خودکشی مایوسی کا اندھا کنواں۔


خودکشی مایوسی کا اندھا کنواں۔

آج کے دور میں خودکشی کی خبریں سن کر دل لرز جاتا ہے۔ تھوڑی سی پریشانی، قرض، رشتوں کی ناچاقی یا امتحان میں ناکامی پر لوگ اپنی جان لے لیتے ہیں۔ لیکن کیا موت مسئلے کا حل ہے۔ ہرگز نہیں۔

1۔ دینی پہلو
اسلام میں خودکشی حرام ہے۔ یہ اللہ کی دی ہوئی امانت میں خیانت ہے۔
اللہ تعالی فرماتے ہیں
اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو۔ سورہ النساء آیت 29
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے خود کو کسی چیز سے قتل کیا، قیامت کے دن اسی سے عذاب دیا جائے گا۔ بخاری
یاد رکھیں، آزمائش ایمان کا حصہ ہے۔ ہر تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔

2۔ اخلاقی پہلو
خودکشی کمزوری، بے صبری اور مایوسی کی علامت ہے۔ ایک بہادر انسان مشکلات کا مقابلہ کرتا ہے، بھاگتا نہیں۔
اپنی جان لینا اپنے والدین، بیوی بچوں اور دوستوں کے ساتھ سب سے بڑی بے وفائی ہے۔ یہ مسئلہ حل نہیں کرتا، بلکہ 10 اور لوگوں کے لیے مسئلہ چھوڑ جاتا ہے۔

3۔ جذباتی پہلو
ڈپریشن، اکیلا پن، ناکامی کا خوف، رشتوں کا ٹوٹنا یہ سب دل پر بوجھ بن جاتے ہیں۔ اس وقت شیطان سب سے زیادہ بہکاتا ہے کہ بس اب ختم کر دو۔
لیکن یہ وقتی احساس ہے۔ آج جو درد ہے، کل اللہ اس کا مداوا کر دے گا۔ آنسو کے بعد سکون آتا ہے۔ رات کے بعد صبح ہوتی ہے۔

4۔ معاشرتی پہلو
ہمارے معاشرے میں 3 چیزیں خودکشی کو بڑھا رہی ہیں۔
1۔ مقابلے کی دوڑ۔ فلاں کے پاس یہ ہے میرے پاس کیوں نہیں
2۔ طعن و تشنیع۔ ناکام کو باتیں سنانا، رشتے نہ ملنے پر عیب لگانا
3۔ مدد نہ کرنا۔ جب کوئی پریشان ہو تو اسے اکیلا چھوڑ دینا

5۔ سماجی پہلو
ایک خودکشی پورے خاندان کو توڑ دیتی ہے۔ والدین بوڑھاپے میں سہارا کھو دیتے ہیں۔ بچے یتیم ہو جاتے ہیں۔ قرض اور ذمہ داری دوسروں پر آ جاتی ہے۔
سماج کا فرض ہے کہ ہم ایک دوسرے کے غم گسار بنیں۔ مدارس، مساجد اور تنظیمیں کاؤنسلنگ کا نظام بنائیں۔

حل کیا ہے۔ 4 قدم
1۔ اللہ سے بات کریں۔ سجدے میں رو لیں۔ وہ سب سے بہتر سننے والا ہے
2۔ کسی سے بات کریں۔ والدین، دوست، عالم یا قریبی۔ دل کا بوجھ ہلکا کریں
3۔ صبر کریں۔ یہ وقت بھی گزر جائے گا ان شاءاللہ
4۔ مصروف ہوں۔ نماز، ورزش، تلاوت، کسی کی خدمت۔ خالی دماغ شیطان کا گھر ہے

یاد رکھیں
ہر مشکل کا حل ہوتا ہے
آج نہیں تو کل ہوتا ہے
ہر گز خودکشی نا کرنا
خودکشی بزدلی کا حل ہوتا ہے

آپ کی جان قیمتی ہے
پیارے بھائی، بہن
آپ کو لگتا ہے آپ بے کار ہیں۔ نہیں۔
آپ کی ایک مسکراہٹ سے ماں کا دل ٹھنڈا ہوتا ہے۔
آپ کے ایک لفظ سے باپ کو سہارا ملتا ہے۔
آپ کے ہونے سے کسی کا گھر مکمل ہے۔
آپ اللہ کی بنائی ہوئی بہترین تخلیق ہیں۔

آپ ہمت اور حوصلے سے کام لیں۔ یہ مشکل کا وقت ہے، ہمیشہ نہیں رہے گا۔
اللہ پر مکمل بھروسہ رکھیں۔ وہ آپ کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا۔

اللہ تعالی فرماتے ہیں
اور جو شخص اللہ پر بھروسہ کرے تو وہ اس کے لیے کافی ہے۔ سورہ الطلاق آیت 3

آپ کی زندگی صرف آپ کی نہیں، یہ کئی دلوں کی دھڑکن ہے۔ خدارا اسے ضائع مت کریں۔ یہ اندھیرا بھی چھٹ جائے گا۔ ان شاءاللہ

اہم پیغام
آپ سمجھ رہے ہیں کہ خودکشی کر کے سب کو سکون مل جائے گا۔ نہیں
آپ کی زندگی آپ کے گھر والوں کے لیے بہت قیمتی ہے۔ آپ کے بغیر وہ ٹوٹ جائیں گے۔

اللہ ہم سب کو مایوسی سے بچائے اور صبر کی توفیق دے۔ آمین

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔