دکھا سکیں گے رات دن گندگی کے ڈھیر پر بیٹھ کر اپنی ہوس مٹانے والی ناریہ عفت و عصمت کو کیا جانے اور عفیفہ کائنات سیدہ عائشہ کے مقام کا اس کو کیا ادراک ! خدا کی مصلحت اس کے اعمال و افعال کی حکمت تک اسی بدقماش ناریہ( جہنمی) کی کیا رسائی! عفت و عصمت اور شرافت کو وہ کیا جانے؟ خدا کی مصلحت تھی کہ میرے محبوب کے پاکیزہ گھرانے کی اور پاکیزہ زندگی میں انے والی رفیقہ حیات ایسی ہو کہ بالغ ہوں تو نگاہ نبوت اس پر پڑے اور اس کی نگاہ نبی محترم کی ذات پر پڑے یعنی خدا کو یہ بھی گوارا نہ ہوا کہ وہ بلوغ کے بعد کسی غیر کی نگاہ پڑے تو خدا کے تکوینی نظام کے تحت ٩ نو سال کی عمر میں رخصتی کرا کر اپنے محبوب پیغمبر کی پاکیزہ زندگی اور پاکیزہ گھرانے کی زینت بنا دیا یاد رہے کہ اب و ہوا اور اشیائے خورد نوش کے سبب عرب میں اس عمر میں بھی لڑکیاں بالغ ہو جاتی ہیں اس لیے کم عمری کا اعتراض بھی بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے گندگی کے ڈھیر سے خوراک حاصل کرنے والی ذہنیت کہاں اس راز کو سمجھ سکتی ہیں اور اس مصلحت کا ادراک کر سکتی ہے اس ناپاک ذہنیت نے ہر زمانے میں نیک سیرت پاک فطرت لوگو ہی کو ہدف تنقید اور اپنی بکواس کا نشانہ بنایا ہے ورنہ آج کم عمری میں ریف بد سلوکی اور بلتکاری کی اتنی وارداتیں ائے دن ہوتی رہی ہیں ان کم ظرف ذہنیت کو اس طرف کبھی خیال نہیں جاتا اور اگر خیال جاتا بھی ہے تو 1450 سال پہلے کے لوگوں کی طرف۔ لوگ اکثر و بیشتر چند کھنکھناتے سکوں یا عہدوں کے بدلے اپنی اخرت برباد ایمان برباد روایتوں کا شکار ہوتے ہیں بڑے افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ جن لوگوں کی نظر میں دنیا ہی سب کچھ ہے ان لوگوں کو نہ ایمان کی نہ اسلام کی نہ اپنی غیرت کی ذرا پرواہ نہیں اور وہ صحابہ و صحابیات کی شان میں گستاخیاں کر کے خدائی غضب کو اپنے اوپر دعوت دے رہے ہیں مگر یاد رہیں 
ہم نے ہر دور میں تقدیس رسالت کے لیے 
وقت کی تیز ہواؤں سے بغاوت کی ہے 
چھوڑ کر رسم سیاست کا فسوں 
بس ایک نام محمد سے محبت کی ہے

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔