غزل۔ - سرفراز حسین فراز پیپل سانہ مرادآباد یو پی۔
غزل۔ -
سرفراز حسین فراز پیپل سانہ مرادآباد یو پی۔
فضائیں ہم سے ہیں برہم ستارو تم تو سو جاؤ
تمھارے حق میں ہے موسم ستارو تم تو سو جاؤ
رخِ روشن کی اڑ جاۓ گی رنگت ایسے رونے سے
نہ جاگو اس طرح پیہم ستارو تم تو سو جاؤ
یہ کیا کم ہے ہماری بے قراری پر کئی شب سے
پشیماں ہے دلِ شبنم ستارو تم تو سو جاؤ
کٹے گی جسطرح بھی کاٹ ہی لینگے شبِ غم ہم
غمِ دل ہو نہ ہو اب کم ستارو تم تو سو جاؤ
کسی صورت بھی جیتے جی ہماری زندگانی کے
نہ ہوں گے کم یہ زیر و بم ستارو تم تو سو جاؤ
بہت نقصان دیتی ہے زیادہ غم گساری بھی
بنو مت اس قدر ارحم ستارو تم تو سو جاؤ
زمانہ کیا کہے گا جو ہمارے ساتھ جاگو گے
بھلائی بن نہ جائے ذم ستارو تم تو سو جاؤ
کہاں تک تم مناؤ گے ہمارے رنج کا ماتم
ہوئے جاتے ہیں رخ مدھم ستارو تم تو سو جاؤ
ہمارا تو کہیں تک بھی نہیں ہے واسطہ تم سے
تمھیں کیوں ہے ہمارا غم ستارو تم تو سو جاؤ
یقیں کے ساتھ کہتا ہے فراز اپنی سنو تو تم
بنے گا درد خود مرہم ستارو تم تو سو جاؤ
Comments
Post a Comment