امامِ مسجد صرف نمازی نہیں، امت کا معمار ہے - ازقلم : عالمہ مبین پالیگار، بیلگام کرناٹک۔
امامِ مسجد صرف نمازی نہیں، امت کا معمار ہے -
ازقلم : عالمہ مبین پالیگار، بیلگام کرناٹک۔
M A M Ed
8904317986
آج میری ملاقات ایک مسجد کے متولی صاحب سے ہوئی۔ گفتگو کے دوران امام صاحب کی تنخواہ کا ذکر آیا تو انہوں نے فرمایا: "ہم اپنے امام کو سترہ ہزار روپے دیتے ہیں، آخر انہیں کرنا ہی کیا ہے؟ بس پانچ وقت نماز پڑھانی ہے!"
یہ جملہ سن کر دل میں ایک سوال پیدا ہوا: کیا واقعی ایک امام کا کام صرف پانچ وقت نماز پڑھانا ہے؟ کیا مصلے پر کھڑے ہو کر لوگوں کی امامت کرنا، ان کی نمازوں کی ذمہ داری اٹھانا، قرآنِ کریم کی درست تلاوت کرنا اور نماز کے تمام مسائل و احکام سے واقف ہونا ہر شخص کے بس کی بات ہے؟ یقیناً نہیں۔
امامت ایک عظیم منصب اور بھاری امانت ہے۔ امام صرف آگے کھڑے ہو کر نماز پڑھانے والا شخص نہیں، بلکہ امت کا معلم، مربی اور رہنما ہوتا ہے۔ وہ بچوں کو قرآن سکھاتا ہے، لوگوں کے دینی مسائل حل کرتا ہے، نکاح پڑھاتا ہے، جنازوں کی امامت کرتا ہے، رمضان میں تراویح پڑھاتا ہے اور نسلوں کی دینی تربیت کا فریضہ انجام دیتا ہے۔
اگر ایک امام اپنی تمام تر صلاحیتیں مسجد، تعلیم اور اصلاحِ معاشرہ کے لیے وقف کر دے تو اس کے گھر کی ضروریات کون پوری کرے گا؟ اس کے بچوں کی تعلیم، علاج اور دیگر اخراجات کیسے پورے ہوں گے؟ آج کے دور میں سترہ ہزار روپے میں ایک عام آدمی کے لیے بھی گھر چلانا مشکل ہے، تو ایک امام سے یہ توقع کیسے کی جا سکتی ہے کہ وہ انہی وسائل میں باعزت زندگی گزار لے؟
اگر مسجد انتظامیہ اپنے امام کی مناسب کفالت کرے، اسے عزت اور معقول تنخواہ فراہم کرے، جہاں بچوں کی دینی تعلیم، نوجوانوں کی تربیت اور بڑوں کی اصلاح کا منظم سلسلہ جاری رہے۔
مثلاً:
فجر کے بعد بچوں کی قرآن و دینی تعلیم۔
صبح کے وقت بڑوں کے لیے دینی اور اصلاحی کلاسیں۔
ظہر کے بعد آرام اور مطالعہ کا وقت۔
عصر کے بعد ذکر و تربیتی مجلس۔
مغرب کے بعد بچوں اور نوجوانوں کی تعلیم۔
عشاء کے بعد ملازمت پیشہ افراد کے لیے دینی نشست۔
اس طرح ایک امام پورا دن امت کی اصلاح اور تربیت میں صرف کر سکتا ہے اور مسجد واقعی ایک تعلیمی و تربیتی مرکز بن سکتی ہے۔
ہمیں خود سے یہ سوال کرنا چاہیے: کیا ہم اپنے لیے یا اپنے بچوں کے لیے سترہ ہزار روپے ماہانہ آمدنی کو کافی سمجھتے ہیں؟ اگر نہیں، تو پھر ایک امام کے لیے یہ معیار کیوں؟
ہمیں اپنے آپ سے یہ سوال پوچھنا چاہیے: کیا ایک مسجد کا متولی خود سترہ ہزار روپے میں اپنا گھر چلا سکتا ہے؟ کیا وہ اپنی بیٹی کا نکاح ایسے شخص سے کرے گا جس کی آمدنی صرف سترہ ہزار ہو؟
اگر جواب "نہیں" ہے تو پھر ایک امام سے یہ توقع کیوں؟
حقیقت یہ ہے کہ امام، حافظ اور عالمِ دین ہماری نسلوں کے معمار ہیں۔ وہ ہمارے دین کی حفاظت کرتے ہیں، ہماری عبادات کی اصلاح کرتے ہیں اور معاشرے میں دینی شعور پیدا کرتے ہیں۔
لہٰذا امتِ مسلمہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ائمہ، حفاظ اور علماء کی عزت کرے، ان کی معاشی ضروریات کا احساس کرے اور انہیں ایسا ماحول فراہم کرے کہ وہ پوری یکسوئی کے ساتھ دین کی خدمت انجام دے سکیں۔
یاد رکھیے! امام صرف پانچ وقت نماز پڑھانے والا شخص نہیں، بلکہ امت کی دینی تعمیر کا ایک مضبوط ستون ہے۔ جس دن ہم اس حقیقت کو سمجھ لیں گے، ہماری مساجد بھی آباد ہوں گی اور ہماری نسلیں بھی سنور جائیں گی۔
Comments
Post a Comment