نشہ ایک چنگاری جو نسلیں جلا دے - ازقلم : شعیب احمد محمدی۔


نشہ ایک چنگاری جو نسلیں جلا دے - 
ازقلم : شعیب احمد محمدی۔ 

1. دینی پہلو ام الخبائث سے بچو : 
اسلام نے نشے کو حرام قرار دیا ہے۔ اللہ تعالی نے فرمایا اے ایمان والو شراب اور جوا اور بت اور پانسے ناپاک ہیں شیطانی کام ہیں سو ان سے بچو تاکہ فلاح پاؤ سورہ مائدہ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نشہ آور چیز حرام ہے بخاری۔ اور فرمایا شراب تمام برائیوں کی جڑ ہے سنن نسائی۔ نشہ عقل کو زائل کر دیتا ہے اور عقل چلی جائے تو انسان جانور سے بھی بدتر ہو جاتا ہے۔ نماز روزہ قرآن سب چھوٹ جاتے ہیں۔ نشے کی حالت میں مرنے والا ایمان کی موت نہیں مرتا۔ یاد رکھو ایک گھونٹ شراب 40 دن تک عبادت سے محروم کر دیتی ہے سنن نسائی۔ یہ جسم اللہ کی امانت ہے اس میں زہر ڈالنا خیانت ہے۔

2. معاشرتی و سماجی تباہی گھر سے قبر تک : 
نشہ صرف ایک فرد کو نہیں پورے خاندان کو تباہ کرتا ہے۔ نشئی باپ کی کمائی سگریٹ چرس اور ہیروئن میں اڑ جاتی ہے۔ بیوی کے زیور بک جاتے ہیں بچے اسکول چھوڑ دیتے ہیں۔ محلے میں عزت ختم رشتہ دار منہ موڑ لیتے ہیں۔ نوجوان لڑکے پہلے شوق میں سگریٹ پیتے ہیں پھر دوستوں کے کہنے پر چرس پھر انجکشن۔ آخر میں چوری ڈاکہ اور قتل تک پہنچ جاتے ہیں۔ آج ہسپتال جیلیں اور قبرستان نشئیوں سے بھرے پڑے ہیں۔ جو معاشرہ نشے کو فیشن سمجھے وہ خود اپنے بچوں کا قاتل بن جاتا ہے۔ نشہ کرنے والا نہ باپ کا رہتا ہے نہ بیٹے کا وہ صرف نشے کا غلام بن جاتا ہے۔

3. جذباتی زخم ماں کی دعا یا بددعا : 
سوچو اس ماں پر کیا گزرتی ہے جس کا بیٹا رات کو نشے میں دھت گھر آئے اور گالیاں دے۔ وہ باپ جو سارا دن مزدوری کرے اور بیٹا شام کو اس کی جیب کاٹ لے۔ بیوی جو شوہر کی محبت اور توجہ کو ترستی رہے اور شوہر دوستوں میں بیٹھ کر نشے میں جھوم رہا ہو۔ نشہ محبت کے رشتے کھا جاتا ہے۔ بچے باپ سے ڈرتے ہیں بیوی خلع مانگتی ہے بہن بھائی منہ چھپاتے ہیں۔ جب گھر والے تھک جاتے ہیں تو دعا کی جگہ بددعا نکلتی ہے۔ نشئی کو لگتا ہے وہ مزے کر رہا ہے مگر حقیقت میں وہ اپنے ہاتھ سے اپنی قبر کھود رہا ہے اور اپنوں کے دل میں اپنے لیے نفرت بو رہا ہے۔

4. لمحہ فکریہ اصلاح اپنے آپ سے : 
یہ بات سوچنے کی ہے کہ نشے کے خلاف آواز اٹھانے والے کئی سوشل ورکر اور فلاحی کام کرنے والے خود بھی سگریٹ گٹکا یا تمباکو استعمال کرتے ہیں۔ اسٹیج پر بچوں کو نصیحت کرنا آسان ہے مگر اثر تب ہوتا ہے جب عمل ساتھ ہو۔ بزرگان دین سے ایک سبق آموز واقعہ منسوب ہے کہ ایک عورت اپنے بچے کو لے کر ایک بزرگ کے پاس آئی اور کہا کہ اسے گڑ کھانے سے منع فرما دیں۔ بزرگ نے کہا کل آنا۔ اگلے دن اس بزرگ نے کہا بیٹا گڑ نہ کھایا کرو۔ وجہ پوچھی گئی کہ کل کیوں منع نہیں کیا تو فرمایا کہ کل تک میں خود گڑ کھاتا تھا۔ اس واقعے سے اصول ملتا ہے کہ پہلے خود عمل کرو پھر دوسرے کو کہو۔ اس لیے جو بھائی قوم کی خدمت کے جذبے سے میدان میں نکلے ہیں ان سے دردمندانہ اپیل ہے کہ پہلے اپنی ذات سے اس عادت کو ختم کریں۔ جب آپ کا اپنا دامن صاف ہوگا تو آپ کی بات دلوں میں اترے گی۔ اللہ نے بھی پہلے اپنے آپ کو اور گھر والوں کو آگ سے بچانے کا حکم دیا ہے سورہ تحریم۔ آپ کی ایک سچی تبدیلی سیکڑوں نوجوانوں کی زندگی بدل سکتی ہے۔

5. اخلاقی علاج توبہ کا دروازہ کھلا ہے۔
نشہ لعنت ہے مگر لاعلاج نہیں۔ پہلا قدم یہ ماننا ہے کہ میں بیمار ہوں۔ دوسرا قدم سچی توبہ ہے۔ اللہ توبہ کرنے والے کو پسند کرتا ہے۔ برے دوست چھوڑ دو کیونکہ پہلا سگریٹ دوست ہی پلاتا ہے۔ مسجد سے تعلق جوڑو نماز کی عادت ڈالو کیونکہ نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے سورہ عنکبوت۔ والدین بیوی استاد سے مدد مانگو شرمانا مت۔ جو آج ہمت کرے گا کل اس کی اولاد فخر کرے گی۔ اور جو آج نشے میں ڈوبا رہا کل اس کی لاش کو کندھا دینے والا بھی کوئی نہیں ملے گا۔ زندگی ایک بار ملتی ہے اسے دھوئیں میں نہ اڑاؤ۔ اپنے آپ کو اپنے گھر کو اور اپنی آخرت کو بچا لو۔

وما توفیقی الا باللہ

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔