محمد رضوان(خاکہ)از قلم: رہبر تماپوری۔
محمد رضوان(خاکہ)
از قلم : رہبر تماپوری۔
زندگی میں بعض ملاقاتیں محض ایک تعارف نہیں ہوتیں بلکہ عمر بھر کی یاد بن جاتی ہیں۔ ایک استاد کی زندگی میں بے شمار شاگرد آتے ہیں، مگر ان میں سے چند ہی ایسے ہوتے ہیں جو اپنی محنت، ادب، اخلاص اور حسنِ کردار کی وجہ سے دل میں مستقل جگہ بنا لیتے ہیں۔ محمد رضوان بھی میرے ایسے ہی شاگردوں میں سے ایک ہیں، جن کی شخصیت کو قریب سے دیکھنے، سمجھنے اور محسوس کرنے کا مجھے موقع ملا۔
ایک طویل وقفے کے بعد اللہ تعالیٰ نے مجھے دوبارہ تدریس کے میدان میں آنے کی سعادت عطا فرمائی۔ اس سے پہلے میری وابستگی سرکاری، اردو اور انگریزی میڈیم اسکولوں سے رہی تھی، لیکن اس مرتبہ میری تقرری جامعہ اسلامیہ احیاء العلوم، رنگم پیٹ میں ہوئی۔
رنگم پیٹ میرے لیے کوئی اجنبی مقام نہ تھا۔ یہ میرے آبائی وطن تماپور کا حصہ ہے، جو اپنی قدیم دینی، تہذیبی اور تاریخی شناخت کی وجہ سے ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ اس سرزمین سے میری وابستگی صرف جغرافیائی نہیں بلکہ جذباتی بھی ہے۔ بچپن کی یادیں، اہلِ علاقہ کی محبت اور اس بستی کی علمی روایت آج بھی میرے دل میں تازہ ہے۔ اسی لیے جب میں جامعہ کے احاطے میں داخل ہوا تو یوں محسوس ہوا جیسے میں کسی اجنبی جگہ نہیں بلکہ اپنی ہی مٹی اور اپنے ہی لوگوں کے درمیان لوٹ آیا ہوں۔
جامعہ کا پہلا منظر آج بھی میری نگاہوں میں تازہ ہے۔ فضا قرآنِ کریم کی تلاوت سے معطر تھی۔ کہیں طلبہ اپنے اسباق دُہرا رہے تھے، کہیں اساتذہ اصلاح میں مصروف تھے اور کہیں ننھے حفاظ نہایت انہماک کے ساتھ اپنا سبق یاد کر رہے تھے۔ یہ منظر میرے لیے نہایت روح پرور تھا، کیونکہ اس سے پہلے میری تدریس کا تعلق زیادہ تر عصری تعلیمی اداروں سے رہا تھا۔ اس دن مجھے محسوس ہوا کہ یہاں صرف کتابیں نہیں پڑھائی جاتیں بلکہ کردار بھی تعمیر کیے جاتے ہیں۔
جامعہ کے ذمہ داران سے ملاقات کے دوران میری نگاہ طلبہ کے ایک حلقے پر پڑی۔ اسی ہجوم میں ایک دبلا پتلا، چشمہ لگائے، سنجیدہ اور خاموش طالبِ علم نے بے اختیار میری توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔ اس کے چہرے پر وقار، آنکھوں میں علم کی پیاس اور انداز میں یکسوئی نمایاں تھی۔ بعد میں معلوم ہوا کہ اس طالبِ علم کا نام محمد رضوان ہے۔
محمد رضوان گزشتہ چار برس سے زائد عرصے تک جامعہ میں زیرِ تعلیم رہے۔ نورانی قاعدے سے شروع ہونے والا ان کا سفر حرف بہ حرف آگے بڑھتا رہا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں حفظِ قرآن جیسی عظیم سعادت سے سرفراز فرمایا۔ یہ کامیابی صرف ان کی نہیں بلکہ ان کے والدین، اساتذۂ کرام اور جامعہ کی بہترین تربیت کا بھی ثمر ہے۔
اگرچہ میرا ان سے تعلق استاد اور شاگرد کا تھا، لیکن میں ان کا براہِ راست حفظ کا معلم نہیں تھا۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران مجھے ان کی شخصیت کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ میں نے محسوس کیا کہ وہ ہر بات کو غور سے سنتے، اس پر فکر کرتے اور پھر ادب کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی رائے پیش کرتے ہیں۔ ان کے لہجے میں نہ بے جا جھجک ہوتی ہے اور نہ بے ادبی، بلکہ متانت، وقار اور شائستگی نمایاں ہوتی ہے۔
محمد رضوان کی شخصیت کا سب سے نمایاں وصف ان کی ذمہ داری کا احساس ہے۔ اگرچہ وہ خود طالبِ علم تھے، لیکن چھوٹے طلبہ کے ساتھ ان کا رویہ ایک بڑے بھائی جیسا تھا۔ دور دراز دیہات سے آنے والے بچے مختلف لہجوں میں گفتگو کرتے تھے۔ رضوان نہایت محبت، صبر اور شفقت سے انہی کی زبان میں انہیں سبق سمجھاتے، غلطیوں کی اصلاح کرتے اور ان کی ہمت بڑھاتے۔ اس منظر کو دیکھ کر مجھے ہمیشہ محسوس ہوا کہ ایک بہترین طالبِ علم وہی ہے جو دوسروں کے لیے بھی آسانی پیدا کرے۔
ہماری گفتگو میں کبھی کبھی ہلکا پھلکا مزاح بھی شامل رہتا تھا۔ وہ اکثر چشمہ ساتھ رکھتے مگر پہننا بھول جاتے۔ میں مسکراتے ہوئے کہتا: "رضوان میاں! اپنا آئینہ تو لگا لو۔" وہ بھی مسکرا دیتے اور فوراً چشمہ پہن لیتے۔ استاد اور شاگرد کے درمیان ایسے بے تکلف مگر باوقار لمحے ہمیشہ یادگار بن جاتے ہیں۔
میں اکثر تمام طلبہ سے کہا کرتا تھا: "صرف قرآن کے حافظ نہ بنو، قرآن کے محافظ بھی بنو۔" پھر میں انہیں سمجھاتا کہ حافظ وہ ہے جس نے قرآن کو یاد کیا، جبکہ محافظ وہ ہے جو قرآن کی تعلیمات کو اپنے کردار، اخلاق اور عمل میں زندہ رکھے۔ مجھے خوشی ہے کہ محمد رضوان اس نصیحت کو ہمیشہ سنجیدگی سے سنتے تھے۔
محمد رضوان نے دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم میں بھی نمایاں کامیابی حاصل کی۔ دسویں جماعت میں اچھے نمبرات سے کامیاب ہوئے۔ میں نے ہمیشہ انہیں مشورہ دیا کہ دینی اور عصری تعلیم دونوں میدانوں میں آگے بڑھیں۔ انہوں نے نہایت ادب سے جواب دیا: "استاد محترم! پہلے قرآنِ کریم کی تکمیل اور خدمت میری ترجیح ہے، اس کے بعد ان شاء اللہ عصری تعلیم بھی جاری رکھوں گا۔" ان کے اس جواب میں اخلاص، عزم اور مقصدیت صاف جھلکتی تھی۔
ان کی گفتگو ہمیشہ مجھے متاثر کرتی رہی۔ قرآنِ کریم کی تلاوت ہو، عربی عبارت ہو یا اردو زبان، ہر لفظ اپنے صحیح مخرج سے ادا کرتے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے الفاظ موتیوں کی لڑی کی طرح ترتیب سے زبان پر آ رہے ہوں۔ ان کے اس حسنِ تلفظ میں ان کے اساتذۂ کرام، خصوصاً حضرت مولانا مفتی توفیق احمد صاحب کی محنت اور بہترین تربیت نمایاں دکھائی دیتی ہے۔
مطالعے کا شوق بھی ان کی شخصیت کا ایک روشن پہلو ہے۔ ایک دن لائبریری سے علامہ اقبالؒ پر لکھی ہوئی ایک کتاب میرے پاس لائے اور ادب سے عرض کیا: "استاد محترم! یہ کتاب آپ کو ضرور پسند آئے گی۔" اس ایک واقعے سے اندازہ ہوا کہ وہ صرف نصابی تعلیم تک محدود نہیں بلکہ علمی و ادبی ذوق بھی رکھتے ہیں۔ اقبالؒ کی شاعری انہیں بے حد پسند ہے اور وہ عمدہ اشعار نہایت خوب صورت لہجے میں پڑھتے ہیں۔
محمد رضوان نہایت باحیا، کم گو، خوش اخلاق اور سچے طالبِ علم ہیں۔ اگر کبھی کوئی کام مکمل نہ ہو پاتا تو صاف الفاظ میں اعتراف کرتے: "استاد محترم! آج مجھ سے یہ کام نہیں ہو سکا۔" وہ نہ بہانے بناتے اور نہ جھوٹ کا سہارا لیتے۔ یہی سچائی ان کی شخصیت کو دوسروں سے ممتاز بناتی ہے۔
آج جب میں ان کے حفظِ قرآن کی تکمیل پر نظر ڈالتا ہوں تو دل اللہ تعالیٰ کے حضور شکر سے بھر جاتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اگر وہ اسی اخلاص، محنت، ادب، حیا، مطالعے کے شوق اور خدمتِ دین کے جذبے کو برقرار رکھیں گے تو ان شاء اللہ وہ صرف ایک حافظِ قرآن ہی نہیں بلکہ معاشرے کے لیے ایک بہترین معلم، داعی اور باکردار انسان ثابت ہوں گے۔
ہر استاد کی زندگی میں چند شاگرد ایسے ضرور ہوتے ہیں جو اس کی محنت کا سب سے قیمتی سرمایہ بن جاتے ہیں۔ محمد رضوان بھی میرے لیے انہی خوش نصیب شاگردوں میں شامل ہیں۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں علمِ نافع، عملِ صالح، اخلاص، صحت، عزت اور دونوں جہانوں کی کامیابیاں عطا فرمائے، ان کے سینے کو ہمیشہ قرآنِ کریم کے نور سے منور رکھے، انہیں اپنے والدین، اساتذہ، جامعہ اور ملتِ اسلامیہ کے لیے باعثِ فخر بنائے۔ آمین۔
Comments
Post a Comment