محمد علی جوہر یونیورسٹی کے تحفظ کے لیے جلگاؤں سے بلند ہوئی مؤثر آواز - " سید نیاز علی بھیا فاؤنڈیشن کا صدرِ جمہوریہ ہند کے نام محضر؛ طلبہ کے تعلیمی مستقبل کے تحفظ کا مطالبہ"


جلگاؤں (عقیل خان بیاولی): اتر پردیش کے ضلع رامپور میں واقع محمد علی جوہر یونیورسٹی سے متعلق حالیہ پیش رفت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سید نیاز علی بھیا فاؤنڈیشن کی جانب سے صدرِ جمہوریہ ہند کے نام ایک مفصل یادداشت ضلع کلکٹر جلگاؤں کے توسط سے پیش کی گئی۔ یادداشت میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم ہزاروں طلبہ و طالبات کے تعلیمی مفادات کا ہر حال میں تحفظ یقینی بنایا جائے اور کسی بھی قسم کی انتظامی کارروائی آئینِ ہند اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے انجام دی جائے۔محضر 
 میں کہا گیا ہے کہ تعلیم کسی بھی قوم کی سماجی، معاشی اور فکری ترقی کی بنیاد ہوتی ہے۔ رامپور کی محمد علی جوہر یونیورسٹی گزشتہ کئی برسوں سے معاشرے کے مختلف طبقات، بالخصوص معاشی طور پر کمزور اور محروم طبقے کے طلبہ کو اعلیٰ تعلیم فراہم کرکے ان کے روشن مستقبل کی تعمیر میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہے۔ اس لیے اس ادارے کا وجود محض ایک تعلیمی ادارے کا معاملہ نہیں بلکہ ہزاروں طلبہ کے خوابوں، امیدوں اور مستقبل سے وابستہ ایک اہم قومی مسئلہ ہے۔ فاؤنڈیشن نے اپنی محضر میں اس امر کا بھی ذکر کیا کہ یونیورسٹی کی بعض عمارتوں کو مبینہ طور پر غیر قانونی قرار دے کر انہیں منہدم کیے جانے کی کارروائی شروع کیے جانے کی خبریں منظرِ عام پر آئی ہیں۔ اگر ایسی کارروائی عمل میں آتی ہے تو اس کے نتیجے میں ہزاروں طلبہ کی تعلیم متاثر ہونے کے ساتھ ان کا مستقبل بھی شدید غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہو سکتا ہے۔ لہٰذا طلبہ کے مفاد کو اولین ترجیح دیتے ہوئے یونیورسٹی کے تعلیمی ماحول اور اس کے تسلسل کو ہر قیمت پر برقرار رکھا جائے۔
محضر میں مزید تجویز پیش کی گئی کہ اگر متعلقہ معاملے میں کسی قسم کی بے ضابطگی یا قانونی خامی پائی جاتی ہے تو اس کا ازالہ قانون کے مطابق جرمانے یا دیگر آئینی و قانونی اقدامات کے ذریعے کیا جائے۔ اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو آخری چارۂ کار کے طور پر حکومت یونیورسٹی کو اپنی تحویل میں لے کر اس کا باقاعدہ انتظام و انصرام سنبھالے، تاکہ کسی بھی طالب علم کی تعلیم متاثر نہ ہو اور ان کا تعلیمی مستقبل محفوظ رہ سکے۔اسم وقع پر سید نیاز علی بھیا فاؤنڈیشن کے ایاز علی سید، جاوید، ناظم پینٹر، احمد ٹھیکیدار، حاجی شکور بادشاہ، شفیع ٹھیکیدار، شیخ رئیس، شیخ نظیرالدین، شیخ سعید سمیت دیگر عہدیداران اور اراکین بڑی تعداد میں موجود تھے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔