چارجر کا غلام - انشائیہ۔ ازقلم : مصباح صدف سید مبین - (مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی ٹیچر ایجوکیشن اورنگ آباد)
چارجر کا غلام - انشائیہ۔
ازقلم مصباح صدف سید مبین -
(مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی ٹیچر ایجوکیشن اورنگ آباد)
اگر ایک دن اچانک موبائل فون کو حکومت مل جائے، تو یقین مانیں انسانوں کی زندگی کا نقشہ ہی بدل جائے۔
صبح آنکھ کھلتے ہی موبائل اعلان کرے:
“پیارے انسانو! آج آپ کی بیٹری صرف 12٪ ہے، اس لیے فضول لوگوں سے بات کرنا منع ہے۔”
اس کے بعد ہر انسان چارجر لے کر ایسے گھومے جیسے پرانے زمانے میں لوگ تلوار لے کر گھومتے تھے۔ اسکولوں میں بچے کتابیں نہیں، پاور بینک مانگتے۔ اور سب سے زیادہ عزت اُس انسان کی ہوتی جس کے پاس “فاسٹ چارجر” ہوتا۔
گھر میں امی پہلے پوچھتیں:
“کھانا کھایا؟”
اب پوچھتیں:
“بیٹا! فون چارج کیا؟”
اور اگر کسی کا فون 1٪ پر آ جائے تو پورا خاندان ایسے گھبرا جائے جیسے گھر میں کوئی ایمرجنسی ہو گئی ہو۔
سب سے خطرناک سزا یہ ہوتی کہ موبائل ناراض ہو کر خود ہی Wi-Fi کا پاسورڈ بدل دے۔ انسان فوراً سدھر جائیں۔ کچھ لوگ تو صرف اس ڈر سے وقت پر نہانا شروع کر دیں کہ کہیں فون Face ID سے پہچاننا بند نہ کر دے۔
ایک دن شاید ایسا بھی آئے جب انسان ایک دوسرے سے نہیں، بلکہ چارجر سے محبت کرنے لگیں۔ شادیوں میں جہیز کے بجائے “256GB storage” مانگی جائے۔ اور رشتے والے کہیں:
“لڑکا تو ٹھیک ہے… مگر RAM تھوڑی کم ہے۔”
لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ ہم ہنس تو رہے ہیں، مگر آدھی بات سچ بھی لگ رہی ہے۔ کیونکہ آج انسان صبح اٹھتے ہی سب سے پہلے سورج نہیں، موبائل دیکھتا ہے۔ کچھ لوگ تو اتنے فون میں گم ہو چکے ہیں کہ اگر سامنے سے قیامت بھی آ جائے تو پہلے اُس کی ریل بنا دیں گے۔
شاید مستقبل میں انسان مریخ پر پہنچ جائے… مگر تب بھی پوچھے گا:
"بھائی وہاں Wi-Fi چلتا ہے کیا؟"
مصباح صدف سید مبین
(مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی ٹیچر ایجوکیشن اورنگ آباد)
Comments
Post a Comment