اقبال فہمی - (قسط دوم) - ہمالہ تجلیِ الٰہی، بصیرتِ انسانی اور عظمتِ فطرت ہے - ازقلم : ابرارالحق مظہرؔ حسناتی۔
اقبال فہمی -
(قسط دوم) -
ہمالہ تجلیِ الٰہی، بصیرتِ انسانی اور عظمتِ فطرت ہے -
ازقلم : ابرارالحق مظہرؔ حسناتی۔
علامہ محمد اقبال کی نظم ہمالہ کے اس حصے میں قاری محض ایک بلند پہاڑ کو نہیں دیکھتا بلکہ فطرت کے ایک ایسے عظیم مظہر کے سامنے کھڑا ہوتا ہے جو اسے معرفتِ الٰہی اور حقیقتِ کائنات کی طرف لے جاتا ہے۔ اقبال کے نزدیک فطرت کی عظمت اس کے ظاہری حسن میں نہیں بلکہ اس حقیقت میں ہے کہ وہ اپنے خالق کی قدرت اور حکمت کی خاموش گواہی دیتی ہے۔ اسی لیے ان کے ہاں پہاڑ دریا صحرا ستارے اور آسمان محض قدرتی مناظر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں جو انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتی ہیں۔ نظم ہمالہ کا یہ حصہ اسی قرآنی حقیقت کی ترجمانی کرتا ہے کہ کائنات کی ہر چیز اہلِ بصیرت کے لیے معرفت کا دروازہ ہے۔
اقبال فرماتے ہیں
ایک جلوہ تھا کلیمِ طورِ سینا کے لیے
تو تجلی ہے سراپا چشمِ بینا کے لیے
اس شعر میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعۂ طور کی طرف نہایت لطیف اشارہ ہے۔ قرآن کے مطابق کوہِ طور پر اللہ تعالیٰ کی تجلی ایک خاص وقت اور ایک خاص مقام پر ظاہر ہوئی۔ اقبال اسی واقعے سے یہ حقیقت سمجھاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں کسی ایک مقام تک محدود نہیں بلکہ پوری کائنات میں پھیلی ہوئی ہیں۔ ہمالہ بھی انہی عظیم نشانیوں میں سے ایک ہے۔
یہاں تجلی سے مراد ہرگز حلول یا اتحاد نہیں۔ اقبال کی فکر سراسر قرآن سے وابستہ ہے۔ پہاڑ خود مقصود نہیں بلکہ اپنے خالق کی قدرت کی نشانی ہے۔ حسنِ فطرت خود منزل نہیں بلکہ خالقِ فطرت کی معرفت تک پہنچنے کا وسیلہ ہے۔ یہی وہ فرق ہے جو اقبال کی فکر کو ان تعبیرات سے الگ کرتا ہے جو مظاہرِ کائنات ہی کو حقیقت سمجھنے لگتی ہیں۔
اسی لیے اقبال چشمِ بینا کا ذکر کرتے ہیں۔ یہ ظاہری آنکھ نہیں بلکہ وہ بصیرت ہے جو ایمان تدبر اور تزکیۂ نفس سے پیدا ہوتی ہے۔ ایسی نگاہ جب پہاڑ کو دیکھتی ہے تو صرف چٹانیں نہیں دیکھتی بلکہ ان کے پیچھے اللہ تعالیٰ کی حکمت اور قدرت کا جلوہ محسوس کرتی ہے۔ یہی وہ نگاہ ہے جس کی طرف قرآن بار بار توجہ دلاتا ہے تاکہ انسان مخلوق سے خالق تک پہنچ سکے۔
پھر شاعر فرماتے ہیں
امتحانِ دیدۂ ظاہر میں کوہستاں ہے تو
پاسباں اپنا ہے تو دیوارِ ہندستاں ہے تو
یہ شعر اقبال کی پوری فکر کا خلاصہ ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ظاہری نگاہ ہمالہ کو صرف ایک پہاڑی سلسلہ سمجھتی ہے لیکن بصیرت رکھنے والا انسان اسی پہاڑ میں استقامت حفاظت اور خاموش خدمت کا سبق پڑھتا ہے۔ ایک ہی منظر دو نگاہوں کے سامنے دو الگ حقیقتیں بن جاتا ہے۔ ایک صرف مادہ دیکھتی ہے اور دوسری معنی تک پہنچ جاتی ہے۔
یہاں اقبال علم اور معرفت کے فرق کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں۔ معلومات انسان کو اشیا سے روشناس کراتی ہیں لیکن بصیرت ان کے مقصد کو سمجھاتی ہے۔ اسی لیے اقبال عقل کے مخالف نہیں بلکہ ایسی عقل کے مخالف ہیں جو وحی اور ایمان سے بے نیاز ہو جائے۔ ایمان کی روشنی میں عقل حقیقت تک پہنچتی ہے اور اس روشنی کے بغیر صرف ظاہری دنیا میں بھٹکتی رہتی ہے۔
اس کے بعد اقبال فرماتے ہیں
مطلعِ اوّلِ فلک جس کا ہو وہ دیواں ہے تو
سوئے خلوت گاہِ دل دامن کشِ انساں ہے تو
یہ شعر اقبال کے جمالیاتی اور روحانی شعور کی نہایت خوب صورت تعبیر ہے۔ ہمالہ اپنی بلندی کے باعث گویا آسمان کے طلوع کا پہلا منظر بن جاتا ہے لیکن اقبال کی نگاہ صرف جسمانی رفعت پر نہیں ٹھہرتی۔ وہ اس بلندی کو روحانی رفعت کی علامت بنا دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک انسان کی اصل بلندی دولت یا اقتدار میں نہیں بلکہ ایمان کردار اور تعلقِ الٰہی میں ہے۔ جس طرح ہمالہ زمین پر قائم رہ کر آسمان کی طرف بلند ہوتا ہے اسی طرح مومن بھی دنیا میں رہتے ہوئے اپنے اخلاق اور بندگی کے ذریعے رفعت حاصل کرتا ہے۔
دوسرے مصرعے میں اقبال کہتے ہیں کہ ہمالہ انسان کو اس کے دل کی خلوت گاہ کی طرف کھینچتا ہے۔ مطلب یہ نہیں کہ انسان دنیا چھوڑ دے بلکہ یہ کہ فطرت کا صحیح مشاہدہ اسے اپنے باطن سے آشنا کر دیتا ہے۔ جب انسان کائنات کی خاموش زبان کو سمجھنے لگتا ہے تو اپنے دل کی آواز بھی سن لیتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سے خود شناسی اور خدا شناسی کا سفر شروع ہوتا ہے۔ اسی لیے اقبال کے نزدیک فطرت تفریح کا سامان نہیں بلکہ تربیتِ نفس کا مدرسہ ہے۔
اس پورے حصے میں اقبال ایک بنیادی حقیقت واضح کرتے ہیں کہ جو انسان کائنات کو صرف مادی نگاہ سے دیکھتا ہے وہ حقیقت کا صرف ایک رخ دیکھ پاتا ہے لیکن جس کے دل میں قرآنی بصیرت پیدا ہو جائے اس کے لیے ہر پہاڑ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا نشان بن جاتا ہے ہر ستارہ رہنمائی کا چراغ بن جاتا ہے اور پوری کائنات معرفتِ الٰہی کی ایک کھلی ہوئی کتاب بن جاتی ہے۔ یہی زاویۂ نظر اقبال کی شاعری کو محض ادب سے بلند کرکے ایک زندہ قرآنی فکر اور بیدار اسلامی شعور کی ترجمان بنا دیتا ہے۔
Comments
Post a Comment