کیا مانسون اجلاس میں بیڑ کے سلگتے ہوئے حالات پر سنجیدگی سے بحث ہوگی؟ تحریر: فاروق احمد قادری۔
کیا مانسون اجلاس میں بیڑ کے سلگتے ہوئے حالات پر سنجیدگی سے بحث ہوگی؟
تحریر: فاروق احمد قادری۔
ریاستی اسمبلی کا مانسون اجلاس ممبئی میں شروع ہو رہا ہے۔ اس اجلاس پر پورے مہاراشٹر کی نظریں جمی ہوئی ہیں، مگر بیڑ ضلع کے عوام کی امیدیں خاص طور پر اپنے چھ ارکانِ اسمبلی اور رکنِ پارلیمنٹ سے وابستہ ہیں۔ عوام یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ ضلع کے سلگتے ہوئے مسائل کو پوری سنجیدگی کے ساتھ ایوان میں اٹھائیں گے اور حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کریں گے۔
گزشتہ کچھ عرصے سے بیڑ ضلع مسلسل مختلف سنگین واقعات کی وجہ سے خبروں میں رہا ہے۔ قتل، لوٹ مار، خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم، غیر قانونی ریت کی اسمگلنگ، گٹکا مافیا کی سرگرمیاں، بے روزگاری، کسانوں کے مسائل اور دیگر سماجی برائیاں عوام کے لیے شدید تشویش کا باعث بنی ہوئی ہیں۔ عام شہری اپنے جان و مال کے تحفظ کے بارے میں فکرمند ہیں اور امن و امان کی صورتِ حال پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔
پرلی کے رہائشی توحید خان کے قتل نے پورے ضلع کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ اگرچہ پولیس نے اس مقدمے میں چند ملزمان کو گرفتار کیا ہے، لیکن عوام کا کہنا ہے کہ اس واردات میں ملوث دیگر اہم ملزمان اور گینگ کے سرغنہ کی گرفتاری بھی اتنی ہی ضروری ہے تاکہ انصاف کے تقاضے مکمل ہوں۔ مختلف سماجی تنظیموں اور شہریوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اس مقدمے کی تفتیش میں مزید تیزی لائی جائے، تمام ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور اگر عدالت میں جرم ثابت ہو جائے تو انہیں قانون کے مطابق سخت ترین سزا دی جائے۔ بعض حلقوں کی جانب سے سزائے موت کا مطالبہ بھی سامنے آ رہا ہے۔
دوسری طرف بیڑ میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری نوجوانوں کے مستقبل پر ایک بڑا سوالیہ نشان بن چکی ہے۔ ضلع میں بڑے صنعتی منصوبوں کی کمی، سرمایہ کاری کا فقدان اور روزگار کے محدود مواقع نوجوانوں کو مایوسی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ کسان بھی معاشی مشکلات، قدرتی آفات اور دیگر مسائل سے نبرد آزما ہیں، جبکہ کسانوں کی خودکشی کے واقعات بھی تشویش پیدا کرتے ہیں۔ جب روزگار، صنعت اور ترقی کے مواقع کم ہوں تو نوجوانوں میں بے چینی بڑھنا ایک فطری امر ہے، جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
عوام یہ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم کی روک تھام کے لیے کیا مؤثر اقدامات کیے جائیں گے؟ غیر قانونی ریت کی اسمگلنگ اور گٹکا مافیا پر کب قابو پایا جائے گا؟ پولیس اور انتظامیہ کی جوابدہی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے حکومت کیا حکمتِ عملی اختیار کرے گی؟ اور بیڑ کو ترقی، سرمایہ کاری اور روزگار کے نئے مواقع فراہم کرنے کے لیے کون سا ٹھوس منصوبہ پیش کیا جائے گا؟
مانسون اجلاس بیڑ کے عوام کے لیے ایک اہم امتحان بھی ہے اور ایک بڑی امید بھی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ضلع کے چھ ارکانِ اسمبلی اور رکنِ پارلیمنٹ سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر عوام کے سلگتے ہوئے مسائل کو کتنی مضبوطی سے ایوان میں اٹھاتے ہیں۔ عوام کو صرف یقین دہانیوں کی نہیں بلکہ عملی اقدامات، مؤثر فیصلوں اور واضح نتائج کی امید ہے۔
بیڑ کے عوام کی خواہش صرف اتنی ہے کہ ان کا ضلع جرائم، خوف اور بے یقینی کی پہچان نہ بنے بلکہ امن، انصاف، ترقی، تعلیم، صنعت اور روزگار کی نئی مثال قائم کرے۔ یہی وقت ہے کہ حکومت، انتظامیہ اور عوامی نمائندے مل کر ایسے فیصلے کریں جن سے بیڑ کا مستقبل محفوظ، روشن اور خوشحال بن سکے۔ یہی مانسون اجلاس کی سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔
Comments
Post a Comment