حضرت سید تاج الدین شیرِ سوارؒ المعروف حضرت راجہ باگ سوارؒ کے ماہانہ فاتحہ میں عقیدت مندوں کی کثیرتعداد نے کی شرکت، لنگرِ شیرِ سوارؒ کا اہتمام۔
بیدر، 8 جولائی (نامہ نگار) ضلع بیدر کے تاریخی، روحانی اور مرجعِ خلائق مرکز بارگاہ حضرت سید تاج الدین شیرِ سوارؒ المعروف حضرت راجہ باگ سوارؒ، بسواکلیان میں حسبِ روایت ہر ماہ کی طرح نمازِ مغرب کے بعد ماہانہ فاتحہ کی روح پرور محفل نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد ہوئی۔ اس بابرکت محفل کی سرپرستی و صدارت پیرِ طریقت حضرت مولانا خواجہ شاہ ضیاء الحسن جاگیردارصاحب قبلہ، سجادہ نشین و متولی درگاہ حضرت سید تاج الدین شیرِ سوارؒ المعروف حضرت راجہ باگ سوارؒ نے فرمائی۔
اس روحانی محفل میں بسواکلیان، بیدر، اوراد، چٹگوپہ، ہمناآباد، بھالکی، کلبرگی، حیدرآباد، ظہیرآباد، یادگیر اور دیگر مقامات سے علماء کرام، مشائخِ عظام، حفاظِ کرام، معززینِ شہر، مریدین، وابستگانِ درگاہ اور عاشقانِ اولیائے کرام کی کثیر تعداد نے شرکت کرتے ہوئے روحانی فیوض و برکات حاصل کیے۔
محفل کا آغاز جناب محمد مصباح الحسن جاگیردار، جانشینِ سجادہ درگاہ حضرت ممدوحؒ کی پُرسوز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ بعد ازاں نعتِ رسولِ مقبول ﷺ، منقبت، ذکرِ الٰہی، درود و سلام اور فاتحہ خوانی کا اہتمام کیا گیا۔ حضرت سید تاج الدین شیرِ سوارؒ المعروف حضرت راجہ باگ سوارؒ، مشائخِ سلسلہ اور تمام مرحومین کے ایصالِ ثواب کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔
اس موقع پر اپنے صدارتی خطاب میں پیرِ طریقت حضرت مولانا خواجہ شاہ ضیاء الحسن جاگیردار نے فرمایا کہ اولیائے کرام کی تعلیمات محبت، اخلاص، خدمتِ خلق، تقویٰ اور اتباعِ سنتِ نبوی ﷺ کا حسین نمونہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خانقاہیں ہمیشہ انسانیت کی اصلاح، بھائی چارے، امن و آشتی اور دینی اقدار کے فروغ کا مرکز رہی ہیں۔ حضرت سید تاج الدین شیرِ سوارؒ المعروف حضرت راجہ باگ سوارؒ کی تعلیمات آج بھی انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہیں، جن پر عمل کرکے معاشرے میں محبت، اتحاد اور باہمی احترام کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔
انہوں نے حاضرین کو نمازوں کی پابندی، قرآنِ مجید سے مضبوط تعلق، والدین کی خدمت، حسنِ اخلاق، صلۂ رحمی اور بزرگانِ دین کی تعلیمات کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنانے کی تلقین کی۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ نوجوان نسل دینی، اخلاقی اور روحانی اقدار سے وابستہ ہوکر معاشرے کی مثبت تعمیر میں اپنا کردار ادا کرے۔
بعد ازاں ملک و ملت کی سلامتی، امن و امان، عالمِ اسلام کے اتحاد، امتِ مسلمہ کی سربلندی، بارانِ رحمت، کسانوں کی خوشحالی، بیماروں کی شفائے کاملہ، مرحومین کی مغفرت اور انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے رقت آمیز اجتماعی دعا کی گئی، جس میں حاضرین نے نہایت خشوع و خضوع کے ساتھ آمین کہی۔
محفل کے اختتام پر درگاہ شریف کی قدیم روایت کے مطابق لنگرِ شیرِ سوارؒ کا وسیع پیمانے پر اہتمام کیا گیا۔ حاضرین، زائرین، مریدین، مہمانوں اور عقیدت مندوں نے لنگر سے فیض حاصل کیا۔ لنگر کی تقسیم نہایت منظم انداز میں انجام دی گئی، جسے حاضرین نے سراہتے ہوئے درگاہ کی دینی، روحانی اور رفاہی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
آخر میں زائرین نے درگاہ شریف پر حاضری دے کر گل ہائے عقیدت پیش کیے، فاتحہ خوانی کی اور اپنی دینی و دنیاوی کامیابی، ملک و ملت کی ترقی، عالمِ اسلام کے استحکام اور امنِ عالم کے لیے خصوصی دعائیں مانگیں۔ محفل روحانی کیفیت اور عقیدت کے دلنشیں مناظر کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔
Comments
Post a Comment