محمد علی جوہر یونیورسٹی: امید کی نئی کرن، مگر منزل ابھی باقی ہے - علم کے چراغ جلاتے چلو، اندھیروں کو مٹاتے چلو، یہ بھارت ہمارا پیارا وطن ہے، اسے سپر پاور بناتے چلو۔۔ ازقلم: سید فاروق احمد قادری۔
محمد علی جوہر یونیورسٹی: امید کی نئی کرن، مگر منزل ابھی باقی ہے -
علم کے چراغ جلاتے چلو، اندھیروں کو مٹاتے چلو، یہ بھارت ہمارا پیارا وطن ہے، اسے سپر پاور بناتے چلو۔
ازقلم: سید فاروق احمد قادری۔
مرادآباد ڈویژن کے کمشنر کی جانب سے تا حکمِ ثانی دیے گئے فیصلے نے محمد علی جوہر یونیورسٹی سے وابستہ ہزاروں طلبہ، والدین اور اساتذہ کے دلوں میں امید کی نئی کرن روشن کر دی ہے۔ کمشنر کی یقین دہانی کے بعد طلبہ کو اطمینان ملا کہ وہ بلا خوف و خطر اپنی کلاسوں میں جائیں اور اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھیں، جبکہ یونیورسٹی انتظامیہ قانونی تقاضے پورے کرے۔ اس فیصلے کے بعد طلبہ، والدین اور عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی، احتجاج میں نمایاں کمی آئی اور تعلیمی سرگرمیاں دوبارہ معمول پر آنے لگیں۔
یہ معاملہ صرف ایک یونیورسٹی کا نہیں بلکہ ہزاروں نوجوانوں کے مستقبل، ان کے خوابوں اور ان کے والدین کی امیدوں کا تھا۔ اسی لیے ملک کے مختلف حصوں سے طلبہ، والدین، اساتذہ، وکلاء، سماجی کارکن، کسان تنظیموں کے نمائندے اور مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنما اس مطالبے کے ساتھ سامنے آئے کہ قانون اپنی راہ ضرور اختیار کرے، مگر تعلیم کا چراغ بجھنے نہ پائے۔ یہ حمایت کسی شخصیت کی نہیں بلکہ علم، ایک تعلیمی ادارے اور ہزاروں طلبہ کے مستقبل کی حمایت تھی۔
محمد علی جوہر یونیورسٹی ایک وسیع و عریض تعلیمی کیمپس ہے، جہاں جدید لائبریری، لیبارٹریاں، اسٹڈی روم، طلبہ و طالبات کے لیے علیحدہ ہاسٹل، کھیل کے میدان اور جدید تعلیمی سہولتیں موجود ہیں۔ یہاں ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی اور دیگر تمام طبقات کے طلبہ و طالبات بلا امتیاز تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ اس ادارے کی تعمیر میں عوام نے بھی بھرپور تعاون کیا، اس لیے یہ صرف ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ عوامی اعتماد، تعلیمی خوابوں اور قومی امیدوں کی علامت بھی ہے۔
یونیورسٹی کے بانی اعظم خان کا خواب تھا کہ ہر نوجوان کے ہاتھ میں کتاب اور قلم ہو تاکہ وہ علم حاصل کرکے ملک و قوم کی خدمت کر سکے کیونکہ ہندوستان کی ازادی میں محمد علی جوہر اور ان کے سگے بھائی شوکت علی جوہرنے ہندوستان کی ازادی میں جو رول ادا کیا اس کو ہندوستان کی عوام بھلا نہیں سکتی مضبوط قومیں صرف عمارتوں سے نہیں بلکہ تعلیم یافتہ، باکردار اور باصلاحیت نوجوانوں سے بنتی ہیں۔ تعلیم کو سیاست سے بالاتر رکھنا وقت کی ضرورت ہے، کیونکہ علم کی روشنی ہی قوموں کی تقدیر بدلتی ہے۔
میں کسی سیاسی جماعت یا شخصیت کا وکیل نہیں، بلکہ اپنے وطن ہندوستان اور اس کی نئی نسل کے روشن مستقبل کا خواہش مند ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے میرے ہاتھ میں قلم دیا ہے اور میں اسے ایک امانت سمجھتا ہوں۔ میری کوشش یہی ہے کہ میری تحریریں محبت، اتحاد، انصاف، علم اور انسانیت کا پیغام دیں۔ اگر میری کوئی تحریر کسی نوجوان کے ہاتھ میں کتاب اور قلم دے دے اور اس کے دل میں وطن کی خدمت کا جذبہ پیدا کر دے تو یہی میرے قلم کی سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔
آج محمد علی جوہر یونیورسٹی کے معاملے میں امید کی نئی کرن ضرور روشن ہوئی ہے، مگر منزل ابھی باقی ہے۔ دعا ہے کہ آئندہ تمام فیصلے قانون، انصاف اور تعلیم کے تقاضوں کے مطابق ہوں، تاکہ علم کا چراغ ہمیشہ روشن رہے۔ کیونکہ جب علم کے چراغ روشن رہتے ہیں تو اندھیرے مٹ جاتے ہیں، قومیں ترقی کرتی ہیں اور ہندوستان ایک مضبوط، ترقی یافتہ اور سپر پاور ملک بننے کی جانب مزید آگے بڑھتا ہے۔
Comments
Post a Comment