غزل - ازقلم : بشیر احمد رٹی ہلی، معلم، ایم ایم ڈی آر ایس، شموگہ ضلع . ( کرناٹک )
( غزل )
از. قلم : بشیر احمد رٹی ہلی،
معلم، ایم ایم ڈی آر ایس، شموگہ ضلع . ( کرناٹک )
مریض عشق ہوں مرضی پہ جینا چھوڑ دیا میں نے
مۓ خانہ پی کر بھی لڑکھڑانا چھوڑ دیا میں نے
داغ دار زندگی کا سبب بیاں ہوتا نہیں ہم سے
مدتیں گزری نغمہ عشق سنانا چھوڑ دیا میں نے
عجیب تماشائی ہیں اس شہر یار کے ساے میں
مخبری کا عمل دیکھ کر گنگنانا چھوڑ دیا میں نے
کسک کچھ اور ہے باقی خانہ قلب میں دلبر
اب راہ وفا میں ٹھوکر کھانا چھوڑ دیا میں نے
وہ چشم پنہاں ہے آج بھی بس تصور کی دیر ہے
راز عیاں نہ ہو اسی بابت رونا چھوڑ دیا میں نے
ہوتے ہیں مزاکرات عشق کے ہر سمت محفلیں یہاں
مخصوص ان راہوں سے گزرنا چھوڑ دیا میں نے
انداز شاہانہ تھا غافل عشق سے کچھ قبل تک
وجود کھو کر فھم وذکا پہ اترانا چھوڑدیا میں نے
دیار عشق ہوں میں بس رہبر اکرم کی چاہ میں
آرائش زماں پر اب منزلیں بدلنا چھوڑ دیا میں نے
خوش فھمی تو بس ایک وہم ہے احمد کی بندگی میں
حق پرستوں کو اب آزمانہ چھوڑ دیا میں نے
Comments
Post a Comment