اولیائے کرام کی تعلیمات قرآن و سنت کا عملی نمونہ ہیں: سید شاہ سیف اللہ قادری کا خطاب
بیدر، 19 جولائی (نامہ نگار)حضرت سید پیر پاشاہ قادری رحمۃ اللہ علیہ مناکھیلی کے 22ویں سالانہ صندل شریف کے موقع پر منعقدہ جلسۂ عظمتِ اولیاء نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد ہوا، جس میں علماء، مشائخ، سجادگان، حفاظ،اور عقیدت مندوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔
اس موقع پر مولانا سید شاہ سیف اللہ قادری بخاری، سجادہ نشین درگاہ حضرت سید پیر پاشاہ قادری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ اولیائے کرام کی تعلیمات قرآن و سنت کا عملی نمونہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اولیائے کرام نے اپنی زندگیاں دینِ اسلام کی اشاعت، محبتِ رسول اکرم ﷺ، اصلاحِ معاشرہ، ذکرِ الٰہی اور خدمتِ خلق کے لیے وقف کر دیں۔ اللہ تعالیٰ کی رضا اور قرب حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنی زندگی کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالے اور اولیائے کرام کی حقیقی تعلیمات پر عمل کرے۔ انہوں نے کہا کہ اولیائے کرام نے ہمیشہ امت میں محبت، اخوت، رواداری اور اتحاد کا پیغام عام کیا۔
مولانا حافظ سید اکبر علی صوفی محمد پاشاہ قادری،کامل جامعہ نظامیہ حیدرآباد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ اپنے مقرب بندوں کو نورِ فراست عطا فرماتا ہے، جس کے ذریعے وہ حق و باطل میں امتیاز کرتے ہیں۔ انہوں نے حدیث مبارکہ کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ اولیائے کرام کی فراست اللہ تعالیٰ کی عطا ہے۔ حضرت عبدالخالق غجدوانی رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر اکابر اولیائے کرام کے واقعات بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اللہ والے عبادت، تقویٰ، اخلاص اور اتباعِ سنت کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرتے ہیں اور ان کی صحبت دلوں کی اصلاح کا ذریعہ بنتی ہے۔
مولانا مفتی محمد فیاض الدین نظامی، صدر نائب قاضی بیدر نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ، حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت محبوبِ الٰہی حضرت نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ، حضرت نصیر الدین چراغِ دہلی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت بندہ نواز گیسو دراز رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر اولیائے کرام نے اپنا وطن، گھر بار اور آرام و آسائش کو چھوڑ کر دینِ اسلام، توحید اور عشقِ رسول ﷺ کا پیغام پورے برصغیر میں عام کیا۔ انہوں نے کہا کہ قرآنِ کریم میں متعدد مقامات پر اللہ تعالیٰ نے اپنے مقرب بندوں کے فضائل بیان فرمائے ہیں۔ اولیائے کرام سے محبت، ان کی تعلیمات پر عمل اور ان سے روحانی نسبت انسان کے ایمان کو مضبوط اور دل کو منور کرتی ہے۔ انہوں نے حضرت مالک بن دینار رحمۃ اللہ علیہ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مزار آج بھی مرجعِ خلائق ہے اور وہاں حاضری دینے والوں کو روحانی سکون نصیب ہوتا ہے۔ انہوں نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ اولیائے کرام کی حقیقی تعلیمات، قرآن و سنت کی پیروی اور محبتِ رسول ﷺ کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔
جلسہ کی سرپرستی حضرت سید شاہ جنید پاشاہ قادری فرزند حضرت سید شاہ ہدایت اللہ قادری، سجادہ نشین گلبرگہ نے فرمائی، جبکہ سید شاہ مخدوم قادری بخاری عرف فصیح اللہ قادری اور محمد یوسف علی جمعدار، صدر مسجد فخریہ نے نگرانی کے فرائض انجام دیے۔ اس موقع پر سید فصیح اللہ حسینی عرف سید سجاد صاحب، سید شاہ علم الدین قادری، جانشین سجادہ نشین درگاہ حضرت سید حمید اللہ قادری منگلگی اور دیگر معزز شخصیات نے مہمانانِ خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی۔حافظ محمد صدیق کمٹھانہ،سید اسد نے قراءت،حمد،نعت رسول،اور منقیبت پیش کی.محمد عبدالصمد منجووالا نے نظامت کے فرائض انجام دئے.
صدر استقبالیہ سید کاظم پاشاہ قادری اور سید مرتضیٰ قادری نے مہمانانِ کرام کی شال پوشی اور گل پوشی کی اور انتظامات میں حصہ لیا۔ بعد ازاں مولانا سید شاہ سیف اللہ قادری بخاری نے صندل مالی کی تمام رسومات ادا کیں۔ اس کے بعد معروف قوال محمد غفار قوال، بیدر نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ حمد، نعت، منقبت اور صوفیانہ کلام پیش کیا۔ آخر میں ملک و ملت کی سلامتی، عالمِ اسلام کے اتحاد اور امتِ مسلمہ کی فلاح و بہبود کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔
Comments
Post a Comment