ناپاکی اور غسل کا طریقہ - از قلم : شعیب احمد محمدی۔


ناپاکی اور غسل کا طریقہ - 
از قلم : شعیب احمد محمدی۔ 

1. طہارت نصف ایمان ہے
اسلام میں پاکی کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ اللہ تعالی نے قرآن میں فرمایا بے شک اللہ توبہ کرنے والوں اور پاک رہنے والوں کو پسند کرتا ہے سورہ البقرہ۔
ناپاکی دو طرح کی ہوتی ہے چھوٹی ناپاکی یعنی بے وضو ہونا اور بڑی ناپاکی یعنی جنابت حیض اور نفاس۔ بڑی ناپاکی کے لیے غسل فرض ہے۔ بغیر غسل کے نماز قرآن پڑھنا طواف اور مسجد میں داخلہ جائز نہیں۔

باریک شرعی باتیں جو اکثر چھوٹ جاتی ہیں
1. نیت دل کا ارادہ کافی ہے زبان سے کہنا ضروری نہیں۔
2. ترتیب وضو پہلے کرنا سنت ہے لیکن اگر کوئی سیدھا سارے جسم پر پانی بہا دے تو بھی غسل ہو جائے گا بشرطیکہ کلی اور ناک میں پانی بھی پہنچائے۔
3. بالوں کی جڑوں تک پانی سر کے بالوں کی جڑوں میں اور عورتوں کے گندھے ہوئے بالوں میں پانی پہنچانا فرض ہے۔ اگر تیل لگا ہو تو اسے چھڑانا ضروری نہیں صرف پانی پہنچے۔
4. جسم کی خشکی ناف کان کے اندر ایڑیوں گھٹنوں کے پیچھے انگوٹھی اور ناخن کے نیچے کوئی جگہ خشک نہ رہے۔
5. ممنوعات غسل کے دوران قبلہ کی طرف منہ نہ کریں ذکر نہ کریں اور پانی ضائع نہ کریں۔

غسل کا مکمل مسنون طریقہ
1. نیت دل میں کریں کہ میں پاکی کے لیے غسل کر رہا ہوں
2. دونوں ہاتھ کلائیوں تک 3 بار دھوئیں
3. استنجا کریں اور جسم پر لگی ناپاکی دور کریں
4. مکمل وضو کریں کلی 3 بار اور ناک میں پانی 3 بار ڈالیں
5. سارے جسم پر پانی بہائیں پہلے سر پر 3 بار پھر دائیں کندھے پھر بائیں کندھے پر 3 3 بار
6. جسم کو ہاتھ سے ملیں تاکہ ہر جگہ پانی پہنچ جائے
7. آخر میں پاؤں دھو لیں اگر پہلے نہیں دھوئے تھے

2. صفائی سے معاشرہ سدھرتا ہے
جو قوم جسمانی طور پر پاک رہتی ہے وہ بیماریوں سے بھی محفوظ رہتی ہے۔ غسل صرف عبادت کے لیے نہیں بلکہ صحت کے لیے بھی ہے۔ اسلام نے 1400 سال پہلے ہمیں ہفتے میں جمعہ کا غسل عید کا غسل میت کو غسل دینے کے بعد غسل اور جنابت کا فوری غسل سکھا کر صفائی کا خاص نظام دیا۔
گندے اور بدبودار انسان سے لوگ دور بھاگتے ہیں۔ اسکول دفتر اور محفل میں پاک صاف شخص کی عزت ہوتی ہے۔ اس لیے غسل معاشرے میں عزت اور قبولیت کا ذریعہ بھی بنتا ہے۔

3. ظاہر کے ساتھ باطن کی صفائی
غسل ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ جس طرح ہم جسم کا میل دھوتے ہیں اسی طرح دل کا میل یعنی گناہ حسد کینہ اور جھوٹ سے بھی توبہ کے پانی سے دھونا چاہیے۔
جو شخص روز غسل کرتا ہے اسے اپنی قدر آتی ہے۔ وہ گندے کپڑے گندے خیال اور گندی صحبت سے بچتا ہے۔ اخلاق کا پہلا قدم یہی ہے کہ انسان خود اپنے لیے قابل عزت بنے۔

4. سکون اور قرب الہی
غسل کے بعد انسان کو جو ہلکا پن اور تازگی ملتی ہے وہ ناقابل بیان ہے۔ خاص طور پر فجر سے پہلے یا جمعہ کے دن کا غسل دل کو سکون دیتا ہے۔
جنابت کے بعد جب بندہ غسل کر کے جائے نماز پر کھڑا ہوتا ہے تو اسے لگتا ہے جیسے اللہ نے اسے نئے سرے سے قبول کر لیا۔ ماں جب بچے کو پاک کر کے مسجد بھیجتی ہے تو اس کے دل کی دعا ہوتی ہے کہ میرا بیٹا اللہ کا محبوب بنے۔ یہ جذباتی تعلق غسل کو صرف پانی نہیں رہنے دیتا بلکہ روح کی غذا بنا دیتا ہے۔

5. خاندان اور نسل کی تربیت
گھر میں اگر پاکی کا نظام ہو تو بچے بھی بچپن سے سیکھتے ہیں۔
باریک سماجی ذمہ داریاں
1. بیٹیوں کو بلوغت سے پہلے حیض کے احکام اور غسل کا طریقہ سکھانا والدین کی دینی ذمہ داری ہے۔
2. بیٹوں کو احتلام اور جنابت کا غسل شرم کے بجائے محبت سے سمجھانا چاہیے۔
3. گھر میں غسل خانے میں پردے اور صفائی کا انتظام ہو۔
4. جو گھر پاک رہتا ہے وہاں فرشتے آتے ہیں۔ جو معاشرہ طہارت کو اپناتا ہے وہاں بیماریاں کم محبتیں زیادہ اور برکتیں زیادہ ہوتی ہیں۔ اس کے برعکس ناپاکی اور گندگی معاشرے میں نفرت بیماری اور بے برکتی لاتی ہے۔

نتیجہ
غسل صرف پانی سے نہانا نہیں ہے۔ یہ ایمان کی تجدید ہے جسم کی صفائی ہے دل کا سکون ہے اور معاشرے کی خوبصورتی ہے۔ چھوٹی چھوٹی باریکیوں کا خیال رکھنے سے غسل مکمل اور عبادت مقبول ہوتی ہے۔
آئیے ہم عہد کریں کہ طہارت کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں گے تاکہ اللہ بھی ہم سے راضی ہو اور دنیا بھی ہمیں پسند کرے۔

وما توفیقی الا باللہ

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔